Wednesday , December 12 2018

گیاس سربراہی میں 240 کروڑ روپئے کا اسکام‘ سی بی آئی کیس درج

نئی دہلی۔8جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سی بی آئی نے گیاس کی سربراہی میں 240 کروڑ روپئے کے اسکام کے سلسلہ میں کیس درج درج کرلیا ہے۔ گیاس اتھاریٹی کے اس وقت کے جنرل منیجر اسکام میں ملوث ہیں جس میں 7خانگی کمپنیوں نے بل بنا کر اور فرضی کاغذات داخل کرکے مبینہ طور پر اسکام کیاہے ۔ سی بی آئی نے کہا کہ ایجنسی نے اس وقت کے جنرل منیجر( پرائس ) گیس اتھاریٹی

نئی دہلی۔8جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سی بی آئی نے گیاس کی سربراہی میں 240 کروڑ روپئے کے اسکام کے سلسلہ میں کیس درج درج کرلیا ہے۔ گیاس اتھاریٹی کے اس وقت کے جنرل منیجر اسکام میں ملوث ہیں جس میں 7خانگی کمپنیوں نے بل بنا کر اور فرضی کاغذات داخل کرکے مبینہ طور پر اسکام کیاہے ۔ سی بی آئی نے کہا کہ ایجنسی نے اس وقت کے جنرل منیجر( پرائس ) گیس اتھاریٹی آف انڈیا ای ویاس راؤ کا نام ظاہر کیا ہے ‘

جنہوں نے 7خانگی کمپنیوں کے ساتھ مجرمانہ سازباز کرکے تغلب کیا ۔ ان کمپنیوں میں ایم ایم ایس اسٹیل ‘ سہیلی اکسپورٹس‘ کاویری گیاس ‘ کورو منڈل الکٹرک کمپنی ‘ آر کے انرجی‘ او پی جی انرجی اور سائی ایجنسی شامل ہیں ۔ جنہوں نے گیاس اتھاریٹی (GAIL) کو دھوکہ دیا تھا جسکے نتیجہ میں پبلک سیکٹر یونٹ کو 240کروڑ روپئے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی نے آندھراپردیش ‘ نوئیڈا ‘ نئی دہلی اور ممبئی کے بشمول 13مقامات پر دھاوے کئے اور اہم دستاویزات ضبط کئے ۔ ذرائع نے کہا کہ کمپنیوں نے 2000 میں گیاس اتھاریٹی سے علحدہ معاہدے کئے تھے ۔ ان معاہدوں کے مطابق گیاس اتھاریٹی کو ان کمپنیوں کیلئے گیاس کا مختص کردہ کوٹہ سربراہ کرنا تھا اور اس کیلئے قیمتوں کا تعین مرکز نے کیا تھا ۔ ذرائع نے کہا کہ ان کمپنیوں کو اڈمنسٹریٹیڈ پرائس میکانزم (APM) کے ذریعہ سستی قیمت میں گیاس سربراہ کی گئی تھی ۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق گیاس کو صرف برقی پیداوار اور فرٹیلائزرس سیکٹرس کیلئے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔

بعدازاں حکومت نے فیصلہ کیا کہ مفاد عامہ کے تحت تمام دستیاب APM گیاس کو صرف برقی اور فرٹیلائزر سیکٹر کے صارفین کو سربراہ کیا جائیگا ۔ انکی موجودہ مختص مقدار کے ساتھ خصوصی طور پر استعمال کیلئے گیاس سربراہ کی جانی تھی جو عدالتوں کے احکامات / اسمال اسکیل صارفین کیلئے / 3200ایم ایس سی ایم کی نظرثانی شدہ قیمت پر U.05 MMSCMD تک گیاس قیمت کا تعین کیا گیا تھا ۔ اس قیمت میں بعد ازاں 20 فیصد 3840/MCM اضافہ کیا گیا ۔ گیاس کو ان پراجکٹس کیلئے سربراہ کیا گیا ۔ اسکے علاوہ چھوٹے صارفین کو بھی 2006ء میں 0.05 ایم ایم ایس سی ایم ڈی کے خطوط پر گیاس کی قیمت مختص کی گئی تھی ‘ سی بی آئی نے الزام عائد کیا کہ اُس وقت کے جنرل منیجر ای وی ایس راؤ نے قصداً اور بددیانتی سے بلوں کی اجرائی کیلئے حکام کو ہدایت نہیں دی اور ان کمپنیوں سے ساز باز کرلی۔ گیاس کی سربراہی میں اضافہ کیا گیا ۔کمپنیوں نے حکومت کو پرانی شرحوں پر قیمت ادا کی ۔ سی بی آئی نے الزام عائد کیا کہ ان کمپنیوں نے نہ صرف اپنے بقایا جات ادا کرنے سے گریز کیا بلکہ گیاس اتھاریٹی کو جھوٹی معلومات فراہم کی ۔ انہوں نے الکٹریسٹی ایکٹ کے مطابق کام انجام دیا ہے اور پوری گیاس کی سربراہی کو برقی پیداوار کیلئے استعمال کیا جو عوامی استعمال کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے ۔ سی برقی کی فروخت سے منافع کمایا اور اے پی ایم گیاس کمپنیوں کو استعمال کرکے اپنا فائدہ دیکھاہے ۔ خاص صارفین کو مارکٹ شرحوں پر گیاس سربراہ کی گئی ۔ ایجنسی کا ادعا کہ کمپنیوں نے بل سازی میں کوتاہی کرکے قیمتوں میں اضافہ کیا ۔ اس سے حکومت کو 240کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT