Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / گینگسٹر بھونگیر نعیم کا مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر مجرمین کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ مسترد

گینگسٹر بھونگیر نعیم کا مجرمانہ ریکارڈ اور دیگر مجرمین کے خلاف سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ مسترد

برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتو میں بحث اور ایک دوسرے پر الزامات ، چیف منسٹر کی جانب سے پولیس کی ستائش
حیدرآباد۔19ڈسمبر(سیاست نیوز) گینگسٹر بھونگیر نعیم کے مجرمانہ ریکارڈ اور اس کے ساتھیوں و مجرمانہ سرگرمیو ںمیں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کئے جانے والے سی بی آئی تحقیقات کے مطالبہ کوحکومت نے مسترد کردیا۔چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج اسمبلی میں نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں اور نظم و ضبط کی برقراری کے مسئلہ پر منعقدہ مختصر مدتی مباحث کے دوران تلنگانہ پولیس کی بھر پور ستائش کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کئے گئے سی بی آئی تحقیقات کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ پولیس میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کے ذریعہ نعیم اور اس کے ساتھیوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے انہیں سزاء دلوائے گی۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ گذشتہ 15برسوں سے نعیم کی مجرمانہ سرگرمیاں جاری تھیں لیکن سابقہ حکومتوں نے اسے روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست میں ٹی آر ایس کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اورغیر سماجی عناصر پر کنٹرول حاصل کرنے کے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوںنے نعیم کا انکاؤنٹر کرنے والے پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نعیم پر 174مقدمات زیر دوراں تھے اور نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے پیش نظر 740افراد سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ نعیم پر 52قتل میں ملوث ہونے کا شبہ کیا جا رہا تھا جس میں 27قتل کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جن میں نعیم کو خاطی پایا گیا ہے۔ تحقیقات میں مزید پیشرفت جاری ہے اور ریاستی حکومت نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں کسی بھی طرح سے ملوث افراد کو نہیں بخشے گی اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی خواہ وہ کوئی ہوں۔انہوں نے بتایا کہ نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات ریاستی پولیس ہی کرے گی اور ان مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف غیر جانبدارانہ کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے تحقیقات کے دوران ایک ہزار ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی ہے جو نعیم کی ملکیت ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ اس کے علاوہ 27مکانات اور پلاٹس جملہ مالیت 143کروڑ کی نشاندہی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انکاؤنٹرکے بعد21 بندوق‘21کاریں اور 26موٹر سیکلیں بھی دھاوؤں کے دوران ضبط کی گئی ہیں۔ اب تک کی گئی تحقیقات کے متعلق انہوں نے بتایا کہ مسئلہ کی عاجلانہ تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی میں آئی جی رینک کے عہدیدار کو شامل کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کو مستحکم و بااختیار بنایا گیا ہے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مباحث کے آغاز کے بعد مسٹر ٹی جیون ریڈی کانگریس نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ 8اگسٹ 2016کو کئے گئے انکاؤنٹر کے بعد جو انکشافات ہوئے ہیں انہیں منظر عام پر لایا جانا چاہئے۔ انکاؤنٹر سے قبل امام گوڑہ میں واقع ایک تقریب میں نعیم کی شرکت کو انہوںنے انٹلیجنس کی ناکامی قرار دیا۔ مسٹر ٹی جیون ریڈی نے حکومت سے استفسار کیا کہ نعیم کی ڈائری کا کیا ہو ا اور اس کے پاس سے برآمد ڈائری ‘ پین ڈرائیو‘ کمپیوٹر ‘ لیاپ ٹاپ کیوں عدالت میں جمع نہیں کروایا گیا۔ انہوںنے نعیم کے پاکستانی دہشت گردوں سے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمہ کی تحقیقات کو سی بی آئی کے حوالے کرے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو ممکن بنایا جا سکے ۔انہوںنے بتایا کہ نعیم کے جرائم کی جڑیں صرف تلنگانہ تک محدود نہیں تھیں بلکہ اس کے جرائم مہاراشٹرا‘ چھتیس گڑھ‘کرناٹک اور گوا تک پھیلی ہوئی تھیں ۔مباحث کے دوران وزیر فینانس نے مسٹر جیون ریڈی کو روکتے ہوئے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں بہ حیثیت فلور لیڈر ان کا تحفظ بھی نہیں تھا اور اب کانگریس حکومت پر نظم و ضبط کے معاملہ پر تنقید کر رہی ہے جبکہ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کے دور حکومت میں ٹی آر ایس فلور لیڈر کے ڈرائیور کا اغواء کیا گیا تھا۔مسٹر سی ایچ رامچندر ریڈی رکن اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت سے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور جاننا چاہا کہ نعیم کے ساتھ مجرمانہ سرگرمیوں میں کتنے لوگ تھے اور کتنے لوگوں کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے۔مجلس کی جانب سے رکن اسمبلی کوثر محی الدین نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نعیم کے جنازہ میں افراد خاندان کو شریک ہونے سے روکے جانے کی مذمت کی اور استفسار کیا کہ آلیر انکاؤنٹر کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کا کیا ہوا؟ انہوں نے نعیم کی محروس اہلیہ سے ان کے بچوں کو ملاقات کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے رکن اسمبلی مسٹر این وینکٹ ویریا نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نعیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس مقدمہ کی عاجلانہ یکسوئی و سماعت کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ حقائق کا جلد انکشاف ہوسکے۔مسٹر ایس راجیا سی پی ایم اور مسٹر رام لنگا ریڈی نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT