Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / گھٹنے کی تبدیلی کے بجائے جزوی تبدیلی سے بھی صحت مندی

گھٹنے کی تبدیلی کے بجائے جزوی تبدیلی سے بھی صحت مندی

قدرتی حصہ کو برقرار رکھنا ممکن ، ڈاکٹر اودے پرکاش کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) گھٹنوں کے درد کی کئی ایک وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن جب گھٹنے کی تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں جزوی تبدیلی پر بھی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر اُدے پرکاش ڈائرکٹر اُدے اومنی ہاسپٹل نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات بتائی۔ ڈاکٹر اُدے پرکاش نے بتایا کہ گھٹنے کی جزوی تبدیلی اور مکمل تبدیلی میں اخراجات پر کوئی زیادہ فرق نہیں آرہا ہے لیکن جزوی تبدیلی سے گھٹنے کی صحت مندی میں بڑی حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ عام طور پر گھٹنے کی تبدیلی کا آپریشن جب کیا جاتا ہے تو مکمل تبدیلی کو یقینی بنایا جاتا ہے لیکن عصری ٹیکنالوجی میں اِس بات کی سہولت موجود ہے کہ جتنا حصہ خراب ہوا ہے ، اتنے حصے کی تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔ چونکہ مابقی قدرتی حصہ جو بہتر ہوتا ہے اُس کے کام کرنے کا انداز منفرد ہوتا ہے اِسی لئے اِس کی برقراری یقینی بنائی جانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر اُدے پرکاش نے بتایا کہ حیدرآباد میں گھٹنے کی تبدیلی کے ماہانہ 600 آپریشن ہورہے ہیں اور اب تک گھٹنے کی جزوی تبدیلی کے وہ 100 آپریشنس کرچکے ہیں جس کے کافی بہتر نتائج برآمد ہوئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ماضی میں گھٹنوں کے درد اور ٹیڑھے پن کے علاج پر توجہ نہیں دی جاتی تھی لیکن عوام میں صحت کے متعلق شعور بیدار ہونے کے بعد گھٹنے کی تبدیلی و دیگر مسائل کے علاج پر توجہ مبذول کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر اُدے پرکاش نے بتایا کہ اضافی وزن، موٹاپا، غذائیت سے عاری کھانے، چہل قدمی نہ ہونے اور ہڈیوں کو مصروف نہ رکھنے کے سبب گھٹنے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور اُن میں شدید درد پیدا ہوتا ہے۔ جب یہ درد محسوس ہونے لگتا ہے تو اِس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ آیا ادویات کے ذریعہ اِس کا علاج ممکن ہے یا تبدیلی ناگزیر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ گھٹنے کی جزوی تبدیلی کی سرجری کامیاب تصور کی جارہی ہے بشرطیکہ سرجن ماہر ہو۔ ڈاکٹر اُدے پرکاش نے بتایا کہ خواتین کو ہڈیوں میں مسائل پیدا ہونے کے زیادہ خدشات ہوتے ہیں، اِسی لئے یہ ضروری ہے کہ خواتین اپنی جسمانی صحت بالخصوص ہڈیوں میں مضبوطی کی برقراری کے لئے ضروری ورزش اور چہل قدمی کو ترجیح دیں۔

TOPPOPULARRECENT