Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / گوری لنکیش کاقتل جمہوریت میں آزادی اظہار خیال کاقتل

گوری لنکیش کاقتل جمہوریت میں آزادی اظہار خیال کاقتل

پرتاپ گڑھ ۔ 13 ستمبر ۔(سیاست ڈاٹ کام)سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر آصف صدیقی نے صحافی گوری لنکیش کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کو آزادی اظہار خیال کا قتل قرار دیا ۔آج ملک میں حقائق کی بنیاد پر صحافت کرنے والوں کی سلامتی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر صدیقی نے کہا کہ آج ملک میں تنقید اور آواز بلند کرنے والوں کو بندوق سے خاموش کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی حق کی آواز بلند کرنے کی کوشش نہ کرے ۔گوری لنکیش کا قتل بھی اسی طرح سے کیا گیا جس طرح سے پنسارے و دابھولکر قتل کئے گئے ۔اس سے یہ واضح ہے کہ جن شر پسند عناصر نے پنسارے و دابھولکر کا قتل کیا انہوں نے گوری لنکیش کا قتل کیا ہے ۔یہ قتل ایک صحافی ہی نہیں بلکہ سچ بیانی و آزادی حق گوئی کا قتل ہے جبکہ قتل کے بعد جس طریقے سے مقتول کو نازیبا ریمارکس سے نوازا گیا قابل مذمت ہے ، اس قتل کے انصاف و انکشاف کیلئے سیکولر تنظیموں کو آگے آنا چاہئے ۔ بڑے شرم کی بات ہے کہ ایک جانب تو ہمارے وزیر اعظم جو طلاق کے مسئلے پر مسلم خواتین پر ظلم کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں ۔لیکن انہوں نے مقتول صحافی کو گھناوُنے الفاظ سے نوازنے والے کی مذمت کرنے کی زحمت نہیں کی ۔ جبکہ برے سے برے انسان کو موت کے بعد اچھے الفاظ سے یاد کرنے کی روایت ہے ۔اسی معاشرے میں ایسی ذہنیت کے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اخلاقی پستی کی ساری حدیں پار کر دی ہے ۔جبکہ مقتول صحافی سیکولر نظریہ کو مقامی زبان و علاقائی زبان میں بیان کرتی تھی ۔یہ قتل پھر ایک مرتبہ نظریات کا قتل ہے جس کا وہ اظہار کرتی تھی۔ آج ہم انکے خیالات کو خاموش نہ ہونے دیں یہی انکے تئیں سچا خراج عقیدت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT