Tuesday , January 23 2018
Home / سیاسیات / گیتا کی تدریس دستور کی خلاف ورزی نہیں : سنگھ پریوار

گیتا کی تدریس دستور کی خلاف ورزی نہیں : سنگھ پریوار

تیرواننتاپورم۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ جج جسٹس اے آر ڈوے کے اسکولوں میں گیتا کی تدریس کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے آر ایس ایس کے صف اول کے نظریہ ساز نے کہا کہ یہ کام صرف مذہبی مخطوطے کی تدریس کا نہیں بلکہ روحانی اور فلسفیانہ کلاسیکی تحریر کی تدریس کا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیتا کو ’’قومی کتاب ‘‘ قرار دیا جائے۔ پریس کون

تیرواننتاپورم۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ جج جسٹس اے آر ڈوے کے اسکولوں میں گیتا کی تدریس کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے آر ایس ایس کے صف اول کے نظریہ ساز نے کہا کہ یہ کام صرف مذہبی مخطوطے کی تدریس کا نہیں بلکہ روحانی اور فلسفیانہ کلاسیکی تحریر کی تدریس کا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیتا کو ’’قومی کتاب ‘‘ قرار دیا جائے۔ پریس کونسل آف انڈیا کے صدرنشین مارکنڈے کاٹجو کی جانب سے جسٹس ڈوے کے نظریات پر اعتراض میں شامل ہوتے ہوئے ڈائریکٹر آر ایس ایس حامی تہذیبی فورم بھارتیہ وچار کیندرم پی پرمیشورن نے کہا کہ گیتا ، صدیوں سے ہندوستان پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ جن لوگوں نے بھگوت گیتا کم از کم ایک بار پڑھی ہے وہ سمجھ جائیں گے کہ یہ کوئی مذہبی متن نہیں ہے۔ کوئی بھی دوسری کتاب اتنی کثیرالاشاعت نہیں ہے۔ بھگوت گیتا بے شمار مرتبہ شائع ہوچکی ہے اور اس کی بے شمار مرتبہ تاویلات بھی کی گئی ہیں۔ اس کا اثر زماں و مکاں سے ماورا ہے۔ یہ علم کا ایک ایسا خزانہ ہے جو کسی بھی زرخیز ذہن پر ابدی اثر مرتب کرسکتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے بھگوت گیتا کو اپنی ماں قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب بھی انہیں الجھن درپیش ہوتی ہے یا صدمہ پہنچتا ہے تو وہ گیتا میں پناہ لیتے ہیں۔ گیتا کا اثر ہماری جنگ آزادی پربھی فیصلہ کن تھا۔ یہ تصنیف اعلیٰ ترین انسانی اقدار کی تعلیم دیتی ہے۔ گیتا نے ہمیشہ تیز رفتاری سے انحطاط پذیر اخلاقی نظاموں کے دنیا بھر میں مسائل کا حل پیش کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گیتا کو ہندوستان کی قومی کتاب قرار دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT