Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گیس کے ناقص آٹوز سے دھماکہ کا خدشہ

گیس کے ناقص آٹوز سے دھماکہ کا خدشہ

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کی ایک شناخت یہاں کی سڑکوں پر بے ڈھنگ انداز میں دوڑتے ہوئے آٹوز بھی ہیں اور عوام کے ساتھ آٹو والوں کا برتاؤ شہریوں کے لیے اپنی نوعیت کی ایک الگ بحث ہے جب کہ ٹرافک جام اور سگنل پر کھڑی درجنوں گاڑیوں کو بے دریغ دھوئیں سے پریشان کرتے ہیں ۔ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے آٹوؤں میں سی این جی اور ایل پی جی ایندھن کو متعارف کیا گیا ۔ 1999 میں پلوشن کنٹرول بورڈ نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے انہی آٹوز کو رجسٹریشن کی اجازت دی جائے جو گیس کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہوں جس کے بعد 2010 میں حکومت نے جی ایچ ایم سی کے حدود میں سی این جی متعارف کروایا ۔ اندازے کے مطابق حیدرآباد میں اس وقت دیڑھ لاکھ آٹوز موجود ہیں جن میں 90 ہزار ایل پی جی اور 60 ہزار سی این جی پر چلتے ہیں ۔ گیس سیلنڈر قاعدے دفعہ 35 کے تحت ایل پی جی گاڑی کا 5 سال میں ایک مرتبہ اور سی این جی گاڑی کا 3 سال میں ایک مرتبہ معائنہ ضروری ہے جس کے بعد آر ٹی اے کی جانب سے فٹنس پر مٹ جاری کیا جاتا ہے اور یہ معائنہ مقررہ مدت میں کیا جاتا رہنا ضروری ہے ۔ دہلی ، ممبئی ، بنگلور میں اس پر سختی سے عمل آوری جاری ہے جب کہ تلگو ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں اس کا سختی سے نفاذ عمل میں نہیں لایا جارہا ہے حالانکہ ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے صدر پی کرن بابو نے اس ضمن میں عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے متعلقہ شعبوں کو سخت اقدامات کرنے کی مانگ کی ہے ۔ دوسری جانب آٹو یونین قائدین کا کہنا ہے کہ آٹو کی صحیح اور بروقت نگہداشت نہ کرنے سے سڑکوں پر دھماکے کے خطرات بھی ہیں جیسا کہ چند برس قبل بنگلور ہائی وے پر ایک خانگی بس میں آگ لگی تھی قائدین نے مطالبہ کیا کہ اگر حیدرآباد کی سڑکوں پر اس طرح کا کوئی حادثہ آٹوؤں کے پھٹ پڑنے سے ہوجائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ یہاں یہ حقیقت بھی غور طلب ہے کہ سڑکوں پر کئی ایسے آٹو ہی دکھائی دیتے ہیں جن کی حالت خستہ اور پیچھے سے دھواں ایسے چھوڑتے ہیں جیسے شہر میں مچھروں کی دوا ڈی ڈی ٹی کا چھڑکاؤ کررہے ہوں ۔ ان سے پہلے ہی شہریوں کو صحت کے مضر خطرات لاحق ہیں اور اب بظاہر بہتر اور کم دھواں چھوڑنے والے آٹوز کے ساتھ دھماکوں کا خطرہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT