Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گوشہ محل میں قبرستانوں کی 88304 مربع گز اراضی پر قبضے

گوشہ محل میں قبرستانوں کی 88304 مربع گز اراضی پر قبضے

قبور کی بے حرمتی، قبرستان مویشیوں کے آسرا گھر میں تبدیل

قبور کی بے حرمتی، قبرستان مویشیوں کے آسرا گھر میں تبدیل
حیدرآباد ۔ 10 مئی ۔ اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے والے دنیا اور آخرت کی سزاؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے جہاں زندہ افراد کو پریشان کرتے ہیں وہیں پرانے شہر میں کئی ایسے قبرستان موجود ہیں جس کی کھلی اراضی کے علاوہ قبور پر بھی قبضہ کرتے ہوئے یہ لوگ مردوں کو بھی چین سے سونے نہیں دیتے۔ قبرستان جانے کا حکم پیارے آقا تاجدار مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی دیا ہے تاکہ قبرستان جانے کی وجہ سے آخرت کی یاد تازہ اور گناہوں سے بچنے کے ارادہ مصمم اور مستحکم ہو لیکن پرانے شہر کے صرف ایک وارڈ کے کئی قبرستانوں پر نہ صرف ناجائز قبضے ہوچکے ہیں بلکہ بعض قبرستان مویشیوں کی پناہ گاہ، غیرسماجی اور غیر شرعی کاموں کا اڈہ بن چکے ہیں۔ وقف بورڈ کے ریکارڈ میں گوشہ محل کے وارڈ نمبر 14 میں چھوٹے بڑے سینکڑوں قبرستان موجود ہیں جن کی بے حرمتی میں اپنے پرائے سبھی شامل ہیں۔ جمعرات بازار، گوشہ محل، سیتارام پیٹ، ملتانی پورہ، کنجرواڑی، چوڑی بازار، جنسی چوراہا اور دھول پیٹ بیدرواڑی میں 88304 مربع گز پر چھوٹے بڑے قبرستان موجود ہیں لیکن ان قبرستانوں کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ یہاں کے مناظر دیکھنے کے بعد ایمانی جذبہ بے چین کردیتا ہے۔ پہلی سروے رپورٹ گزٹ نمبر 20-A ، سیریل نمبر 506 تا 1869 مورخہ 9-05-1985 صفحہ نمبر 33 تا 49 کی روشنی میں اعداد و شمار ریکارڈ کے بموجب قبرستان بالترتیب 10 ہزار مربع گز، دو قبرستان 9 ہزار مربع گز اور ایک بڑی تعداد 5 ہزار مربع گز پر موجود ہے جن میں 20 مساجد بھی شامل ہیں تاہم ان اراضیات پر چاروں سمت سے ناجائز قبضے ہوچکے ہیں۔ ایک قبرستان جوکہ 5 ہزار مربع گز پر محیط ہے لیکن اس قبرستان کی قبروں پر 100 سے زائد اونٹ باندھے ہوئے ہیں اور قبور پر ان جانوروں کی گندگی پڑی ہوئی ہے۔ جمعرات بازار کے ایک اور قبرستان پر باضابطہ پٹرول پمپ قائم ہے۔ اونٹ واڑی چوڑی بازار کے قدیم قبرستان کے ایک حصے میں چند لوگ میت کی تدفین عمل میں لائی جاتی ہے تو دوسری جانب قبور پر گھوڑے باندھے ہوئے ہیں۔ یہ قبرستان شہر کا ایک قدیم قبرستان ہے جوکہ تقریباً 5000 گز پر مشتمل ہے۔ قبرستانوں میں اپنے آخرت کے سفر کی پہلی منزل میں پہنچ چکے مرحومین کے عزیزواقارب کو یہ دیکھ کر دلی تکلیف ہوتی ہیکہ زندگی میں ان کیلئے جہاں ہر خوشی کا خیال رکھا گیا تھا اور اب جبکہ ان کی آخری آرامگاہ پر پھول اور چادر ہونی چاہئے تھی ان ہی قبور پر پھولوں کی جگہ جانوروں کی گندگی اور چارہ نظر آتا ہے۔ اس طرح قبرستان جانوروں اور مویشیوں کی پناہ گاہ میں تبدیل ہوچکے۔ ان قبرستانوں میں ہزاروں قبریں اپنے وجود سے ہی مٹ چکی ہیں اور ناجائز قبضوں کی وجہ سے قبرستان کی اراضی تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہے۔ جانوروں اور مویشیوں کی پناہ گاہ کے علاوہ بعض قبرستانوں میں گڑمبے کی خریدوفروخت بھی ہورہی ہے۔ اوقافی جائیدادوں، قبرستانوں اور مساجد کی اراضیات پر ناجائز قبضہ، انہیں مویشیوں کی پناہ گاہ اور غیراخلاقی امور کیلئے استعمال کرنے والے افراد کا حقیقی ٹھکانہ دوزخ ہی ہوگا خواہ وہ کسی مذہبی جماعت یا سیاسی پارٹی سے وابستہ ہو کیونکہ ان کی یہ دنیاوی وابستگی انہیں ملک کے قانون کی سزاء سے بچا بھی لے تو دوزخ کی دہکتی آگ ان کا بے صبری سے انتظار کررہی ہے۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT