Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ہائیکورٹ کی ہدایت پر دادری واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے آمادگی

ہائیکورٹ کی ہدایت پر دادری واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے آمادگی

حکومت اُترپردیش کا موقف ، غیرجانبدار تحقیقات کا عذر مسترد ، بی جے پی کارکن کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہونے کا دعویٰ
لکھنو ۔ 5 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دادری قتل مقدمہ کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کیلئے کئی ماہ تک پس و پیش کے بعد حکومت اُترپردیش نے آج کہا کہ اگر الٰہ آباد ہائیکورٹ کا یہ موقف ہوکہ سی بی آئی کے ذریعہ اس معاملہ کی تحقیقات کرائی جائے تو ہم عدالت کے اس حکم کا پورا احترام کریں گے ۔ سرکاری ترجمان نے آج ایک بیان میں کہا کہ اگر عدالت تحقیقات میں کوئی بات نہ مکمل پائے تو پھر حکومت فوری اس کا جائزہ لیتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائے گی۔ یہاں تک کہ اگر عدالت یہ کہدے کہ سی بی آئی تحقیقات ہی حقائق کا پتہ چلانے کیلئے ضروری ہے تو پھر حکومت اُس پر من و عن عمل کرے گی ۔ الہٰ آباد ہائیکورٹ نے فروری میں نوئیڈا کے بی جے پی کارکن کی دائر کردہ درخواست پر مرکز اور حکومت اُترپردیش سے جواب طلب کیا تھا ۔ اس درخواست میں بی جے پی کارکن نے کہاکہ دادری قتل سے متعلق مقدمہ میں اُنھیں غلط ماخوذ کیا گیاہے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ بیف استعمال کرنے کی افواہ پر قتل کا یہ واقعہ پیش آیا اور اُس نے اس معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جسٹس بالا کرشنا نارائنا اور جسٹس ناہید آراء مونس پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے مرکز اور ریاستی حکومت کو اندرون چار ہفتہ جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ۔ اس کے بعد تصحیح شدہ درخواست داخل کرنے کیلئے مزید دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 6 اپریل کو مقرر کی ہے ۔ بی جے پی کارکن سنجے سنگھ کی درخواست پر یہ احکامات جاری کئے گئے جنھوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی پولیس اس معاملہ کی تحقیقات غیرجانبدار انداز میں نہیں کررہی ہے اور حکمراں سماج وادی پارٹی کی ایماء پر انھیں مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے ۔

سرکاری ترجمان نے کہا کہ الہٰ آباد ہائیکورٹ میں سنجے سنگھ بمقابلہ حکومت ہند و دیگر فوجداری رٹ درخواست دائر کی گئی ہے ۔ درخواست گذار کا یہ بیان کہ تحقیقات سیاسی یا انتظامی اثر و رسوخ کے تحت کی جارہی ہے غلط ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تحقیقات پوری طرح غیرجانبدار طورپر کی گئی اور شواہد و حقائق کی بنیاد پر ملزم کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے ۔ ترجمان نے کہاکہ ملزم کے خلاف ٹھوس ثبوت پائے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال 28 ستمبر کو اخلاق احمد کو ہجوم نے ہلاک کردیا تھا ۔ اُن کی اہلیہ اکرامن نے بتایا کہ 10 تا 15 مسلح افراد اُن کے گھر میں گُھس آئے اور اُن کے شوہر اور فرزند دانش کو زدوکوب کرنا شروع کردیا ، یہ سب انھیں ہلاک کرنے کے ارادے سے یہاں آئے تھے ۔ اکرامن نے بتایا کہ جب وہ ، اُن کی ساس اصغری اور دختر شائستہ نے اُنھیں بچانے کی کوشش کی تو اُن پر بھی حملہ کیا گیا اور اُنھیں ڈھکیل دیا گیا ۔ یہ معاملہ گوتم بدھ نگر میں فاسٹ ٹریک عدالت میں زیردوراں ہیں اور 7 اپریل کو اس کی سماعت مقرر ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ درخواست گذار کا یہ بیان کہ محض بی جے پی کارکن ہونے کی وجہ سے اُس کے خلاف یہ کارروائی کی جارہی ہے بالکل غلط ہے ۔ واضح رہے کہ دادری واقعہ کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا اور حکومت پر سی بی آئی تحقیقات کیلئے دباؤ بڑھ رہا تھا اس کے باوجود حکومت نے پولیس تحقیقات کو ہی ترجیح دی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT