Wednesday , December 19 2018

گھانسی بازار میں 9 قیمتی موقوفہ مکانات فروخت

حیدرآباد ۔ 18 جنوری ۔ گھانسی بازار، چیلہ پورہ کا شمار شہر حیدرآباد کے قدیم محلہ جات میں ہوتا ہے اور اب تو ان بستیوں میں جائیدادوں کی قیمتیں نئے شہر کے کسی بھی علاقہ کی جائیدادوں سے زیادہ ہیں اور ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ایک مخصوص طبقہ ان محلوں میں اپنی آبادی کو بڑھانے میں لگا ہوا ہے اور اس کام میں انہیں اپنے عناصر کی سرپرستی اور تعا

حیدرآباد ۔ 18 جنوری ۔ گھانسی بازار، چیلہ پورہ کا شمار شہر حیدرآباد کے قدیم محلہ جات میں ہوتا ہے اور اب تو ان بستیوں میں جائیدادوں کی قیمتیں نئے شہر کے کسی بھی علاقہ کی جائیدادوں سے زیادہ ہیں اور ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ایک مخصوص طبقہ ان محلوں میں اپنی آبادی کو بڑھانے میں لگا ہوا ہے اور اس کام میں انہیں اپنے عناصر کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے، جسے ہم اوقافی جائیدادوں کی قیمت پر اپنی زندگیاں سنوارنے اور آخرت تباہ و برباد کرلینے والے کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے ذہن و دل میں ہمیشہ روپیہ پیسہ ہی چھایا رہتا ہے۔ اللہ کی جائیدادوں (موقوفہ اراضیات و عمارتوں) کو فروخت کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ دو ہفتہ قبل گھانسی بازار اور چیلہ پورہ سے متصل لب سڑک پر جامعہ نظامیہ کی قیمتی اوقافی جائیداد پر مارواڑی ہندی مہاودیالیہ کے قبضہ کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی، جس پر گھانسی بازار کی ایک بزرگ شخصیت نے جن کی پیدائش خود اس تاریخی محلہ میں ہوئی تھی، نے ربط پیدا کرتے ہوئے بتایا کہ گھانسی بازار اور چیلہ پورہ میں کم از کم 16 وسیع و عریض موقوفہ مکانات ہیں، جس میں سے 9 موقوفہ مکانات پر سونے چاندی کا کاروبار کرنے والے ایک مخصوص طبقہ کے افراد نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرلی ہیں اور فی الوقت ان موقوفہ مکانات کا پتہ ہی نہیں چل رہا ہے۔ ان موقوفہ جائیدادوں کی تباہی میں بتایا جاتا ہیکہ چند افرادکا اہم رول ہے اور وہ خود کو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ مسلمان یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کوئی مسلم اوقافی جائیدادوں کی تباہی اس کی فروخت جیسے گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتا اور کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کیلئے دینی جامعہ کے دارالافتاء سے رجوع ہونا چاہئے تاکہ اس کے گناہ اور سزاء کے بارے میں دنیا کو واقف کروایا جاسکے۔

