Saturday , October 20 2018
Home / ہندوستان / گھر واپسی پروگراموں سے ہندوستان میں افراتفری کا خطرہ

گھر واپسی پروگراموں سے ہندوستان میں افراتفری کا خطرہ

نئی دہلی۔/26ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام )شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ امسال عید میلادالنبی ؐ 4جنوری بروز اتوار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام محسن انسانیت ہیں اور آپ ؐ کا پیغام تمام انسانوں کیلئے ہے۔ امریکہ ، افریقہ کے لوگ ہوں یا یوروپ اور ایشیاء کے ، آج مسل

نئی دہلی۔/26ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام )شاہی امام مسجد فتح پوری دہلی مفکر ملت مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ امسال عید میلادالنبی ؐ 4جنوری بروز اتوار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام محسن انسانیت ہیں اور آپ ؐ کا پیغام تمام انسانوں کیلئے ہے۔ امریکہ ، افریقہ کے لوگ ہوں یا یوروپ اور ایشیاء کے ، آج مسلمانوں کو سچے دل اور محبت و تعظیم کے جذبہ کے ساتھ پیغام اسلام ؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہی امام نے فرقہ پرست عناصر کی طرف سے گھر واپسی پروگرام منعقد کئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان شرپسند عناصر کے خلاف ’ انسداد غیر قانونی سرگرمی ایکٹ‘ قانون کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کیلئے کئے جارہے ہیں، اس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک قانون پہلے سے موجود ہے نیز آئین کی واضح دفعات موجود ہیں تو پھر ایک نئے قانون کا بہانہ بناکر ان سرگرمیوں کو نہ روکنا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جو سچے مسلمان ہیں انہیں کوئی نہیں بہکا سکتا مسلمان صرف اللہ سے ڈرتا ہے اور بندوں سے بلا امتیاز محبت کرتا ہے، پیغمبر اسلامؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے

جنہوں نے محبت اور اخلاق حسنہ کا درس دیا ہے۔ ہندوستان تو کیا آج اسلام کا ڈنکا سارے عالم میں بج رہا ہے۔ شاہی امام نے بوڈو باغی گروپ کی حالیہ دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کی جس میں سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جن میں بیشتر عورتیں اور بچے ہیں اور کئی سو لوگ زخمی بتائے جارہے ہیں اور کوکرا جھا، سونوت پور ضلعوں میں دہشت کا ماحول ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل واد بوڈو باغیوں کے خلاف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں کچھ نہیں کررہی ہیں حالانکہ وہ لوگ فوج اور پولیس پر بھی حملے کرتے ہیں۔ محض شک و شبہ کی بنیاد پر ساری توجہ بے قصور مسلمانوں کی گرفتار پر رکھی جاتی ہے سینکڑوں مسلمان جیلوں میں انصاف کے انتظار میں ہیں یقین ہے کہ عدالت مقدمات کی سماعت کے بعد انہیں بری کردے گی، ان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد شروع ہونی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT