Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گھر گھر سروے پروگرام سے استفادہ کا مشورہ

گھر گھر سروے پروگرام سے استفادہ کا مشورہ

اوٹکور میں جنرل سکریٹری ضلع کانگریس منیر احمد فاروقی کا بیان

اوٹکور میں جنرل سکریٹری ضلع کانگریس منیر احمد فاروقی کا بیان
اوٹکور۔/10اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جناب محمد منیر احمد فاروقی جنرل سکریٹری ضلع کانگریس نے عوام خصوصاً مسلمانوں سے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے 19 اگسٹ کو صرف ایک دن میں منعقد کئے جانے والے گھر گھر اور خاندان کے سروے کے موقع پر تمام افراد اپنی مصروفیات کو چھوڑ کر اس دن اپنے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دیں کیونکہ اس دن سروے کرنے والے عہدیدار سروے کے دوران 70کالم پر مشتمل فارم کی خانہ پُری کریں گے۔ان ہی معلومات کی بنیاد پر مشتمل اور مستقبل میں حکومت کی کئی اسکیمات سے استفادہ کیا جاسکے گا۔ اس دن کے سروے میں اگر کوئی خاندان اپنی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام ہورہا ہے تو حکومت کی اسکیمات اور تلنگانہ کی سکونت مشکوک ثابت ہوسکتی ہیں۔ 19اگسٹ کو منعقد ہونے والے گھر اور خاندان کے جامع منصوبہ اور سروے میں مذہب، ذات، راشن کارڈ نمبر، گیس کنکشن، بینک اکاؤنٹ، تاریخ پیدائش، تعلیمی قابلیت ، پیشہ، آدھار کارڈ نمبر، ووٹر شناختی کارڈز نمبر، مکان کی ملکیت ، برقی کنکشن، معذوری کی کیفیت، زرعی اراضیات، موٹر گاڑیاں، ڈرائیونگ لائسنس، الکٹرک بل، پٹہ پاس بک، برتھ سرٹیفکیٹ، افراد خاندان کے فون نمبرات وغیرہ لازمی طور پر ساتھ رکھیں۔ جناب محمد بشیر احمد تاڑپتڑی قائد کانگریس نے بتایا کہ 19اگسٹ کو گھر گھر پہنچ کر سرکاری ملازمین بشمول بلدی ملازمین و اساتذہ فارمس کی خانہ پُری کریں گے۔ ان میں یہ پوچھا جائے گا کہ آپ کے پاس ایل پی جی کنکشن ( گیس سلینڈر) ہے یا نہیں، آپ کس ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمانوں میں بیاک ورڈ کلاس بھی ہیں اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے زمرہ میں آنے والے لوگ بھی ہیں جو ای بی سی سرٹیفکیٹس حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سروے کے تعلق سے مسلمانوں کو کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت نہیں برتنی چاہیئے بلکہ پوری دانشمندی کے ساتھ ان عہدیداروں کے پاس ہر لحاظ سے مسلمان ہی سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔ مسلمانوں سے خواہش کی کہ اس جامع سروے کے مطابق تمام تفصیلات ضروری طور پر درج کروائیں تاکہ آئندہ بھی کسی قسم کی فلاحی اسکیمات سے محروم ہونا نہ پڑے ۔ خاندانی سروے کی خانہ پُری میں صحیح رہنمائی کے لئے اوٹکور کے تمام سیاسی تنظیموں اور مسلمانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT