Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے گزٹ نوٹیفکیشن کی پیر کو اجرائی

گٹلہ بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے گزٹ نوٹیفکیشن کی پیر کو اجرائی

اسٹینڈنگ کونسلس اعزازیہ سے مطمئن نہیں ، وقف بورڈ سے عدم تعاون کی شکایت، اہم مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ
حیدرآباد۔/21اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے سلسلہ میں اسٹینڈنگ کونسلس کے اعزازیہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقدمات کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے مواد کی فراہمی میں تاخیر کی شکایت کو بھی دور کردیا جائے گا۔صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج وقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسلس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا۔ اجلاس میں عید گٹلہ بیگم پیٹ، لینکو ہلز، انوارالعلوم اور دیگر اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ وکلاء سے مشاورت کے بعد بورڈ نے گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی کے سلسلہ میں پیر کو قطعی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد وقف بورڈ نے اعلامیہ جاری کیا تھا اور اعتراضات وصول کئے۔ مقامی افراد اور خاص طور پر غیر مجاز قابضین کی جانب سے 154 اعتراضات داخل کئے گئے جن کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ نے انہیں مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکلاء نے تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق اعتراضات پر جلد فیصلہ لیتے ہوئے وقف بورڈ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرسکتا ہے۔ بورڈ نے انوارالعلوم کالجس کے مقدمہ میں پیشرفت کا جائزہ لیا اور 4 ہفتے بعد ہائی کورٹ میں مقررہ پیشی کے موقع پر موثر نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا۔ اسٹینڈنگ کونسلس نے عہدیداروں کو بتایا کہ تقریباً 1600 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر دوران ہیں۔ ہائی کورٹ میں زیر دوران مقدمات کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ وقف ٹریبونل اور دیگر تحت کی عدالتوں میں بھی مقدمات زیر دوران ہیں۔ وکلاء نے شکایت کی کہ بورڈ کے عدم تعاون کے رویہ کے سبب انہیں جواب داخل کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ کسی مقدمہ کے سلسلہ میں جب متعلقہ دستاویزات یا تفصیلات طلب کی جاتی ہیں تو وقف بورڈ کے لیگل سیکشن کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے جس کے باعث مقدمات کی یکسوئی میں رکاوٹ ہورہی ہے اور مخالف پارٹی کے حق میں فیصلوں کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود نے تجویز پیش کی کہ ہر اسٹینڈنگ کونسلس کے ساتھ ایک ٹائپسٹ اور کلرک کا انتظام کیا جائے تاکہ جوابی حلف نامہ اسٹینڈنگ کونسل تیار کرے۔فی الوقت کاؤنٹر کی تیاری کا کام وقف بورڈ کے لیگل سیکشن کے ذمہ ہے اور یہاں بارہا توجہ دہانی کے باوجود بھی کاؤنٹر تیار نہیں کیا جاتا۔ ٹائپسٹ اور کلرک اسٹینڈنگ کونسل کے دفتر میں موجود رہیں گے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اہم عہدیداروں اور اسٹینڈنگ کونسلس کے درمیان واٹس اَپ گروپ کی تشکیل کا فیصلہ کیا تاکہ مقدمات کے بارے میں اطلاعات فوری طور پر فراہم کی جاسکیں۔ اس کے علاوہ تمام اسٹینڈنگ کونسلس کو سرکاری ای میل آئی ڈی دیا جائے گا جس کے ذریعہ وہ اوقافی تفصیلات حاصل کرسکیں گے۔ سید عمر جلیل نے اسٹینڈنگ کونسلس کو مختلف اضلاع اور وہاں کے مقدمات کی ذمہ داری دیتے ہوئے احکامات جاری کرنے کا وقف بورڈ کو مشورہ دیا تاکہ اسٹینڈنگ کونسلس اپنے الاٹ کردہ اضلاع اور مقدمات پر توجہ دے سکیں۔ اجلاس میں اسٹینڈنگ کونسلس نے ہر مقدمہ کیلئے انہیں ادا کئے جانے والے اعزازیہ کو معمولی قرار دیتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں تو ایک مقدمہ کی مکمل پیروی کیلئے صرف 4 ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں جبکہ سینئر وکلاء کے نام پر دوسروں کو لاکھوں روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے محنت کرنے والے اسٹینڈنگ کونسلس کو 4 ہزارکا معمولی مشاہرہ مناسب نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اسٹینڈنگ کونسلس کی اس شکایت سے اتفاق کرتے ہوئے مشاہرہ میں اضافہ کیلئے بہت جلد وہ اجلاس طلب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسٹینڈنگ کونسلس کو مطمئن نہ کیا جائے اس وقت تک وہ مقدمات کے سلسلہ میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ اجلاس میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر منان فاروقی کے علاوہ اسٹینڈنگ کونسلس صفی اللہ بیگ، اقبال الدین احمد، ایم اے مجیب، فاروق صلاح الدین اور دوسروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT