Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / گیاس ، پاسپورٹ ، بینک کھاتہ اور دیگر ضروریات کیلئے آدھار ، ووٹ کیلئے آدھار پر خاموشی

گیاس ، پاسپورٹ ، بینک کھاتہ اور دیگر ضروریات کیلئے آدھار ، ووٹ کیلئے آدھار پر خاموشی

فہرست رائے دہندگان کو بھی آدھار سے مربوط کرنے کی ضرورت ، سوشیل میڈیا پر مہم ، عوام کا ردعمل
حیدرآباد۔16اگسٹ (سیا ست نیوز) حکومت عوام تک پہنچائی جانے والی تمام اسکیمات کو آدھار کارڈ سے منسلک کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ اسکیمات میں شفافیت پیدا کرنے کیلئے آدھار کارڈ سے منسلک کیا جا رہا ہے اور گیس سبسیڈی‘ پاسپورٹ‘ بینک کھاتہ‘ پیان کارڈ‘ اسکالر شپ‘ تعلیمی فیس باز ادائیگی غرض یہ کہ تمام سرکاری اسکیمات و فوائد کو آدھار سے منسلک کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شفافیت پیدا کی جا رہی ہے لیکن آدھار کارڈ سے ووٹر شناختی کارڈ یا فہرست رائے دہندگان کو مربوط کرنے کے سلسلہ میں نہ حکومت کی جانب سے کوئی قدم اٹھایا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت اس سلسلہ میں آواز اٹھانے کیلئے تیار ہے جبکہ سوشل میڈیا پر یہ مسئلہ تیزی سے اٹھایا جا رہا ہے اور عوام کا احساس ہے کہ جب اسکیمات کو عوام تک پہنچانے کیلئے آدھار کا لزوم عائد کرتے ہوئے انہیں اسکیمات سے مربوط کیا جا سکتا ہے تو بہتر اور شفاف حکمرانی کے انتخاب میں کیوں آدھار کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابی طریقہ کار میں موجود خامیوں کی متعدد مرتبہ نشاندہی کے باوجود بھی رائے دہی کے دورا ن تلبیس شخصی کے واقعات کو روکنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اب جبکہ حکومت نے آدھار کے لزوم کے ذریعہ تمام اسکیمات میں شفافیت لانے کا فیصلہ کیا ہے تو حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فہرست رائے دہندگان کو بھی آدھار سے مربوط کرنے کے اقدامات کرے تاکہ عوام کو انتخابی عمل پر اعتماد ہو سکے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے انتخابات کے دوران رائے دہی کے فیصد میں بتدریج آرہی گراوٹ کیلئے عوام کا یہ ماننا ہے کہ رائے دہی کے عمل سے ایقان ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ جن علاقوں میں جو سیاسی جماعتوں کو برتری حاصل ہوتی ہے وہ تلبیس شخصی کے ذریعہ ووٹ استعمال کرلیتے ہیں اسی لئے سنجیدہ لوگ رائے دہی کے عمل سے خود کو دور رکھنے لگے ہیںجو کہ جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ملک میں جمہوری اصولوں کو مستحکم بنانے کے لئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فہرست رائے دہندگان سے مربوط کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے کیونکہ ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور عوام اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے سلسلہ میں سنجیدگی اختیار کرنے لگیں گے۔ فہرست رائے دہندگان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کی تائید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے فہرست رائے دہندگان کو آدھار سے مربوط کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلبیس شخصی کا خاتمہ ہونے کے علاوہ سالانہ فہرست رائے دہندگان کی تیاری اندراج و اخراج کے سلسلہ میں مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ آدھار کارڈ میں موجود تفصیلات بالخصوص عمر و تاریخ پیدائش کی بنیاد پر 18سال کی عمر کو پہنچنے والوں کو فہرست رائے دہندگا ن میں شامل کیا جا سکتا ہے اور انہیں صرف ایک میسیج کے ذریعہ مطلع کیا جا سکتا ہے کہ ان کا رائے دہندہ کی حیثیت سے اندراج عمل میں لایا جاچکا ہے اور اس اندراج کی تفصیلات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ اسی طرح آدھار کارڈ میں موجود تصویر کی بنیاد پر انہیں ووٹر شناختی کارڈ کی اجرائی بھی عمل میںلائی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر فہرست رائے دہندگان کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کی مہم کو زبردست عوامی تائید حاصل ہو رہی ہے اور اگر اس سلسلہ میں سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن اور حکومت سے نمائندگی کرتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں عوامی حمایت حاصل ہوگی اورعوام میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہر سیاسی جماعت تلبیس شخصی یا بوگس طریقہ سے حاصل کئے گئے ووٹ پر انحصار نہیں کرتی بلکہ سیاسی جماعتیں ایسی بھی ہیں جو انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے سنجیدہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT