Tuesday , December 11 2018

گھر واپسی : مودی سے ملاقات کے بعد بھاگوت خاموش

احمدآباد ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت گجرات کے شہر احمدآباد میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ سے خطاب کے دوران ’’گھر واپسی‘‘ (جبری مذہبی تبدیلی) کے متنازعہ مسئلہ پر لب کشائی سے گریز کیا اور کہا کہ ہندو سماج کئی برسوں سے یہ کہتا رہا ہیکہ دیگر مذاہب کو بھی قبول کیا جانا چاہئے۔ آر ایس ایس، وی ایچ پی کی زیرقیادت سنگھ

احمدآباد ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت گجرات کے شہر احمدآباد میں منعقدہ ایک بڑے جلسہ سے خطاب کے دوران ’’گھر واپسی‘‘ (جبری مذہبی تبدیلی) کے متنازعہ مسئلہ پر لب کشائی سے گریز کیا اور کہا کہ ہندو سماج کئی برسوں سے یہ کہتا رہا ہیکہ دیگر مذاہب کو بھی قبول کیا جانا چاہئے۔ آر ایس ایس، وی ایچ پی کی زیرقیادت سنگھ پریوار کا گھر واپسی پروگرام حالیہ عرصہ کے دوران شہ سرخیوں میں جگہ بنا چکا تھا جس سے ترقیات کا وہ ایجنڈہ پس پشت چلا گیا جس کی بنیاد پر نریندر مودی حکومت کو منتخب کیا گیا تھا۔ متنازعہ مسائل پر بھاگوت کی یہ خاموشی ایک ایسے وقت دیکھی گئی جس سے قبل آر ایس ایس کی دھرم جاگرن سمنوئے سمیتی کے کنوینر راجیشور سنگھ کو رخصت پر بھیج دیا گیا تھا کیونکہ وہ گھر واپسی (دوبارہ مذہبی تبدیلی) مہم چلارہے تھے۔ بھاگوت نے گذشتہ 20 ڈسمبر کو کولکتہ میں جلسہ سے خطاب کے دوران ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے چلائی جانے والی گھر واپسی مہم کی پرزور مدافعت کی تھی اور کہا تھا کہ جنہیں زبردستی لے جایا گیا تھا انہیں دوبارہ واپس لایا جائے گا۔ بھاگوت نے یہ دلیل بھی پیش کی تھی کہ ’’جب چور پکڑا جاتا ہے۔ میری جائیداد برآمد ہوتی ہے اور جب میں اس کو واپس لیتا ہوں تو اس میں غلطی کیا ہے؟ اگر آپ کو مذہبی تبدیلی پسند نہیں ہے تو اس کو روکنے کیلئے قانون لائیے‘‘ لیکن مودی اور بھاگوت کے مابین گذشتہ ہفتہ دہلی میں ملاقات کے بعد یہ صورتحال بدل گئی۔سنگھ سربراہ نے آج کہاکہ دنیا کے دیگر مذاہب بھی رواداری کا درس دیتے ہیں تو ہندو معاشرہ بھی کئی صدیوں سے یہ کہتا رہا ہیکہ دیگر مذاہب سے اتفاق کرتے ہوئے ان کا احترام کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT