Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / گوری لنکیش کا قتل حق گو صحافیوں کیلئے خطرہ کی گھنٹی

گوری لنکیش کا قتل حق گو صحافیوں کیلئے خطرہ کی گھنٹی

Mumbai : Social activist Protest against Journalist Gauri Lankesh Murder shot at her home in Bengaluru at Amphitheater Bandra west .Photo by BL SONI

محمد ریاض احمد

سینئر صحافی، سماجی جہد کار، انسانی حقوق کی علمبردار اور فرقہ پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی گوری لنکیش کے سفاکانہ قتل پر سارے ملک کے انصاف پسندوں اور انسانیت نواز عوام میں برہمی کی لہر پھیل گئی ۔ اگرچہ ان کے قتل کو ایک ہفتہ گذرچکا ہے ملک کے کونے کونے میں احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ۔ گوری لنکیش کے قتل نے ایم ایم کلبرگی ، دابھولکر اور پنارہ جیسے عظیم مفکرین و جہدکاروں کے قتل کی المناک یادیں تازہ کردی ہیں۔ امن کے ان علمبرداروں کو بھی ہندوتوا کے غنڈوں نے موت کی نیند سلادیا تھا ۔ ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ مرکز میں جب سے آر ایس ایس کی ذیلی سیاسی تنظیم بی جے پی اقتدار میں آئی ہے فرقہ پرست نظریات سے اختلاف کرنے والوں کی زندگیوں کو خطرات پیدا ہوگئے ۔ توہم پرستی کے خلاف آواز اُٹھانے پر پونے میں نریندردابھولکر کے سینے میں گولیاں اُتار دی جاتی ہیں ۔
81 سالہ گوئند پنسارا معاشرہ کی برائیوں اور سیاسی و مذہبی قائدین کے مذہبی ڈھونگ پر اُنگلی اُٹھاتے ہیں تو ان کے جسم پر گولیوں کی بوچھار کر کے ان کی زبان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردی جاتی ہے۔ کرناٹک میں جب ممتاز اسکالر ایم ایم کلبرگی اپنی تحریروں کے ذریعہ ہندونواز فورس کی درندگی کو بے نقاب کرتے ہیں توان کی زندگی کو بھی بندوق کی گولیوں سے ختم کردیا جاتا ہے ۔ ایم ایم کلبرگی ، گوند پنسارے ، نریندردابھولکر اور گوری لنکیش کے قتل میں جو ہتھیار استعمال کئے گئے وہ ایک ہی طرح کے تھے اس کا مطلب یہ ہوا کہ گوری لنکیش کے قاتل بھی اسی ٹولی کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں جن کی ایماء پر مذکورہ تین معقولیت اور انصاف پسند شخصیتوں کو موت کی نیند سلایا گیا تھا ۔ انڈین جرنلسٹ یونین کے سکریٹری جنرل مسٹر ڈی امر نے ایک اچھی بات کہی کہ گوری لنکیش کے قاتلوں سے کہیں زیادہ وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو پردہ کے پیچھے رہ کر قتل و غارت گری کا یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ 55 سالہ گوری لنکیش نے کبھی بھی ہندوتوا غنڈوں کی پرواہ نہیں کی ۔ کانگریس یا بی جے پی حکومتوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ مسلمانوں پر مختلف بہانوں سے جب مودی حکومت میں اور مودی جی کی مجرمانہ خاموشی و غفلت کے دوران ظلم و جبر ہونے لگا انھوں نے آواز اُٹھائی اور سنگھ پریوار کے نظریات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہندوستان کیلئے ہندوتوا کے نظریہ کو خطرناک قرار دیا۔ گوری لنکیش ایک خاتون ہونے کے باوجود 56 انچ کا سینہ رکھنے والے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حامی فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹگئی تھیں اور اپنے غیرمعمولی عزم و حوصلہ و جرأت کے ذریعہ مودی جی اور قوم پرست ہونے کا دعویٰ کرنے والی تنظیموں اور جماعتوں کو یہ احساس دلایا تھاکہ صرف 56 انچ کاسینہ رکھنے سے کوئی انسان باہمت نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے ایک بڑے دل و جگر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور قدرت نے انھیں ایسا دل اور جگر عطا کیا ہے جس کے باعث ہی وہ مظلوم مسلمانوں ، ظلم و جبر کاشکار دلتوں ، حکومتوں کی ناانصافیوں اور حق تلفیوں سے متاثر قبائلیوں کی تائید میں حکومتوں اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں کے سامنے سینہ سپر ہوجاتی ہیں۔ گوری لنکیش کے جسم میں گولیاں داغنے والوں نے صرف 10منٹ کے فاصلہ سے گولیاں چلائی ۔ ان ظالموں کو یہ خیال بھی نہیں آیا کہ وہ کیا کررہے ہیں انھیں اندازہ نہیں کہ یہ ہندوستان ہے جہاں ایک گوری لنکیش کو قتل کرنے اور اس کی آواز دبانے پر سینکڑوں گوری لنکیش پیدا ہوجاتے ہیں جن کی آواز سارے ملک میں گونجنے لگتی ہیں۔ گوری لنکیش صرف کنڑی جریدہ لنکیش پتریکا کی ایڈیٹر ہی نہیں تھیں بلکہ ایک اچھی انسان بھی تھیں جو اپنے والد لنکیش کی طرح نانصافی حق تلفی جھوٹ اور استحصال کے سخت خلاف تھی ۔ اپنی موت سے قبل گوری لنکیش روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کشی اور میانمار حکومت، اس کی درندہ صفت فوج اور بدھسٹ دہشت گردوں کے انسانیت کو شرمسار کرنے والے مظالم پر شدید برہمی کا اظہار کررہی تھیں ۔ انھیں روہنگیائی مسلمانوں کی بے بسی پر عالمی برادری کی بے حسی پر بہت رنج تھا ۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہندوستانی حکومت ملک میں پناہ لئے ہوئے روہنگیائی مسلمانوں کو واپس برما ( مائنمار) بھیج دے کیونکہ یہ مسلمان اپنی جانیں اورعصمتیں بچاکر وہاں سے فرار ہوئے ہیں ۔انھیں پھر مقتل میں بھیجنا انسانیت دوستی نہیں بلکہ انسانیت سے دشمنی ہے ۔ واضح رہے کہ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ رجیجو نے روہنگیائی مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستان سے واپس بھیجنے کی حمایت کرتے ہوئے بڑی بے حسی کے ساتھ کہا تھا کہ ہم انھیں گولیاں نہیں ماررہے ہیں یا سمندر میں نہیں پھینک رہے ہیں بلکہ انھیں واپس مائنمار بھیجنے قانونی تقاضے پورے کررہے ہیں۔

جیسا کہ راقم الحروف نے کہا ہے کہ صرف 10منٹ کے فاصلے سے گوری لنکیش پر گولیاں چلائی گئیں ۔ ایک خاتون پر گولیاں چلاکر اسے قتل کرنے والے کیا مرد کہلانے کے قابل ہوسکتے ہیں؟ ہماری نظر میں گوری لنکیش کے قاتل اور انھیں اس آہنی عزم و حوصلہ کی حامل خاتون صحافی کے قتل پر اُکسانے والے کسی بھی طرح مرد تو دور انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔ اگر ان میں ہمت ہوتی تو وہ گوری کو گولی مارنے کی بجائے نظریاتی سطح پر ان کا مقابلہ کرتے ۔ ویسے بھی جن درندوں نے گوری لنکیش کاقتل کیا ان کی سوچ و فکر اور نظریہ اس قدر کمزور ہے کہ وہ اُسے ہندوستانی معاشرہ پر زبردستی تھونپنے کی خاطر زور زبردستی تشدد اور قتل و غارت گری کا سہارا لے رہی ہے ۔ لیکن ان بے وقوفوں کو اندازہ نہیں کہ ہندوستانی معاشرہ نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق اور سب سے بڑھکر انسانیت کو اہمیت دی ہے اور مٹھی بھر فرقہ پرستوں کی ظاہری کامیابیاں عارضی ہیں جو عنقریب منہ کے بل ایسے گریں گی کہ دوبارہ سر اُبھارنے کے قابل نہیں رہیں گی ۔ فرقہ پرستی کے ان خونخوار درندوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ انسانیت نواز سماجی جہدکاروں انسانی حقوق کے کارکنوں اور حق گو صحافیوں کو قتل تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی آواز نہیں دباسکتے۔ آج ہندوستان میں فرقہ پرست جو کچھ کررہے ہیں اس سے ساری دنیا میں ہمارے وطن عزیز کی بدنامی ہورہی ہے، ساری دنیا تک گاندھی جی کا پیام عدم تشدد پہنچانے والے اس ملک میں تشدد کا دور دورہ ہے۔ کہیں اخلاق کو موت کے گھات اُتارا جارہاہے تو کہیں چلتی ٹرین میں حافظ جنید کا قتل ہورہا ہے۔ کسی مقام پر گاڑی روک کر پرتشدد ہجوم کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو موت کی نیند سلایا جارہا ہے۔ کسی گاؤں میں ہندوتوا دہشت گرد مسلم نوجوانوں کو گاؤ رکھشا کے نام پر زندہ پھانسی پر لٹکارہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مظلوموں کی چیخیں ان کی آہیں وزیر اعظم نریندر مودی سن نہیں پارہے ہیں۔ تب ہی تو وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ویسے بھی عوام کو قبرستان اور شمشان میں بانٹنے والوں سے کسی اچھائی کی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ گوری لنکیش نے حالیہ عرصہ کے دوران فیس بک اور ٹوئیٹر پر جو پیامات پوسٹ کئے ان میں مابعد نوٹ بندی اثرات وغیرہ پر حکومت کا مضحکہ اڑایا۔ اپنے کنڑ ہفتہ وار میں کم از کم 8 مضامین ایسے شائع کئے تھے جس میں بی جے پی حکومت اور سنگھ پریوار کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔اس کے علاوہ گورکھپور اسپتال میں بچوں کی اموات، ڈاکٹر کفیل خان کی برطرفی جیسے موضوعات پر مودی حکومت پر نکتہ چینی کی تھی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ لنکیش کے دوستوں اور رشتہ داروں نے انہیں ہندوتوا طاقتوں کے خلاف زیادہ نہ لکھنے اور بولنے کا مشورہ دیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے ان مشوروں کو مسترد کردیا تھا کہ بولتے تو زندہ انسان ہیں‘ نعشیں تو چپ رہتی ہیں۔آج ملک میں وسیع الذہن، وسیع القلب صحافیوں کا جس طرح قتل کیا جارہا ہے ، وہ سب کیلئے لمحہ فکرہے۔ خاص طور پر روش کمار جیسے صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں جو اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے ذریعہ مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے میں سب سے آگے ہیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT