Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / !گھر کے قریب باؤلی ہے تو دلہن دی جائے گی

!گھر کے قریب باؤلی ہے تو دلہن دی جائے گی

حمیر پور ۔ 26 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) خشک سالی سے متاثرہ علاقہ بندیل کھنڈ میں اب تک شادیوں کے رشتے میں ذات پات ، سماجی رتبہ اور مذہب ایک بنیادی عنصر ہوتا تھالیکن اب پانی کا مسئلہ حاوی ہوگیا ہے اور لڑکی کے والدین رشتہ طئے کرتے وقت یہ شرط لگارہے ہیں کہ گاؤں میں لڑکے کے مکان کے قریب باؤلی ہونا چاہئے  تاکہ لڑکی کو پانی لانے میں زیادہ مشکلات نہ ہوں۔ اگر گاؤں سے بہت دور کنواں ہونے پر لڑکی دینے سے انکار کردیا جارہا ہے۔ کپسا گاؤں میں مسلسل خشک سالی اور پینے کے پانی کی قلت سے مردوں کو اپنی دلہن تلاش کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔ اگرچیکہ دیہی خواتین کو شادی کے بعد پانی لانے کیلئے گھر سے باہر جانا پڑتا ہے لیکن مودھا تحصیل کے گاؤں حمیر پور میں کوئی بھی لڑکی دینے کی آمادہ نہیں ہے کیونکہ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ ان کی لڑکیوں کو دور افتادہ مقامات سے زندگی بھر پانی لانا پڑے گا۔ اترپردیش کے 50 اضلاع خشک سالی سے متاثر  ہیں لیکن کپسا (Kapsa) میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ جہاں پر نہ کوئی بورویل ہے نہ ہی قریب و جوار سے کوئی نہر بہتی ہے۔ گاؤں کے 20 میں سے صرف 7 ہینڈ پمپس کارکرد ہیں اور زیر زمین پانی بھی  غیر محفوظ ہے جوکہ پینے کے قابل نہیں ہے اور ہفتہ میں ایک مرتبہ 2 واٹر ٹینکر سے پانی سربراہ کرنے سے تھوڑی بہت راحت نصیب ہوتی ہے۔ اس گاؤں کے مرد جب تلاش روزگار کیلئے دوسرے مقامات پر منتقل ہوجاتے ہیں تو یہاں کی خواتین پیاس کے مارے آنسو بہاتی ہیں جس کے باعث نوجوانوں کی عمریں شادی کے انتظار میں ڈھلتے جارہی ہے کیونکہ پانی کی قلت کی وجہ سے کوئی لڑکی اس گاؤں میں بیاہ کیلئے تیار نہیں ہے ۔ موضع کپسا کی کل آبادی 1530 نفوس پر مشتمل ہے جس میں اعلیٰ ذات کے ٹھاکر یادو اور دلت بھی شامل ہیں۔ ان کی روزی روٹی ، زراعت پر منحصر ہے ۔ قحط جیسی صورتحال پیدا ہوجانے پر یہاں کے مرد اینٹوں کی پھٹی اور تعمیراتی شعبہ میں کام کیلئے نقل مقام کرجاتے ہیں اور حالیہ  خشک سالی سے تقریباً 80 فیصد گاؤں خالی ہوگیا ہے کیونکہ روزی روٹی کا مسئلہ شادی کے مسئلہ پر حاوی ہوگیا اور لوگ تلاش روزگا کیلئے گاؤں چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ جن نوجوانوں کی شادیاں طئے ہوئی تھی وہ خشک سالی کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT