Wednesday , December 12 2018

گوشہ محل حلقہ کے تمام سنیما گھروں میں فلم ’’پدماوت‘‘ کی ریلیز کیخلاف انتباہ

رکن اسمبلی راجہ سنگھ کا تھیٹرس انتظامیہ کو مشورہ، حکومت کے فیصلہ سے قبل رکن اسمبلی کا فیصلہ

حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) متنازعہ فلم ’’پدماوت‘‘ حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے حدود میں موجود کسی بھی تھیٹر میں نہیں چلائی جائے گی اور اس کی ریلیز ان تھیٹرس میں نہیں ہوگی جو حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے حدود میں ہیں ۔ رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ نے کہا کہ ان کے حلقہ اسمبلی حدود میں موجود تھیٹر کے منیجرس سے انہوں نے شخصی ملاقات کرتے ہوئے انہیں ’’پدماوت ‘‘ فلم ریلیز نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ راجہ سنگھ کا کہناہے کہ حیدرآباد میں 15 لاکھ راجپوت ہیں اور اگر اس فلم کی ریلیز ہوتی ہے تو یہ راجپوت احتجاج کریں گے اور فلم چلانے نہیں دیں گے۔ اس فلم کے نام کی تبدیلی کے بعد فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت حاصل ہوچکی ہے لیکن حکومت مدھیہ پردیش اور گجرات نے اس فلم پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان ریاستو ںمیں فلم ریلیز نہ ہونے دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے فلم ’’پدماوت‘‘ کی ریلیز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے لیکن ریاست کے دارالحکومت کے مرکزی حصہ میں موجود حلقہ اسمبلی کی تھیٹرس کو رکن اسمبلی کی جانب سے فلم کی ریلیز سے روکا جانا حکومت کی مخالفت کرنا ہے اور حکومت کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے۔ ان تھیٹرس کے مالکین و منیجرس نے اس سلسلہ میں کسی بھی تبصرہ سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تاحال اس بات کا فیصلہ نہیں کرپائے ہیں کہ انہیں ’’پدماوت‘‘ اپنی تھیٹرس میں ریلیز کرنی ہے یا نہیں؟ فلم سنسر بورڈ کی جانب سے اجازت کے حصول کے بعد 25 جنوری کو اس فلم کی ریلیز ہونے والی ہے لیکن حیدرآباد میں فلم کی ریلیز کے متعلق تاحال کوئی قطعی فیصلہ نہ کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ راجہ سنگھ کا کہناہے کہ وہ ’’پدماوت‘‘ پر پابندی عائد کرنے کے سلسلہ میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے بتایاکہ فلم متنازعہ ہے اسی لئے وہ اس پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کا کہناہے کہ اگر فلم حکومت کی اجازت سے ریلیز کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں محکمہ پولیس کی جانب سے فلم ریلیز کرنے والی تھیٹرس کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہونے پائے۔تلنگانہ اسٹیٹ فلم چیمبر آف کامرس کا کہناہے کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اس فلم کو کتنے ڈسٹریبیوٹرس نے خریدا ہے اور کہاں چلائی جائے گی۔ فلم کے دوران احتجاج کے خدشات کے پیش نظر ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کتنے ڈسٹریبیوٹرس اس فلم کو حاصل کریںگے۔

TOPPOPULARRECENT