گھانسی بازار میں پیدا ہوئے بزرگ نے جو اب ٹولی چوکی میں مقیم ہیں، اپنے قدیم محلہ کی گلی گلی کا دورہ کرایا اور بتایا یہ مکانات دراصل موقوفہ ہیں لیکن ناعاقبت اندیش عناصر نے دنیاوی عیش و آرام کیلئے اوقافی جائیدادوں کو فروخت کردیا۔ یہی نہیں بلکہ یہ لوگ ان جائیدادوں پر کئی کئی منزل عمارتوں کی تعمیر میں سونے چاندی کا کاروبار کرنے والے طبقہ کی بھرپور مدد بھی کررہے ہیں۔ واضح رہیکہ گھانسی بازار، چیلہ پورہ اور اس کے متصل علاقوں میں یہ طبقہ منہ مانگی قیمتوں پر جائیدادیں خریدنے میں مصروف ہے اور حیرت کی بات یہ ہیکہ ان علاقوں میں کبھی 100 فیصد مسلم آبادی ہوا کرتی تھی لیکن ابھی یہاں دیگر ریاستوں سے آئے لوگ ہی نظر آئیں گے حد تو یہ ہیکہ دوسری ریاستوں سے گھانسی بازار منتقل ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص بلدی انتخابات میں حصہ بھی لے چکا ہے۔ اگرچہ اسے شکست ہوئی لیکن مستقبل میں وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس حلقہ سے کانگریس امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ہم گھانسی بازار میں قیمتی موقوفہ جائیدادوں کی تباہی و بربادی کے بارے میں بزرگ شہری کے جذبات و احساسات کے بارے میں جان کر حیران رہ گئے اور وقف گزٹ کی چھان بین شروع کردی تاکہ گھانسی بازار اور چیلہ پورہ میں واقع موقوفہ جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات اٹھائی جاسکیں۔ گزٹ کا جائزہ لینے پر ہمیں اس بات کا پتہ چلا کہ گھانسی بازار میں 16 موقوفہ مکانات ہیں لیکن اس میں سے 9 پر غیرمسلموں نے اپنے بنگلے بنا لئے ہیں اور جو 7 مکانات باقی بچ گئے ہیں ان کی حالت بہت خستہ ہے۔ گھانسی بازار اور چیلہ پورہ کے بارے میں یہ بتانا بھی ضروری ہیکہ یہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر خوبصورت اور قدیم مساجد ہیں۔

درگاہیں، چھلے مبارک وغیرہ بھی کثیر تعداد میں ہیں۔ تحقیق کے دوران اس بات کا پتہ چلا کہ گھانسی بازار کی ایک قدیم مسجد جو 950 مربع گز پر محیط ہوا کرتی تھی اب صرف 300 مربع گز تک ہی محدود ہوگئی ہے۔ اسی طرح ایک چیلہ پورہ میں 555 گز پر محیط ایک موقوفہ مکان کا وقف گزٹ میں ذکر موجود ہے لیکن اس علاقہ میں ڈھونڈنے کے باوجود اس مکان کا پتہ ہی نہیں چل رہا ہے۔ وقف جائیدادوں کی اس تباہی کو روکنے اور ملت کو کروڑہا روپئے کی جائیدادیں واپس دلانے میں سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب عمر خلیل آئی اے ایس، اسپیشل سکریٹری وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ وہ ان جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قابضین کو جو موقوفہ جائیدادوں پر تعمیرات کرلینے کے باوجود ڈرے سہمے ہوئے ہیں وقف بورڈ کا کرایہ دار بناتے ہوئے مارکٹ کے لحاظ سے کرائے وصول کرسکتے ہیں۔ اس سے وقف بورڈ کی آمدنی میں کروڑہا روپئے کا اضافہ ہوگا۔ جناب شیخ محمد اقبال کیلئے یہ بھی ضروری ہیکہ وہ گھانسی بازار اور چیلہ پورہ کے ان قبرستانوں کا بھی پتہ چلائے جن کو ہٹا دیا گیا اور ان پر بھی عمارت تعمیر کرلی گئیں۔ موقوفہ جائیدادوں کی فروختگی اور ان پر غیروں کے ناجائز قبضوں کے بارے میں چھان بین کے دوران اس بات کا بھی پتہ چلا کہ غیروں نے موقوفہ جائیدادیں ڈرتے ڈرتے خرید تو لیں لیکن اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اگر وقف بورڈ میں کوئی ایماندار عہدیدار آجائے تو ہمارا کیا ہوگا؟ تاہم جن لوگوں نے ان جائیدادوں کی معاملتیں کروائیں، انہوں نے ان ڈرے سہمے افراد کو یہ کہہ کر دلاسہ دیا کہ ’’ہم ہیں نا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا‘‘۔ بہرحال اب اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال کی ذمہ داری ہیکہ وہ ان جائیدادوں کو بازیاب کریں اور انہیں مسلمانوں کیلئے آمدنی کا ذریعہ بنائیں۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT