Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گینگسٹر نعیم کی ہلاکت پر پولیس کے متضاد دعوے

گینگسٹر نعیم کی ہلاکت پر پولیس کے متضاد دعوے

سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ : محمد سراج الدین
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : سابق صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد سراج الدین نے کہا کہ وہ گینگسٹر نعیم کے انکاونٹر کے خلاف نہیں ہے تاہم حقائق کو منظر عام لانے کے لیے اس کی برسر خدمات ہائی کورٹ جج یا سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نعیم کے بارے میں کئی چونکا دینے والے انکشافات ہورہے ہیں اور کئی واقعات کی پردہ پوشی ہونے کے شکوک پیدا ہورہے ہیں کیوں کہ نعیم کی والدہ نے میڈیا کے روبرو بیان دیا ہے کہ پولیس نے نعیم اور ان کے بہو بچوں کو تین دن قبل ہی حراست میں لیا تھا ۔ ضلع محبوب نگر کی ڈی ایس پی نے کارڈن سرچ میں انکاونٹر کرنے کا دعویٰ کیا جب کہ ڈی جی پی نے پولیس کے ساتھ جھڑپ میں انکاونٹر کرنے کا اعلان کیا ہے اور پہلی مرتبہ پولیس کی جانب سے سرکولر جاری کرتے ہوئے میڈیا کو تدفین کی راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ جو حیرت کی بات ہے ۔ مسٹر محمد سراج الدین نے کہا کہ نعیم کے انکاونٹر پر انہیں کوئی افسوس بھی نہیں ہے ۔ تاہم پولیس کی جانب سے جن شکوک کا اظہار کیا ہے اس پر شک و شبہات ہے ۔ گینگسٹر نعیم کی والدہ اور سیول لبرٹیز کے قائدین کا الزام ہے کہ پولیس نے ہی نکسلائٹس اور ان کے حامیوں کا صفایا کرنے کے لیے نعیم کی خدمات سے استفادہ کیا اور نعیم کے جرائم میں راست و بالراست مکمل تعاون کیا ہے ۔نعیم کے جرائم کو منظر عام پر لانے اور اس کی تحقیقات کرانے کے لیے اگر حکومت سنجیدہ ہے تو وہ اس کی ہائی کورٹ کے برسر خدمات جج یا سی بی آئی کے ذریعہ اس کی تحقیقات کرائے تب ہی قصور وار پولیس اور دوسروں کے بارے میں حقائق پر سے پردہ اٹھے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT