Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / گھر گھر نل کنکشن فراہم کرنے تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کا عزم

گھر گھر نل کنکشن فراہم کرنے تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کا عزم

ملکاجگیری میں پینے کے پانی کی اسکیم کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد، چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

ملکاجگیری میں پینے کے پانی کی اسکیم کے تعمیراتی کاموں کا سنگ بنیاد، چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب

حیدرآباد 2 نومبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ شہری علاقوں بالخصوص حیدرآباد و سکندرآباد میں آئندہ تین چار سال کے دوران گھر گھر نل کنکشن فراہم کرے گی۔ آج یہاں ملکاجگیری میں واقع ڈیفنس کالونی میں 350 کروڑ روپیوں کے مصارف سے تکمیل کی جانے والی پینے کے پانی کی اسکیم کے تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مذکورہ اعلان کیا اور بتایا کہ اس اسکیم کے کاموں کو تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اُنھوں نے اس بات کا بھی اعلان کیاکہ اگر آئندہ چار سال میں ان کی حکومت گھر گھر نل کنکشن فراہم نہ کرپانے کی صورت میں آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا۔ اس موقع پر مسٹر چندرشیکھر راؤ نے چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ تلنگانہ میں فصلوں کو خشک بنادیتے اور نقصان پہونچانے کی سازش کررہے ہیں اور بتایا کہ سری سیلم سطح آب کے ضوابط و شرائط پر کبھی بھی عمل آوری نہیں ہوئی۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے کرشنا ریور بورڈ چیرمین کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں سنیاسی سے تعبیر کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ متعدد مرتبہ جلسوں سے خطاب کے دوران وہ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاست تلنگانہ کیلئے برقی کا مسئلہ درپیش رہنے کا اظہار کرچکے ہیں اور آج وہ (چندرشیکھر راؤ) برقی مسائل سے نمٹنے کیلئے ممکنہ کوششیں کررہے ہیں۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے کہاکہ تلنگانہ میں سیاسی کرپشن کے خاتمہ کیلئے مؤثر و مثبت اقدامات کے ساتھ ساتھ غریبوں کیلئے امکنہ جات تعمیر کرکے فراہم کرنے کا عوام کو تیقن دیا۔ مسٹر چندرشیکھر راؤ نے سابق حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش ریاست میں دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کو کانگریس و تلگودیشم حکومتوں کو زبردست نقصان پہونچاکر تباہ کردیا اور شہر حیدرآباد و مضافاتی علاقوں میں حکومتوں نے ہی رئیل اسٹیٹ کاروبار کرنے پر اولین ترجیح دی لیکن عوام کی پیاس بجھانے پر کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے آج بھی شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقے پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ سابقہ حکومتوں میں نالوں کی اراضیات پر بھی غیر مجاز قبضے کروائے گئے جس کی وجہ سے آج شہر حیدرآباد میں معمولی بارش سے بھی تمام سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور راج بھون اور وزراء کی قیامگاہوں کے پاس پانی جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے چلنا پھرنا محال ہوجاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نالوں کو ازسرنو بحال کرنے اور ان کی ازسرنو تعمیر عمل میں لانے کیلئے 10 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ اس سنگ بنیاد تقریب میں تلنگانہ وزراء، ارکان اسمبلی و قائدین ٹی آر ایس کے علاوہ اعلیٰ عہدیداران، متعلقہ محکمہ کے علاوہ عوام بشمول خواتین کی کثیر تعداد شریک تھی۔

TOPPOPULARRECENT