Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / گڈس اینڈ سرویز ٹیکس GST

گڈس اینڈ سرویز ٹیکس GST

 

نور عالم صدیقی
گڈس اینڈ سرویسز ٹیکس : کیا ہندوستان جیسے کثیر آبادی والے ملک میں لاگو کیا جاسکتا ہے ۔ فی الحال تو یہ قانون پاس ہوچکا ہے اور اس کا نفاذ یکم جولائی 2017 ء سے ہوچکا ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ کامیاب بھی ہوگا ۔ اس کیلئے وقت کا انتظار ضروری ہے۔
گڈس اینڈ سرویز ٹیکس نظام دنیا کے ایک سو ساٹھ ممالک میں نافذ کرنے کے اقدامات ہورہے ہیں جن میں سے ایک سو بیس ممالک میں یہ نافذ ہوچکا ہے اور چالیس ممالک اس کے نفاذ کی کوششوں میں ہیں ۔ ہمارے ملک ہندوستان میں جو گڈس اینڈ سرویز ٹیکس نظام لاگو کیا گیا ہے ۔ وہ دراصل کینیڈا کے نظام کا چربہ ہے جہاں پر ڈبل ٹیکس یعنی اسٹیٹ اور سنٹرل نصف نصف حصہ ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ یعنی ایک ہی ٹیکس کو جو سارے ملک میں نافذ ہوگا، اس کے دو حصے کئے جاتے ہیں ۔ ایک حصہ اسٹیٹ کے حق میں آتا ہے اور دوسرا حصہ سنٹرل کو جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی گزشتہ چار پانچ دن سے اسی طرح کا ٹیکس وصول کیا جارہا ہے ۔ اگر آپ کسی ہوٹل میں دو سو روپئے کی بریانی کھائیں تو 18% ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے جس میں سے 9 فیصد S.G.S.T یعنی اسٹیٹ گڈس اینڈ سرویز ٹیکس اور 9 فیصد C.G.S.T سنٹرل گڈس این ڈ سرویز ٹیکس۔ کینیڈا کی آبادی 36 کروڑ نفوذ پر مشتمل ہے جبکہ ہمارے ملک کی آبادی 125 کروڑ ہے۔ کینیڈا کے ایک فرد کی سالانہ آمدنی پچاس ہزار ڈالر یعنی ہندوستانی روپیوں میں منتقل کریں تو پچیس لاکھ 25,00,000 روپئے ہوتی ہے جبکہ ہندوستانی فرد کی آمدنی سالانہ ایک لاکھ روپئے ہے ۔ بالکل اسی طرح کینیڈا کے G.D.P اور ان ڈیا کے G.D.P میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے ۔
کہا یہ جارہا ہے کہ ہر فرد کو ٹیکس ادا کرنا چاہئے بلکہ پہلے بھی ہر فرد ٹیکس ادا کرتا ہی رہا ہے کیونکہ جب پروڈکشن یونٹس اپنا مال بازار میں لاتی ہیں تو انہیں سیلز ٹیکس ، اکسائیز ڈیوٹی وغیرہ بھر کر ہی مال کو بازار میں لانے کی اجازت تھی ، اب ایک ٹیکس نظام لاگو کیا گیا ہے ۔ پہلے اور اب ٹیکس کا صرف نظام بدلا ہے ۔ ٹیکس تو جوں کا توں ہی رہے گا۔ چاہے اسے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس کا نام دے لیں یا پھر سیلز ٹیکس اکسائیز ڈیوٹی یا پھر VAT ۔ ہر فرد تو ٹیکس ادا کر ہی رہا ہے ۔ بہرحال ان ٹیکسوں سے ہی حکومتیں چلتی ہیں۔

ہمارے ملک کی 29 ریاستیں ہر ریاست اپنا اپنا ٹیکس ڈھانچہ اپنی عوامی سہولتوں کو مدنظر رکھ کر تیار کرتی رہی تھیں اور ان میں سالانہ بجٹ کے وقت کمی بیشی کی جاتی رہی تھی لیکن اب تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ایک ہی ٹیکس نظام متعارف کروایا گیا ہے ۔ اب اس ٹیکس سے حاصل شدہ آمدنی میں ہر ریاست کو تقریباً نصف حصہ جو اس ریاست سے وصول ہوگا ملے گا اور باقی نصف حصہ مرکزی حکومت کو جائے گا ۔ اگر دوسرے ممالک ، برازیل ، کینیڈا ، فرانس وغیرہ وغیرہ جہاں یہ G.S.T. نظام لاگو ہے۔ وہاں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں بہ لحاظ آبادی G.D.P گھریلو پیداوار، شرح ترقی ، شرح پیداوار اور آمدنی ہندوستان سے کہیں زیادہ ہے ۔ ان کی قوت خرید اور ہماری قوت خرید میں بہت بڑا تضاد ہے اور G.S.T کی شرح بھی ان ممالک میں کم ہے بہ نسبت ہندوستان کے ۔ اب کہا یہ جارہا ہے کہ اس ایک ٹیکس نظام سے عام آدمی پر کوئی بوجھ عائد نہیں ہوگا بلکہ روز مرہ کی اشیاء سستی ہوں گی ۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ روز مرہ کی اشیاء خوردنی اشیاء جس پر سابق میں 5 فیصد ، 4 فیصد ٹیکس شرح مقرر تھی ، اس کو ا لٹ پھیر کرتے ہوئے 6 فیصد، 5 فیصد ، 4 فیصد کردیا گیا ہے ۔ بظاہر تو یہ ایک فیصد کی کمی زیادتی کی گئی ہے ، اس سے ایک عام آدمی کو کہاں تک فائدہ پہنچے گا یہ تو منظر صاف ہونے کے لئے وقت درکار ہوگا ۔ البتہ کئی Luxury ایٹم پر ٹیکس شرح کم بھی کی گئی ہے ۔ جیسے موٹر کاریں وغیرہ لیکن سوال یہ ہے کہ ایک متوسط طبقہ کا آدمی یا غریب مزدور پیشہ فرد روز روز تو کاریں خریدیگا نہیں ۔ سابق میں ریاستی حکومتیں ٹیکس کو عاومی سہولتوں کو مدنظر رکھ کر اختیار کرتی تھیں، اگر ٹیکس زیادہ ہوجائے اور عوامی نمائندے یا عوام اعتراض کرتے تو یہ ریاستی حکومتیں اس میں رعایتیں دینے کی کوشش بھی کرتی تھی۔ اب ہر سال ریاستی حکومتوں کو بجٹ پیش کرنے کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ صرف مرکزی حکومت ہی ٹیکس میں اضافہ یا کمی کی مجاز رہے گی۔ بہرحال یہ ٹیکس نظام نافذ تو ہوگیا لیکن اس کیلئے عجلت پسندی سے کام لیا گیا ۔ نہ ان کا کوئی فریم ورک ہی نظر آتا ہے اور نہ ہی حکومت نے ہوم ورک ہی کیا بلکہ عجلت پسندی سے کام لیتے ہوئے اس نظام کو نافذ کردیا گیا ۔ آج مارکٹ کی یہ حالت ہوگئی کہ کوئی ٹرانسپورٹ مال بک کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ G.S.T پیڈ بل کے ساتھ مال لاؤ۔ اس G.S.T سے صنعت کاروں، ہول سیل ڈیلرس اور تیار کنندگان کو مربوط کرنے کے مواقع دینا چاہئے تھا، اب یہ سب کاروباری حضرات بھاگ دوڑ کر رہے ہیںکہ کس طرح سے اس ٹیکس نظام سے اپنے کاروبار کو مربوط کرسکیں۔ قلیل عرصہ کے لئے ہی سہی کاروباری نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔ مارکٹ میں پھر سے بہار آنے کے لئے ہر کاروباری فرد کو اس G.S.T نظام سے منسلک ہونا ہوگا جو اسٹاک مارکٹ میں موجود ہے ، اس کو تو پرانی قیمتوں پر ہی فروخت کیا جائے گا۔ جن اشیاء پر G.S.T کا ریٹ بڑھایا گیا ہے ، انہیں تو ریٹ بڑھاکر فروخت کیا جائے گا اور جن اشیاء پر ریٹ گرایا گیا ہے اس پر ریٹ گرایا نہیں جائے گا کیونکہ کاروباری حضرات پرانے ٹیکس جو اضافی تھا پر خریدی کئے تھے لہذا وہ نقصان اٹھانا پسند نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT