ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کو اہم کامیابی

گٹلا بیگم پیٹ کے گزٹ نوٹیفکیشن پر حکم التوا سے انکار
حیدرآباد۔2 فبروری (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے گٹلا بیگم پیٹ کی اوقافی اراضی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن پر حکم التوا سے انکار کردیا۔ جسٹس اے رام لنگیشور رائو نے گزٹ نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ تین درخواستوں کی سماعت کے بعد حکم التوا سے انکار کرتے ہوئے درخواستوں کو آئندہ تاریخ کے لیے ملتوی کردیا۔ واضح رہے کہ گٹلا بیگم پیٹ میں مسجد عالم گیر اور عیدگاہ و قبرستان کے تحت سروے نمبرات 1 تا 9 کے تحت 90 ایکڑ 17 گنٹے اراضی موجود ہے جس کے بیشتر حصہ پر ناجائزہ قبضے ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالت نے وقف بورڈ کو ہدایت دی تھی کہ وہ تمام دعویداروں کی سماعت کرے اور ان کی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ وقف بورڈ نے 154 غیر مجاز قابضین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے دستاویزات طلب کی ہے۔ مختلف اداروں اور افراد کی جانب سے وقف بورڈ میں دستاویزات داخل کرتے ہوئے اراضی پر دعویداری پیش کی۔ وقف بورڈ نے اس دعویداری کو مسترد کرتے ہوئے تازہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا اور عدالت میں اسے چیلنج کے اندیشے کے تحت ہائی کورٹ میں کیویٹ پٹیشن فائل کی گئی تھی۔ پلوی اینکلیو اونرس ویلفیر اسوسی ایشن اور دیگر دو افراد نے وقف بورڈ کے گزٹ نوٹیفکیشن کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے حکم التوا کی درخواست کی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اس معاملہ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی جنہوں نے آج وقف بورڈ کے حق میں دلائل پیش کیے۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد جسٹس رام لنگیشور رائو نے وقف بورڈ کی کارروائی کو درست قرار دیا اور حکم التوا سے انکار کیا۔ انہوں نے وقف بورڈ کے موقف کی تائید کی اور درخواستوں کو آئندہ سماعت کے لیے ملتوی کردیا۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کے صدرنشین کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد محمد سلیم نے اس اراضی کے تحفظ کے لیے خصوصی دلچسپی لی تھی۔ انہوں نے مسجد عالم گیر کے اطراف نئی تعمیرات کے انہدام کے لیے پولیس اور ریونیو حکام سے مدد حاصل کی تھی۔ ان کی خصوصی دلچسپی سے ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کو کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ سماعت کے موقع پر بھی وقف بورڈ کا موقف دستاویزات کی بنیاد پر درست ثابت ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT