Friday , November 24 2017
Home / مضامین / گوری لنکیش: اختلافِ رائے بھی جان لیوا ہوجائیگا!

گوری لنکیش: اختلافِ رائے بھی جان لیوا ہوجائیگا!

 

تیتاش سین
قارئین کرام! سینئر جرنلسٹ گوری لنکیش کو حال ہی میں دو بی جے پی ارکان کو بدنام کرنے کی خاطی قرار دیا گیا تھا اور وہ مانتی تھیں کہ اُن کی اشاعت کو اُن کی سیاست کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے 11 ڈسمبر 2016ء کو ’دی وائر‘ کو انٹرویو دیا تھا، جسے گوری لنکیش کے قتل کی روشنی میں دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔
سب سے پہلے 28 نومبر کے ایک عدالتی فیصلہ پر نظر ڈالتے ہیں۔ کرناٹک کے ہبلی میں ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے گوری لنکیش کو ہتک عزت کی مرتکب قرار دیا۔ وہ ’گوری لنکیش پتریکے‘ کی ایڈیٹر تھیں، اور اس میگزین کو ’’انتظامیہ دشمن‘‘ قرار دیا گیا۔ 2008ء میں گوری کی ایک اشاعت دھارواڑ کے بی جے پی ایم پی پرہلاد جوشی اور بی جے پی کے ہی اُومیش دوشی نے قابل اعتراض ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اُن کے خلاف ہتک عزت کا فوجداری کیس دائر کیا تھا۔ گوری کو جہاں عدالت نے چھ ماہ کی سزا سنائی اور جرمانہ لگایا، وہیں انھیں اسی روز ضمانت بھی حاصل ہوگئی اور انھوں نے سیشنس کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا ارادہ کیا۔گوری نے اس سے قبل ’نیو انڈین اکسپریس‘ کو بتایا تھا کہ ’’کئی لوگوں نے سوچا ، میں جیل چلی جاؤں گی‘‘ لیکن انھوں نے انھیں ’’مایوس‘‘ کردیا۔

اتفاق سے عدالت میں اومیش دوشی کی شکایت میں گوری کو ملزم نمبر دو نامزد کیا گیا، جبکہ ملزم نمبر ایک دیوانند جگپور رہے، جنھوں نے کہا جاتا ہے کہ وہ آرٹیکل لکھا تھا۔ پرہلاد جوشی کے کیس میں گوری واحد ملزمہ تھیں۔ جگپور کو عدالت نے بری کردیا کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوا کہ انھوں نے 2008ء میں وہ آرٹیکل اشاعت کیلئے دیا تھا، لیکن گوری کو خاطی پایا گیا کیونکہ اُن کی میگزین نے وہ آرٹیکل شائع کیا۔

گوری لنکیش نے عدالت کی جانب سے خاطی قرار دیئے جانے کے بعد کہا تھا کہ تحت کی عدالت نے اپنی تمام تر دانائی کے ساتھ انھیں ہتک عزت کی مرتکب پایا ہے، اور اس فیصلے کے جواز کو چیلنج کرنا وہ طے کرچکی ہیں۔ وہ عدالتی کارروائی سے بہت زیادہ پریشان نظر نہ آئیں لیکن تعجب ظاہر کیا کہ کس طرح اُن کے کیس کو بی جے پی اور اس کے حامیوں کی جانب سے استعمال کیا جارہا ہے۔ ’’میں نے غور نہیں کیا کہ یہ کچھ اتنا بڑا معاملہ ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ بی جے پی کا آئی ٹی سل اس معاملے کو دیگر جرنلسٹوں کو دھمکانے کیلئے بطور آلہ استعمال کررہا ہے۔‘‘
گوری اس تعلق سے فکرمند ہوئیں کہ اُن کی صورتحال سے ملک میں اظہار خیال کی آزادی کی حالت کا انداز ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ برسراقتدار نظریہ سے اختلاف کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور بطور عبرت پیش کیا جارہا ہے، جو خاص طور پر پریشان کن امر ہے۔گوری نے ان رجحانات کی بات کی جو ایم ایم کلبرگی کی موت کے بعد تیزی سے اُبھر رہے ہیں، جیسا کہ ایک بجرنگ دل کارکن بھویت شٹی نے کلبرگی کے قتل کو اپنے ٹوئٹ میں حق بجانب ٹھہراتے ہوئے کہا تھا: ’’ہندومت کا مضحکہ اُڑاؤ اور کتے کی موت مرو‘‘۔ شٹی کو گزشتہ سال ایک شخص (ہریش پجاری) کے قتل کی پاداش میں گرفتار کیا گیا، جو ظاہر طور پر اس لئے پیش آیا کہ اُس نے پجاری کو مسلم باور کیا تھا۔
گوری نے بی وی سیتارام کا بھی ذکر کیا، جنھیں ہتک عزت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ سیتارام نے ’دی ہندو‘ کو بتایا تھا کہ انھیں اپنی جان کا اندیشہ ہے اور ’’اگر مجھے منگلور جیل منتقل کیا جاتا ہے تو مجھے جیل کے اندرون بجرنگ دل عناصر نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘۔
گوری نے اپنے خلاف دائر کیس کے ضمن میں کہا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ مقدمہ دائر کرنے والے شخص کو ثابت کرنا ہوگا کہ اُس کی بدنامی ہوئی اور یہ کہ ’’عدالت کو آرٹیکل کی تنقیص کرنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔ شائع شدہ آرٹیکل پر جوشی کا اعتراض گوری کی رائے میں بے بنیاد رہا کیونکہ اس میں ایک جویلر کی بابت لکھا گیا جو انصاف کیلئے جوشی سے اس لئے رجوع ہوا تھا کہ اسے پارٹی ممبرز نے دھوکہ دے کر رقم وغیرہ ہتھیالی تھی۔ جوشی کی طرف سے مناسب مداخلت نہ ہونے پر جویلر نے پولیس سے رجوع ہوجانے کی دھمکی دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے، اس واقعہ میں الزام عائد ہوا کہ جوشی نے اپنے پارٹی ورکرز کو بچایا۔ لیکن کسی بھی طرح اس اشاعت نے جوشی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ درحقیقت، اس واقعہ کو کئی اشاعتوں نے شائع کیا، مگر نشانہ تو صرف اُن کی میگزین کو بنایا گیا۔ گوری کا استفسار رہا، ’’میں نے کس طرح انھیں بدنام کیا؟ اس کے بعد تو وہ الیکشن جیتے۔‘‘جہاں تک دوشی کا معاملہ ہے، گوری نے کہا کہ اُن کے خلاف کئی مقدمات معرض التوا ہیں؛ اس لئے خاص کر اُن کی میگزین کو اُن کی ساکھ کو شاید کچھ بگاڑ پائے کیونکہ نقصان تو پہلے ہی ہوچکا ہے۔
گوری کا خیال رہا کہ جس طرح نت نئے طریقوں سے اظہار خیال کو دبایا اور کچلا جارہا ہے، سنگین دور آنے والا ہے۔ وہ کہتی تھیں لفظ ’غداری‘ کو آج کل جب من چاہا استعمال کیا جارہا ہے، جو ناراضگی یا حتیٰ کہ عدم اتفاق کی خاموش آوازوں پر برسراقتدار سسٹم کے حامیوں کی جانب سے قانون کے بے جا استعمال کی نشاندہی تھا!

TOPPOPULARRECENT