Wednesday , December 19 2018

گھر کے سامنے لاوڈ اسپیکر پر مسلسل بھجن گجرات میں مسلم تاجر قیمتی جائیداد فروخت کرنے پر مجبور

احمدآباد ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلم تاجر کو ہندو اکثریتی آبادی والے علاقہ میں گھر کی خریداری مہنگی ثابت ہوئی اور وشوا ہندوپریشد کے احتجاج کی وجہ سے اسے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ اس تاجر نے بھاونگر سٹی کے سناتوریم علاقہ میں لاکھوں روپئے مالیتی جائیداد خریدی تھی لیکن وشوا ہندو پریشد نے احتجاجی پروگرامس شروع کردیئے اور گھر کے قریب

احمدآباد ۔ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مسلم تاجر کو ہندو اکثریتی آبادی والے علاقہ میں گھر کی خریداری مہنگی ثابت ہوئی اور وشوا ہندوپریشد کے احتجاج کی وجہ سے اسے اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ اس تاجر نے بھاونگر سٹی کے سناتوریم علاقہ میں لاکھوں روپئے مالیتی جائیداد خریدی تھی لیکن وشوا ہندو پریشد نے احتجاجی پروگرامس شروع کردیئے اور گھر کے قریب رام دھن و رام بھجن کا اہتمام کیا جانے لگا۔ آخرکار اس تاجر نے اپنا گھر فروخت کردیا۔ وی ایچ پی کے بھاونگر سٹی صدر ایس ڈی جانی نے یہ بات بتائی۔ ایک سال قبل وی ایچ پی انٹرنیشنل صدر پروین توگاڈیہ نے پریشد کے ارکان اور اس علاقہ کے رہنے والوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کی توہین کریں تاکہ انہیں ہندو اکثریتی آبادی والے علاقہ سے اپنی جائیدادیں چھوڑنے کیلئے مجبور ہونا پڑے۔ جانی نے بتایا کہ ہم نے توگاڈیہ سے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ ہمارے علاقوں میں مسلمان مکانات خرید رہے ہیں، جس پر توگاڈیہ نے ان سے کہا کہ مسلم تاجر کے گھر کے روبرو لاوڈ اسپیکرس پر رام دھن اور رام بھجن لگائے جائیں۔ ہم نے ایسا ہی کیا اور آخرکار مسلم تاجر کو اپنی جائیداد فروخت کرنا پڑا۔ فرقہ بواہیر سے تعلق رکھنے والے تاجر علی اصغر زاویری نے اس معاملہ پر تبصرہ سے انکار کیا ہے۔ وہ اسکراپ کا کاروبار کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہندو تنظیموں کے دباؤ کی وجہ سے انہیں اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT