Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / گٹلہ بیگم پیٹ اوقافی اراضی کے غیر مجاز قابضین عدالت سے رجوع

گٹلہ بیگم پیٹ اوقافی اراضی کے غیر مجاز قابضین عدالت سے رجوع

وقف بورڈ کی غیر ضروری مداخلت کی شکایت ، نوٹس جاری ، بورڈ قانونی رکاوٹوں سے دوچار
حیدرآباد ۔ 20۔ جون (سیاست نیوز) گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی مساعی کے خلاف غیر مجاز قابضین نے عدالت میں درخواست داخل کی ہے جس میں وقف بورڈ کی جانب سے غیر ضروری مداخلت کی شکایت کی گئی ۔ وقف بورڈ کے خلاف غیر مجاز قابضین کی جانب سے توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا گیا اور عدالت سے خواہش کی گئی کہ وہ وقف بورڈ کو دوبارہ معائنہ کرنے سے روک دیں کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بعض دیگر قائدین کے ساتھ گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کا معائنہ کیا تھا ۔ انہوں نے ایک کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے پارکنگ شیڈ کی تیاری پر اعتراض جتایا تھا ۔ اس دورہ کے بعد غیر مجاز قابضین کو اندیشہ تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے گا ۔ لہذا انہوں نے وقف بورڈ پر ان کی تعمیرات کو منہدم کرنے کی تیاری کا الزام عائد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا ہے اور عدالت نے وقف بورڈ کو نوٹس جاری کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عدالت میں مختلف تصاویر پیش کی گئی جس میں جے سی بی مشینوں کی تصویریں بھی ہیں جنہیں منہدم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ وقف بورڈ کے عہدیدار مشینوں کے ساتھ نہیں پہنچے لیکن درخواست گزار نے مشینوںکی تصاویر منسلک کرتے ہوئے اسے وقف بورڈ سے جوڑ دیا ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی کی جانب سے عدالت میں جوابی حلفنامہ داخل کیا جارہا ہے ۔ دوسری طرف وقف بورڈ نے مسجد عالمگیر خانم میٹ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسجد عالمگیر کے تحت موجود اوقافی اراضی کے مجلس بلدیہ کے ساتھ مشترکہ سروے کی ہدایت کے سلسلہ میں عدالت میں درخواست داخل کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کی جانب سے حکومت کو مکتوب روانہ کیا جارہا ہے کہ مذکورہ اوقافی اراضی پر جو تعمیری کام جاری ہے ، انہیں روکا جائے۔ بتایاجاتا ہے کہ ایک آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے یہ تعمیراتی کام جاری ہے۔ وقف بورڈ نے مجلس بلدیہ کو مشترکہ سروے کیلئے مدعو کیا تھا لیکن امن و ضبط کا مسئلہ ہونے کا بہانہ بناکر بلدیہ نے سروے سے خود کو دور رکھا ۔ سروے نمبر 65 اور 66 کے تحت ایک ایکر 15 گنٹے اوقافی اراضی کا وقف بورڈ میں ریکارڈ موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتداء میں وقف ریکارڈ کے تحت صرف ایک گنٹا اوقافی اراضی تھی تاہم بعد میں مزید وقف گزٹ جاری کرتے ہوئے ایک ایکر 15 گنٹے اراضی کی نشاندہی کی گئی ۔ اسی دوران مسجد کمیٹی کی جانب سے اراضی کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر دوران ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مسجد کمیٹی صرف ایک گنٹا اراضی کے تحفظ کیلئے قانونی لڑائی لڑ رہی ہے ۔ وقف بورڈ ابھی تک اس مقدمہ میں فریق نہیں بناہے کیونکہ اسے سپریم کورٹ میں مقدمہ کے سلسلہ میں بھاری رقم کے خرچ ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اس طرح شہر کی دو اہم اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ قانونی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔

TOPPOPULARRECENT