Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گیہوں کی گھاس کا جوس کئی بیماریوں میں فائدہ بخش

گیہوں کی گھاس کا جوس کئی بیماریوں میں فائدہ بخش

امراض کہنہ ، جوڑوں کے درد اور زخموں کو مندمل کرنے میں اکسیر ، 71 سالہ ڈی سرپال ریڈی سے بات چیت نمائندہ خصوصی

امراض کہنہ ، جوڑوں کے درد اور زخموں کو مندمل کرنے میں اکسیر ، 71 سالہ ڈی سرپال ریڈی سے بات چیت
نمائندہ خصوصی
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : غذائی اجناس میں گیہوں انسانی صحت کے لیے انتہائی مفید غذا ہے جو انسانوں میں غیر معمولی توانائی کا باعث بنتی ہے ۔ ہمارے دسترخوان پر گیہوں کی روٹی کی موجودگی ضروری اور لازمی سمجھی جاتی ہے ۔ طب نبوی ؐ میں بھی ریشہ دار غذاؤں کا ذکر آیا ہے جس میں کھجور ، جو اور بارلی بہت اہم ہے آج کل ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں گیہوں کی گھاس کا شربت مقبولیت حاصل کرتا جارہا ہے ۔ گیہوں کی گھاس کے شربت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ امراض قلب ، جوڑوں کے درد ، رگوں پٹھوں ، نسوں میں تکلیف ، قبض ، امراض جگر ، جسم میں زہریلے و فاسد مادوں کی صفائی ، ہاتھوں پیروں کے پرانے زخم کو سکھانے انہیں مندمل کرنے یہاں تک کہ کینسر کے انسداد میں بہت مفید ہے ۔ جیسا کہ راقم الحروف نے سطور بالا میں کہا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر گیہوں کے گھاس کا رس ( شربت ) فروخت کیا جارہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ہماری ملاقات ونستھلی پورم این جی اوز کالونی کے رہنے والے ڈی سرپال ریڈی سے ہوئی ، وہ باغ لنگم پلی کے سندریہ باغ کے سامنے ویٹ گراس جوس کاونٹر چلاتے ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ ایک تاجر ہیں لیکن گذشتہ 15 برسوں سے نگہداشت صحت کے شعبہ سے وابستہ ہیں اور ڈھائی برس سے Wheat Grass پر تحقیق کررہے ہیں ۔ 71 سال کی عمر میں بھی ڈی سرپال ریڈی بڑے چوق و چوبند ہیں ان کے چہرہ پر موجود بڑی بڑی مونچھیں ان کی شخصیت میں رعب و دبدبہ پیدا کرتی ہیں ۔

خصوصی ملاقات میں شہر کے تاریخی نظام کالج سے 1966 میں بی اے کرنے والے اس ’ نوجوان بوڑھے ‘ نے بتایا کہ انہوں نے ویٹ گراس کو پہلے خود پر آزمایا اور پھر زندگیوں کو بچاؤ مشن کے تحت گیہوں کی گھاس کا جوس فروخت کرنا شروع کردیا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گیہوں کی گھاس ڈاکٹروں کی ڈاکٹر ہے جس میں ہر بیماری کے لیے شفا ہے ، خاص طور پر جوڑوں کے درد اور طویل عرصہ سے زخموں میں مبتلا افراد کو زبردست راحت پہنچاتی ہے ۔ یہ جسم کے عصبی ، ہضمی ، اخراجی نظام کو بہتر بناتے ہوئے دوران خون کی پیچیدگیوں کو دور کرتی ہے ۔

خاص طور پر جسم میں جو زہریلے مادے ہوتے ہیں اسے صاف کردیتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی سرپال ریڈی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ پدماوتی سرور نگر میں گیہوں کی گھاس کا جوس فروخت کرتی ہے ۔ 30 ایم ایل کا گلاس 20 روپئے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ تاہم غریبوں سے وہ کوئی رقم نہیں لیتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے کئی ڈاکٹرس رجوع ہو کر بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ عصبی نظام میں آئی خرابیوں سے نجات پاچکے ہیں ۔ اس شربت کا استعمال کرنے والوں کا بی پی کنٹرول میں رہتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا مقصد پیسے کمانا نہیں بلکہ مختلف امراض کہنہ میں مبتلا مریضوں کو آسان اور انتہائی سستے علاج سے واقف کرانا ہے ۔ اس ضمن میں انہوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل اور ذات پات بیماروں کی مدد کے لیے اپنے والد دا ریڈی دشرتھ ریڈی کے نام سے ایک فاونڈیشن قائم کیا ہے ۔ اس سوال پر کہ آخر یومیہ کتنے لوگ گیہوں کی گھاس کا شربت پینے کے لیے ان سے اور ان کی اہلیہ سے رجوع ہوتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ باغ لنگم پلی میں 30 تا 40 اور سرور نگر میں 15-20 مرد و خواتین رجوع ہوتے ہیں ۔ انہوں نے گیہوں کی گھاس اگانے کے لیے اپنا ذاتی فارم ہاوز تعمیر کرایا ہے یہ گھاس صرف 8 دن میں اُگ آتی ہے اس طرح وہ ضرورت مندوں کوگیہوں کی بالکل تازہ گھاس کا جوس بناکر دیتے ہیں ۔

مسٹر ڈی سرپال ریڈی نے جن کے تین بیٹوں میں سے ایک بیٹا اسکاٹ لینڈ کی رائل بنک آف اسکاٹ لینڈ میں فینانس رسک مینجر کے عہدہ پر فائز ہے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 5 سال قبل عابڈز کے فٹ پاتھوں پر اتوار کو فروخت کی جانے والی کتابوں میں سے Anne Wigmore کی تحریر کردہ کتاب The Wheat Grass خریدی تھی لیکن ڈھائی برسوں تک اس کتاب کو اپنی دیگر کتابوں کے ساتھ رکھ کر فراموش کردیا لیکن گھر کی صفائی و آہک پاشی کے دوران ڈھائی برس قبل اس کتاب پر نظر پڑتے ہی انہوں نے ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ ڈالی اور پھر گیہوں کی گھاس کے جوس کو خود آزمایا ۔ بیگم بازار سے پلاسٹک کی کشتیاں خرید کر لائیں اور اس میں گیہوں کی گھاس اُگا کر استعمال کیا اور دیکھا کہ دو دن میں ہی ان کے گھٹنوں اور کمر کا درد رفو چکر ہوگیا ۔ تب ہی انہوں نے تہیہ کرلیا کہ اس شربت سے وہ عوام کو ضرور واقف کرائیں گے ۔ گرم گوڑہ میں سرپال ریڈی نے اپنے فارم ہاوز میں باضابطہ گیہوں کی گھاس اُگانی شروع کردی ۔ انہوں نے سب سے پہلے انڈو امریکن کینسر ہاسپٹل کے سامنے اپنی جیپ ٹھہرا کر جوس فروخت کرنا شروع کردیا بعد میں باغ عامہ میں کاونٹر لگاکر جوس فروخت کیا ۔

انہوں نے عارف حسین نامی ایک غریب مریض کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ شخص کئی برسوں سے پیر کے زخم سے تڑپ رہا تھا ۔ ڈاکٹروں نے اسے پیر کاٹنے کا مشورہ دیا لیکن سرپال ریڈی نے اسے مسلسل گیہوں کے گھاس کا جوس پینے کا مشورہ دیا اب وہ 50 فیصد ٹھیک ہوگیا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ گنگرین میں بھی مفید ہے ۔ کینسر پر قابو پانے کی صلاحیت ہے ۔ گیہوں کی گھاس کے شربت میں انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے وٹامنس ، امائنو اسیڈس ، پروٹین ، انپزائمس اور منیرلس ( معدنیات ) ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گیہوں کے جوس میں کلووفل ، امائنو اسیڈس ، بٹیا کیروٹین ، گاجر سے زیادہ وٹامن اے سنترے سے زیادہ وٹامن سی وٹامن B6 فاسفورس ، میگنیشم ، کیلشیم ، فولاد ، زنک ، پوٹاثیم پایا جاتا ہے ۔ وٹامن K سے بھی یہ بھر پور ہوتا ہے ۔ انسانی جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھاتا ہے ۔ شہر کے چند ایک مقامات پر دوسرے لوگ بھی گیہوں کی گھاس کا جوس فروخت کررہے ہیں جب کہ یہ گولیوں ، پاوڈر اور منجمد شربت کی شکل میں بھی دستیاب ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT