Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / گورکھپور ہاسپٹل میں بچوں کی موت کا سانحہ

گورکھپور ہاسپٹل میں بچوں کی موت کا سانحہ

حکومت یو پی کو ہائیکورٹ کی نوٹس ، آئی ایم اے کا حکومت پر لاپرواہی کا الزام
الہ آباد / نئی دہلی ۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائیکورٹ نے آج حکومت یو پی سے درخواست مفاد عامہ کی درخواست پر سرکاری ہاسپٹل میں بچوں کی اموات پر جواب طلب کیا گیا ہے نوٹس جاری کردی ۔ چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت سے درخواست مفاد عامہ پر جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی خواہش کی ہے اور مقدمہ کی آئندہ سماعت /29 اگست کو مقرر کردی ہے ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب انڈین میڈیکل اسوسی ایشن (آئی ایم اے) کی ایک تین رکنی ٹیم نے آج یو پی کا دورہ کیا اور بی آر ڈی ہاسپٹل گورکھپور میں بچوں کی ہلاکت پر ریاستی انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا ۔ اس نے کہا کہ آکسیجن کی قلت کے بارے میں کوئی چوکسی اعلان جاری نہیں کیا گیا تھا ۔ علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو 7 دن قبل خبردار کیا جانا چاہئیے تھا کہ آکسیجن کی سربراہی نہیں ہورہی ہے ۔ اس وقت کے پرنسپال میڈیکل کالج راجیو مشرا اور انچارج خلیل خان پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا گیا ۔ حالانکہ اس بات کا کوئی ثبوت راجیو مشرا اور خلیل خان کے خلاف موجود نہیں ہے کہ طبی لاپرواہی برتی گئی تھی لیکن بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی کا ایک مقدمہ کا امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ چنانچہ انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات اور کارروائی ان کے خلاف شروع کی جانی چاہئیے ۔ آئی ایم اے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آکسیجن کی سربراہی صرف مختصر وقت کیلئے روکی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT