Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / گوری لنکیش قتل کیس : 2 مشتبہ افراد کے تصویری خاکے جاری

گوری لنکیش قتل کیس : 2 مشتبہ افراد کے تصویری خاکے جاری

دو حملہ آوروں کے جرم سے قبل خاتون صحافی کے گھر کے قریب قیام کی تحقیقات
بنگلورو۔ 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بنگلور میں خاتون جرنلسٹ گوری لنکیش کے قتل کی تفتیش کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے آج دو مشتبہ افراد کے خاکے اور سی سی ٹی وی کیمروں سے دستیاب فوٹیج جاری کئے اور خاطیوں کو پکڑنے عوام سے تعاون طلب کیا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے کہا کہ گواہوں سے جمع تفصیلات کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کے تین تصویری خاکے تیار کئے گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ گوری لنکیش کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے ان کے گھر کے قریب قیام پذیر تھے۔ ایس آئی ٹی سربراہ بی کے سنگھ نے میڈیا سے کہا کہ ’صرف دو مشتبہ افراد ہیں لیکن دو گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر ہم تین تصویری خاکے تیار کئے ہیں۔ ایک مشتبہ شخص کی دو تصاویر جاری کی گئی ہیں کیونکہ دو پیشہ ور تصاویر بنائے ہیں‘۔ ویڈیو فوٹیج میں بتایا گیا کہ ایک شخص بظاہر اپنی شناخت چھپانے ایسی موٹر سائیکل چلا رہا تھا جس پر رجسٹریشن نمبر نہیں تھا۔ بی کے سنگھ نے کہا کہ مشتبہ افراد کا پتہ چلانے انکے تصویری خاکے جاری کئے گئے ہیں اور عوام سے خواہش کی گئی کہ وہ کچھ جانتے ہیں تو حکام کو اطلاع دیں۔ عہدیدار نے کہا کہ ان سے موبائیل 9480800202 اسکے علاوہ 9480800304، 9480801701 کے ذریعہ واٹس ایپ پر تفصیلات پہونچائی جاسکتی ہیں۔ ای۔میل [email protected] پر بھی معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ایس آئی ٹی کے سربراہ نے کہا کہ معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت راز میں رکھی جائیگی۔

علاوہ ازیں ریاستی حکومت کی طرف سے اہم معلومات فراہم کرنے والے شخص کو مناسب انعام دیا جائے گا۔ گوری لنکیش کے 5 ستمبر کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کے دوسرے دن پولیس بی کے سنگھ کی قیادت میں 21 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ کرناٹک حکومت نے گوری لنکیش کے قاتلوں کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کو 10 لاکھ روپئے انعام کا اعلان کیا تھا۔ بی کے سنگھ نے کہا کہ 25 اور 35 سال کی درمیانی عمر کے دو مشتبہ افراد اس خاتون جرنلسٹ کے گھر پر کم از کم 7 دن تک خفیہ نظر رکھے تھے اور انہوں نے جرم کے ارتکاب سے قبل کئی دن تک بنگلور میں قیام کیا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ سینئر صحیفہ نگار کو ہلاک کرنے حملہ آوروں نے 7.65 ایم ایم کی دیسی ساختہ پستول کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’لنکیش کی ہلاکت میں ہم پیشہ ورانہ رقابت کے امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر کوئی بھی جرنلسٹ اس میں ملوث نہیں ہے۔ دیگر تمام زاویوں پر تحقیقات جاری ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT