Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گٹلہ بیگم پیٹ کی وقف اراضی تحفظ کے لیے گزٹ نوٹیفیکیشن اجرائی کی ہدایت

گٹلہ بیگم پیٹ کی وقف اراضی تحفظ کے لیے گزٹ نوٹیفیکیشن اجرائی کی ہدایت

تمام اعتراضات مسترد ، چیرمین بورڈ محمد سلیم کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے تاخیر پر استفسار
حیدرآباد۔27 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ منان فاروقی کو ہدایت دی ہے کہ گٹلا بیگم پیٹ کی 90 ایکڑ اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں جلد از جلد گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔ وقف بورڈ کے اسٹانڈنگ کونسلس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پیر کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے جو سپریم کورٹ کے احکامات کے عین مطابق ہے۔ 5 دن گزرنے کے باوجود ابھی تک وقف بورڈ کی جانب سے نوٹیفکیشن کی عدم اجرائی سے عوامی حلقوں میں مختلف شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ غیر مجاز قابضین کے تحت وقف بورڈ نوٹیفکیشن کی اجرائی سے گریز کررہا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو طلب کرتے ہوئے تاخیر کی وجوہات کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے وقف بورڈ کو ہدایت دی تھی کہ اراضی کے سلسلہ میں اعتراضات کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے اور بعد میں گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اراضی کے سلسلہ میں 143 اعتراضات داخل کیے گئے جن میں بیشتر کمپنیوں نے اسے اپنی ذاتی اراضی قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ وقف بورڈ نے تمام اعتراضات کو مسترد کردیا کیوں کہ وقف ریکارڈ کے مطابق یہ وقف اراضی ہے۔ گزٹ نوٹیفکیشن کی اجرائی سے غیر مجاز قابضین کی دعویداری ختم ہوجائے گی۔ وقف بورڈ کے وکلا نے بھی مشورہ دیا تھا کہ بورڈ کو جلد از جلد نوٹیفکیشن جاری کرنا چاہئے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو محمد سلیم نے ہدایت دی کہ اراضی کے تحفظ کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیں۔ انہوں نے کہا کہ 90 ایکڑ قیمتی اراضی کا بہرصورت تحفظ کیا جائے گا اور غیر مجاز قابضین اگر کرایہ دار بننے کے لیے راضی ہوں تو ان سے بات چیت کی جاسکتی ہے لیکن اراضی سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر مجاز قابضین کرایہ دار بننے سے انکار کریں تو ان کے تخلیہ کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے مسجدِ عالمگیر خانم میٹ کی تعمیر و تزئین کے کاموں کا جائزہ لیا۔ گزشتہ 50 برسوں سے اس تاریخی مسجد کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے شخصی دلچسپی لیتے ہوئے نہ صرف مسجد کا تحفظ کیا بلکہ مسجد کے تحت ایک ایکڑ سے زائد اراضی کی مستقل طورپر حدبندی کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اندرون ایک ہفتہ مسجد میں نمازوں کا باقاعدہ آغاز کردیا جائے گا۔ وقف بورڈ کی جانب سے مقامی افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ مسجد اور اراضی کی نگرانی ہوسکے۔ امام اور موذن کا تقرر کرتے ہوئے وقف بورڈ کی جانب سے انہیں تنخواہ ادا کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT