Thursday , May 24 2018
Home / Top Stories / گوری لنکیش قتل ۔ہندو تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری‘ پولیس کا خلاصہ

گوری لنکیش قتل ۔ہندو تنظیم کے سربراہ کی گرفتاری‘ پولیس کا خلاصہ

غیرقانونی طور پر ہتھیار کھنے کی پختہ جانکاری پر فبروری 18کو بنگلور سے کے ٹی نوین کما رکو گرفتار عمل میں آنے کے بعد اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے گوری لنکیش کے قتل کے ضمن میں اس سے تفتیش کی
بنگلورو۔پچھلے سال ستمبر 5کے روز ممتاز صحافی اور سماجی جہدکار55سالہ گوری لنکیش کو ان کے گھر کے باہر قتل کرنے کے بعد دائیں بازو تنظیم ہندو یوا سینا کے بانی وکارکن کے ٹی نوین کمار اچانک روپوش ہوگیا تھا۔ بنگلور شہر سے 80کیلومیٹر کے فیصلے پر جب وہ 2017میں دوبارہ جنوبی کرناٹک کے مددور میں اپنے آبائی مقام پر دوبارہ دیکھائی دیا تو اس کے ایک قریبی دوست نے نوین کمار سے اس کے روپوش ہونے کے وجوہات دریافت کئے تو 37سالہ نوین کمار نے بتایا کہ وہ گوری لنکیش کے قتل کی وجہہ سے روپوش ہوگیاتھا۔ فبروری 18کے روز کمار کو فبروری 18کے روز غیرقانونی ہتھیار .32اور7.55ایم ایم کے کارتوس رکھنے کے جرم میں گرفتار کیاتھا اور اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے گوری لنکیش کے قتل میں غیرقانونی ہتھیاروں کے استعمال کی جانکاری پر نوین کمار سے تفتیش کی ۔کمار نے رضاکارانہ طور پر گوری لنکیش کے قتل کے ضمن میں پولیس کو ایک بیان دیا ہے۔

اس بیان کی بنیاد اور ایس ائی ٹی کی جانب فراہم کردہ حقائق کی بنائر بنگلور میں ایک مجسٹریٹ کورٹ نے جمعہ کے روز کمار کو اٹھ روزہ ریمانڈ میں ایس ائی ٹی کے حوالے کردیا۔ اکٹوبر 4سال 2017کو ایس ائی ٹی نے کمار سے مشابہت والا ایک شخص کا سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کیا جو گوری لنکیش کے قتل کے روز ان کے گھر کے اطراف واکنا ف میں گردش کرتا ہوادیکھا گیا تھا ۔

اپنی روپوشی کے دوران وہ بنگلور سے 250کیلومیٹر کی مسافت پر واقعہ چکمنگلو کے بیرور میں اپنی بیوی کے گھر میں رہ رہا تھا۔تحقیقات سے یہ بات سامنے ائی ہے کہ کمار نے اپنے ایک دوست دائیں بازو ہندوتوا کے کارکن کو اپنے آبائی ٹاون مدور مدعو کیاتاکہ وہ بیرور میں قیام کے دوران ان کے ساتھ رہے۔

جب دوست اس کے پاس پہنچا تو کمار نے بندوق کی گولیوں سے بھرا ایک باکس نکالا جس کو چھپاکر رکھاتھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب دوست نے اس سے پوچھا کہ وہ گولیاں اپنے ساتھ کیوں رکھے ہوئے ہی تو کمار نے دوست کو بتایا کہ گوری لنکیش کے قتل کے پیش نظر اور ایک بڑی شخص کا قتل کرنا پڑسکتا ہے اس لئے گولیاں ساتھ رکھاہوں۔کمار کے تین سے زیادہ قریبی دوستوں نے اس بات کااشارہ دیاہے کہ اس نے گوری لنکیش کے قتل میں ملوث ہونے کی ان سے بات کہی ہے۔

مذکورہ نوین کمار جس کی عرفیت ہتوی مانجہ بھی ہے پر اس موٹر سیکل سوار ہونے کا شبہ ہے جو سی سی ٹی وی کیمروں میں قتل سے چارگھنٹے قبل گوری لنکیش کے گھر کے اطراف واکناف چکر کاٹتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔

جبکہ کمار زیرتحویل ہے تو ایس ائی ٹی گوری لنکیش کے گھر کے باہر ستمبر5سال2017کو پیش ائے واقعہ کو دوہرانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ سی سی ٹی وی کیمرہ کے امیج سے اس کاتقابل کیاجاسکے۔اور قتل میں کمار کے ملوث ہونے کے حقائق پر سے پردہ اٹھایاجاسکے۔ایس ائی ٹی اس بات کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ قتل کے روز گوری لنکیش شوٹنگ کرنے والا وہ شخص تو نہیں ہے جس نے قتل سے قبل ریکارڈنگ کی تھی۔

گوری کے قتل کے بعد ایس ائی ٹی نے جتنے بھی دائیں بازوگروپ کے شدت پسند کارکنوں سے پوچھ تاچھ کی ہے ان میں سب سے کمزور کڑی کمار ہے۔ بہت سارے شدت پسند گروپ ایس ائی ٹی کے راڈر میں اس وقت ائے جب فارنسک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ گوری لنکیش کے قتل میں 7.65ایم ایم کی گولی دیسی ساختہ بندوق کا استعمال کیاگیا ہے جبکہ اسی طرح کی بندوق2015میں ایم ایم کلبورگی او رپنسارے کے قتل میں بھی استعمال ہوئی تھی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مگر کمار ان لوگوں میں سے ایک ہے جس نے اپنے محافظ کو چھوڑ دیا۔تحقیقات کرنے والے عہدداروں کا ماننا ہے کہ گوری لنکیش کے قتل کی سازش کا کمار محض ایک چھوٹا حصہ ہے‘ جس کو صحافی کے قتل کے لئے استعمال کیاگیا ہے۔

کمارسے پوچھ تاچھ میں جو باتیں تحقیقاتی عہدیداروں کے سامنے نکل کر ائی ہیں اس کے مطابق کرناٹک میں مقامی طریقہ کار کی کڑی جو ریاست بھر میں بدامنی پھیلانے کی غرض سے کی جارہی بڑے پیمانے کی سازش ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمار اور کچھ دوستوں نے اس کام کو انجام دینے کے لئے کرناٹک کے باہر لوگوں کا سہارا لے کر انہیں مددور او ربنگلور بلایا تھا۔پولیس کے مطابق کمار کے فون ریکارڈس سے اس رابطے کا انکشاف ہوا ہے جو مغربی ہند میں دائیں بازو تنظیمو ں کے ہیڈکوارٹرس ہیں وہا ں کے لوگو ں سے متواتر بات چیت ہوئی ہے۔ نوین کمار کی فیس بک پروفائل کے مطابق وہ ایک بزنس مین ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کچھ فینانس کا کاروبار کرتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمار ہندوراشٹرکے نظریہ کا حامل ہے۔سوشیل میڈیاپر ملی اس کی تصوئیروں سے یہ بات تو ثابت ہوتی ہے کہ کمار کو پستولوں کا بڑا شوق ہے۔ اس کے بہت سارے نوجوانوں دوستوں کا تعلق مدوور سے ہے او روہ ہندو جنا جاگرتی سمیتی سے ملحقہ سناتھن سنستھاسے جڑے ہوئے ہیں ۔

کمار نے مدوور میں ہندو یوا سینا کے ایک یونٹ کا قیام عمل میں لایا۔ اس کو بہت سارے نوجوان ’اننا‘ کہتے ہیں اور’ ہندویوا سینابس ‘کہہ کر بھی مخاطب کرتے ہیں۔مذکورہ ہندو یوا سینا کو پرمود متالیک کی شری راما سینا سے منظوری حاصل ہے۔

ہندویوا سینا اس وقت سرخیوں میں ائی تھی جب مارچ2005میں اس کے کارکنوں نے منگلور کے اندر ایک 65سالہ شخص حجابا اور ان کے بیٹے28سالہ حسن آبا کے ساتھ جانوروں کے ذبیحہ کے معاملے میں مارپیٹ کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT