ہائی کورٹ کی تقسیم میں تاخیر دونوں ریاستوں کیلئے نقصان دہ

ٹی آر سی کے مذاکرے سے پروفیسر مدھو بوشی سریدھر کا خطاب

ٹی آر سی کے مذاکرے سے پروفیسر مدھو بوشی سریدھر کا خطاب
حیدرآباد۔9نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا ریاستوں کے ہائی کورٹ کی تقسیم میںتاخیرکو دونوں ریاستوں کے لئے نقصاندہ قراردیتے ہوئے پروفیسر مدھو بوشی سریدھر نے کہاکہ دونوں ریاستوں کے ہائی کورٹ کی تقسیم میں تاخیر سے تلنگانہ کو ہونے والے نقصانات کی ذمہ دار ی مرکزی حکومت پر عائد ہوگی۔ آج یہاں ٹی آر سی دفتر واقع حمایت نگر میںمنعقدہ 147ویں مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پچھلے ساٹھ سالوں میںآندھرائی قائدین اور عہدیداروں نے تلنگانہ کے ساتھ بڑ ی ناانصافی کی ہے اور ہائی کورٹ کی تقسیم میںتاخیر کے ذریعہ مزید مسائل پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں ہائی کورٹ وکلاء کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا اس موقع پر حوالے بھی پیش کئے اور کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںہائی کورٹ کے اعلی عہدوں پر ساٹھ سالوں سے غیرعلاقائی لوگوں کا تسلط ہے اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد بھی غیر علاقائی عہدیداروں کی اجارہ داری تلنگانہ کے سینئر وکلاء کے ساتھ ناانصافی کا سبب بنے گی۔ انہوں نے ہائی کورٹ میں تقسیم میںتاخیرکے سبب پیدا ہونے والی دیگر دشواریوں کا بھی اس موقع پر تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ تحریک کے دوران ہی جسٹس سدرشن ریڈی نے اس بات کا انکشاف کردیاتھا کہ قانون ساز اداروں میں غیر علاقائی لوگوں کی غیرمعمولی اجارہ داری کے سبب علاقہ تلنگانہ کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ مسٹر ایم راجند ر ریڈی چیرمین تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی‘مسٹر ایس ستیم ریڈی سینئر ہائی کورٹ ایڈوکیٹ‘ جناب مقید ہائی کورٹ ایڈوکیٹ‘مسٹر جی موہن رائو‘ ہائی کورٹ ایڈوکیٹ‘مسٹر رنگا رائو ہائی کورٹ ایڈوکیٹ کے علاوہ دیگر نے بھی اس مذاکرے سے خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT