Monday , May 28 2018
Home / مضامین / ہادیہ کا قبول اسلام اور لوجہاد کی حقیقت

ہادیہ کا قبول اسلام اور لوجہاد کی حقیقت

 

مولانا سید احمد ومیض ندوی
ہمارا ملک ایک عجائب خانہ ہے، جہاں ہر روز کوئی نہ کوئی عجوبہ ظاہر ہوتا رہتا ہے، تاج محل کو بھلے دنیا کا ساتواں عجوبہ قرار دیا جاتا ہو، لیکن ہندوستان کی سب سے زیادہ عجوبے کی چیز یہاں کا فرقہ پرست ٹولہ اور زمام اقتدار سنبھالی ہوئی حکمراں جماعت ہے، اس کی پالیسیوں اور اس کے متضاد اقدامات نے ملک کو اہل عالم کے لیے تماشہ گاہ بنادیا ہے، ملک میں ہر دن ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملتا ہے، سنگھ پریوار اور اس کی پشت پناہ مرکزی حکومت کے دوہرے پیمانے او ران کی منافقانہ چال کب او رکیسے پینترا بدلے گی کچھ نہیں کہاجاسکتا، ابھی کچھ ہی عرصہ قبل کی بات ہے کہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ لے کر نام نہاد مسلم خواتین سے ہمدردی کے لیے وزیر اعظم میدان میں کود پڑے تھے، اور گلا پھاڑ پھاڑ کر مسلم خواتین کی دہائی دے رہے تھے کہ انھیں طلاق ثلاثہ کے شکنجہ سے آزاد کرکے بااختیار بنانا چاہیے، وزیر اعظم زور دے رہے تھے کہ طلاق ثلاثہ مسلم خواتین پر ظلم ہے، حکومت بہر صورت اس ظلم کا خاتمہ کرے گی، مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی خاطر مسلم خواتین سے ہمدردی جتانے اور حقوق نسواں کا ڈھنڈوراپیٹنے والے سنگھی قائدین کو ڈاکٹر ہادیہ کے مسئلہ میں سانپ سونگھ جاتا ہے، انھیں یہاں ایک بالغ لڑکی کی آزادی اور اس کے حقوق پامال ہوتے نظر نہیں آتے، طلاق ثلاثہ کے مسئلہ میں خواتین کے حقوق کو لے کر ہنگامہ کھڑا کرنے والوں کو ڈاکٹر ہادیہ کے حقوق کی پامالی کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا جمہوری ملک میں کسی بالغ مرد یا عورت کو اپنا مذہب تبدیل کرکے من پسند دوسرے مذہب پر عمل کرنے کا آئینی حق حاصل نہیں؟ ہندوستانی دستور یہاں کے ہر بالغ شہری کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بلا جبر واکراہ کسی بھی مذہب کو اپنا کر اس پر عمل کرسکتا ہے،پھر ہادیہ کے معاملہ میں اس کے والدین ریاستی حکومت اور زعفرانی تنظیمیں کیوں واویلا کررہی ہیں؟ اسے کیوں ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے؟ آخر اس مسئلہ میں حکومت کو باقاعدہ کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ہادیہ کو اس کے شوہر سے ملنے کیوں نہیں دیاجاتا؟ حقوق نسواں کی علمبردار تنظیمیں کہاں چلی گئیں؟ آخر وہ ہادیہ کے معاملہ میں کیوں خاموش ہیں؟

کون نہیں جانتا کہ ہندوستان میں بین مذ۱ہب شادیوں کا رواج کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، مخلوط نظام تعلیم ،بڑھتی ہوئی بے حیائی اور مختلف سماجی اسباب کی وجہ سے اس ملک میں آئے دن بین مذہبی شادیاں ہوتی رہتی ہیں، ہر شعبہ میں سیکڑوں افراد ہیں جنھوں نے بین مذہب شادیاں کی ہیں، خود فرقہ پرستوں کے حلقے میں بھی ایسی کئی نامی گرامی شخصیات ہیں جنھوں نے بین مذہب شادی کی ہے، مختار عباس نقوی، شاہنوازحسین اور حالیہ دنوں میں ظہیر خان کی شادی کو آخر لو جہاد کیوں نہیں کہاجاتا؟ ہمارے ملک کی عجیب صورت حال ہے کہ اگر کوئی آئین کی جانب سے حاصل حق کو استعمال کرتے ہوئے اسلام اور عیسائیت سے ہندومت کی طرف آتا ہے تو اس پر کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا، حکومت بھی خاموش رہتی ہے اور بھگوا تنظیمیں بھی چپ سادھ لیتی ہیں، اس کے بر خلاف اگر کوئی ہندوازم سے نکل کر اسلام یا عیسائیت میں آتا ہے تو اس پر ہنگامہ برپا ہوتا ہے، اسے جبری تبدیلی ٔمذہب اور لو جہاد کا نام دیاجاتا ہے، ملک میں سیاسی مقاصد کی برآری کے لیے لو جہاد کا پروپیگنڈہ کوئی نیا نہیں ہے، اس سے قبل بھی اس عنوان سے بہت کچھ ماحول خراب کیا جاچکا ہے اور نتیجہ کچھ نہیں نکلا، لوجہاد کا پروپیگنڈہ کرنے والی طاقتیں کسی ایک ثبوت کے ذریعہ بھی اپنا مدعا ثابت نہیں کرسکیں، لوجہاد کا یہ مکروہ کھیل در اصل اتر پردیش سے شروع ہوا، لیکن چوں کہ بھگوا طاقتیں کیرل جیسی پرسکون ریاست میں اپنے قدم جمانا چاہتی ہیں، اس لیے ڈاکٹر ہادیہ کے معاملہ کو لے کر وہ لوجہاد کا پروپیگنڈہ کررہی ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ ڈاکٹر ہادیہ کے قبول اسلام کا لوجہاد سے کوئی تعلق نہیں ہے، ذرا ہمیں پیچھے کی طرف لوٹنا پڑے گا اور یہ جاننا پڑے گا کہ ڈاکٹر ہادیہ کون ہیں؟ اور ان کی کہانی کیسے شروع ہوئی؟ معروف اردو نیوزپورٹل ملت ٹائمز نے انڈین ایکسپریس اور متعدد انگریزی اخبارات کے حوالے سے ڈاکٹر ہادیہ کے معاملہ کی ابتدائی تفصیلات پر جو کچھ روشنی ڈالی ہے یہاں اس کا خلاصہ پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے،’’ ڈاکٹر ہادیہ ایک نو مسلم دوشیزہ ہے، جس کا سابق نام اَکھیلا ہے، جس کا ریاست کیرالا کے مان کے ٹی وی پورم گاؤں سے تعلق ہے، ہادیہ کے والد ریٹائر آرمی آفیسر ہونے کے ساتھ کیرلا آرا یس ایس یونٹ کے ذمہ داروں میں سے ہیں،ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہادیہ (سابق اَکھیلا) نے تاملناڈو کے شہر سیلم میں واقع شیوراج ہومیوپیتھی میڈیکل کالج اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا، ہادیہ کی کلاس میں کل پچیس طلبہ وطالبات تھیں، جن میں دیویا، ارچنا، راجن، دلنا اور جسینہ ابوبکرکیرلا سے تعلق رکھتے تھے، ہادیہ ہم ریاست ہونے کے سبب انہی ساتھیوں کے ساتھ رہا کرتی تھی، جسینہ کی بہن فسینہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئی، کچھ دنوں کے بعد کیرلا سے تعلق رکھنے والے ان سارے طلبہ وطالبات نے ہاسٹل چھوڑ کر کرایہ پر ایک کمرہ حاصل کیا اور اس میں رہنے لگے، ہادیہ (سابق اَکھیلا) کو پہلی مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہورہا تھا، فسینہ اور جسینہ دونوں بہنیں نمازوں کی پابند تھیں، اور ہادیہ ان کے اس عمل سے دن بدن متأثر ہوئی جارہی تھی، گزرتے وقت کے ساتھ ہادیہ کی اسلام میں دلچسپی بڑھنے لگی، وہ ملیالم کا ترجمۂ قرآن حاصل کرکے مطالعہ کرنے لگی، پھر فیس بک پر قرآنی آیتوں کو پوسٹ کرنا اس کا معمول بن گیا، قرآن اور اسلام سے اس کا تأثر اس قدر بڑھتا گیا کہ اسے ملحد اور بے دین رہنے کے مقابلہ میںاسلام قبول کرنابہتر معلوم ہونے لگا، ہادیہ رفتہ رفتہ ان سب باتوں کو اپنی ماں سے شیئر کرنے لگی، اب تعلیم سے زیادہ اس کی دلچسپی اسلام میں ہونے لگی، وہ اسلامی بیانات کو ڈاؤن لوڈ کرکے سنتی رہتی تھی، اس دوران وہ اپنی سہیلی فسینہ سے اسلام کے بارے میں مشکل سوالات بھی کرنے لگی، جن کے جوابات دینا فسینہ کے بس سے باہر تھا، اس نے بہتر یہی سمجھا کہ ہادیہ کی اس کے والدسے ملاقات کرائی جائے، 2011ء کے رمضان میں وہ اپنے گھر تعطیلات گزار رہی تھی، اس دوران اسے رمضان کے روزے رکھتے دیکھا گیا، رمضان کے بعد عیدالفطر منانے وہ دوسرے ہندو دوستوں کے ساتھ مالاپورم جسینہ کے گھر آئی، اور وہاں اس نے پہلی مرتبہ قبول اسلام کا ارادہ ظاہر کیا، پھر چند سالوں کے بعد 10 ستمبر 2015ء کو ، کوچی پہنچ کر ہادیہ نے ایک وکیل سے اپنے قبول اسلام کی سرٹیفکٹ حاصل کی، اور عائشہ نام رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا، ہادیہ کے اہل خانہ پر اس کے مسلمان ہونے کا انکشاف نومبر میں اس وقت ہوا جب اس نے اپنے دادا کی وفات کے بعد ہندو رواج کے مطابق چالیس روزہ سوگ میں شرکت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ چوں کہ میں مسلمان ہوں اور میرا مذہب اس طرح کے شرکیہ اعمال کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے شریک نہیں ہوسکتی، جنوری 2016ء میں ہادیہ گھر سے نکل گئی، اور مالا پورم پہنچ کر اپنی مسلم سہیلی کے والد ابوبکر کے گھر میں پناہ لی، پھر وہاں سے کالج چلی گئی، پھر اس دوران اس نے ایک وکیل سے ایک اور سرٹیفکٹ حاصل کرلی، جس میں اس کی وضاحت تھی کہ میں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، 6؍ جنوری 2016ء کو جب ہادیہ دوبارہ کالج پہنچی تو اس کے طور طریقے بالکل بدلے ہوئے تھے، اس نے حجاب پہن رکھا تھا، وہ پنجوقتہ نمازوں کی پابند ہوچکی تھی، اور اپنے گھر جانے سے بھی گریز کررہی تھی، ابوبکر کے گھر اس کا آنا جانا تھا، ابوبکر کو ہادیہ کی اس تبدیلی سے خوف ہونے لگا، انھوں نے ہادیہ کے باپ اَشوکن کو اس پوری صورت حال سے آگاہ کیا، اَشوکن نے خبر دی کہ وہ اپنی بیٹی کو لینے ان کے گھر آئیں گے، اس دوران ہادیہ کو ساتھیا سرانی نامی دار الہجرت میں پناہ مل گئی، جہاں نو مسلموں کو دو ماہ کی تربیت دی جاتی ہے، وہاں دو ماہ گزارنے کے بعد ہادیہ نیشنل وومن فرنٹ کی صدر ایس اے زینبہ کے گھر رہنے لگی، یہاں اس کا نام عائشہ سے ہادیہ ہوگیا، اس صورت حال کو دیکھ کر ہادیہ کے باپ نے کیرلا ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، اب ہادیہ کا معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا، ہادیہ کے ساتھ زینبہ کو بھی کورٹ جانا پڑا، ہائی کورٹ نے زینبہ کو حکم دیا کہ وہ فی الحال ہادیہ کو اپنے گھر ہی پر رکھے‘‘

یہ ا بتداسے ہادیہ کی پوری کہانی ہے ، اس میں کہیں بھی لوجہاد جیسی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی، 2011ء سے 2015ء تک شفیع جہاں کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا، اسی عرصہ میں ہادیہ اسلام سے متأثر ہوئی ا ور 2015ء میں اپنے اسلام کا اعلان کیا، ہادیہ کی ابتدائی معاون زینبہ نے صاف وضاحت کی ہے کہ ہادیہ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، ہادیہ نے نومبر 2016ء میں شادی کا منصوبہ بنایا اور اس نے اپنی سی وی ایک شادی کی ویب سائٹ پر ڈال دی، اسی سائٹ پر 2015ء میں شفیع جہاں بھی اپنی سی وی ڈال چکا تھا، شفیع جہاںمسقط میں برسر ملازمت تھا، نومبر 2016ء میں وہ دو ماہ کی تعطیلات میں گھر آیا ، اس کا بھی شادی کا منصوبہ تھا، چوں کہ شفیع جہاں کا ساتھیا سرانی سے تعلق تھا اس لیے اس کی ملاقات زینبہ سے ہوئی، جس نے ہادیہ اور شفیع جہاں کے درمیان رشتہ طے کردیا، اور اپنے گھر سے قریب ایک مسجد میں 19؍ دسمبر 2016ء کو دونوں کا نکاح کرایا، اِدھر ہادیہ کا باپ بھی خاموش نہ رہا، ہادیہ کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے سارے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا، شادی کے دو دن بعد 21؍ دسمبر کو ہادیہ شفیع جہاں کے ساتھ عدالت پہنچی تو اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، ہائی کورٹ نے اسے کالج جانے کا حکم دیا اور اس کے شوہر کو پابند کیا کہ وہ ہادیہ سے کوئی رابطہ نہ رکھے، 24؍ مئی 2017ء کو کیرلا ہائی کورٹ نے اس شادی کو منسوخ کرنے کا فیصلہ دیا، لیکن شفیع جہاں ہمت نہ ہارا،اس نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا، ہماری تحقیقاتی ایجنسیاں کس قدر حکومت کے دباؤ میں ہوتی ہیں، اس کا اندازہ ہادیہ کے معاملہ سے ہوتا ہے،عدالت عظمیٰ نے جب این آئی اے کو اس معاملہ کی تحقیق کا حکم دیا تو این آئی اے کی رپورٹ میں صاف صراحت تھی کی ہادیہ کے قبول اسلام میں لو جہاد جیسی کوئی چیز نہیں ہے، لیکن اس مسئلہ کو پیچیدہ کرنے کے لیے شفیع جہاں کے نام داعش سے تعلق کا الزام دھرا گیا، کیرلا کی حکومت نے بھی تحقیق کروائی اسے بھی کوئی ثبوت نہیں ملا، شفیع جہاں کا کہنا ہے کہ اس نے شادی میں ہادیہ کے باپ کو بھی مدعو کیا تھا ، لیکن وہ شریک نہیں ہوسکے،یہ شادی علاقہ کی مسجد میں ہوئی تھی، جس میں پچاس سے زائد لوگ شریک تھے، پنچایت میریج سرٹیفکٹ بھی بنوائی گئی، ایس پی کی رپورٹ میں بھی دونوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، مئی 2017 ء میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہادیہ کو چھ ماہ تک نظر بند رکھا گیا، شوہر سے ملنے پر پابندی عائد کی گئی، میڈیا کے سامنے آنے اور موبائل استعمال کرنے سے تک روکا گیا، اسے پھر سے پرانے مذہب میں لے آنے کے لیے پنڈتوں کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کی گئی، پریس کانفرس بلا کر ترک اسلام کے اعلان کا دباؤ ڈالا گیا، لیکن سلام ہو ہادیہ کی استقامت پر کہ اس نے سارے کٹھن مراحل طے کیے لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا، ہادیہ موجودہ دور کے ان مسلمانوں کے لیے طمانچہ ہے جو معمولی لالچ پر اسلامی اقدار کا سودا کرتے ہیں، ہادیہ نے اپنے طرز عمل سے اسلام کے اولین دور کی یاد تازہ کردی، ہادیہ کا واقعہ بتاتا ہے کہ حقیقی اسلام اپنے اندر بے پناہ تاثیر رکھتا ہے، اگرچہ سپریم کورٹ نے ہادیہ کو کالج بھیج کر کسی حد تک اسے حق دلایا ہے ،لیکن این آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کا حکم بھی دیا ہے، اس طرح ہادیہ کو ابھی مکمل راحت نہیں ملی ہے، اب داعش سے جوڑ کر اس کے شوہر کو گھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد بھگوا تنظیموں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا، اب وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں اعلان کررہی ہیں کہ وہ چھ ماہ کے اندر 2100 مسلم لڑکیوں کو مبینہ ہندو بہوئیں بنائیں گے، اخباری اطلاعات کے مطابق ہندو جاگرن منچ اترپردیش کے صدر راجو چوہان نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ لو جہاد کا منھ توڑ جواب دینے کا وقت آچکا ہے، ہم اتر پردیش کے تمام اضلاع میں تنظیم کے لیے ہدف طے کریں گے، صوبہ بھر میں2100 مسلم لڑکیوں کو ہندو بنا کر ہندو گھروں میں لایا جائے گا، اس ہدف کو ہم آسانی سے عبور کریں گے، کیوں کہ ہم سے مربوط تقریبا 150 ہندو لڑکے ہیں جن کی دوستیاں مسلم لڑکیوں سے ہیں اور وہ لڑکیاں ان سے شادی بھی کرنا چاہتی ہیں، لیکن خوف کی وجہ سے ایسا کرنا ان کے لیے دشوار ہے، ایسے حالات میں ہم پہلے ان کی شادی کرائیں گے، اور انھیں مکمل سیکوریٹی فراہم کریں گے۔
اس اعلان پر غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ اصل لو جہاد یہ ہے جس کی مہم ہندوفرقہ پرست تنظیمیں پوری قوت کے ساتھ چلا رہی ہیں، کیا ہندو جاگرن منچ کا یہ اعلان قابل گرفت نہیں ہے؟ کیا این آئی اے جیسی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس پر ایکشن نہیں لینا چاہیے؟ ملک کی موجودہ صورت حال مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے مسلم لڑکیوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ عصری تعلیم حاصل کرنے والی اپنی بیٹیوں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہوں، اس کے لیے گھریلو تربیت نہایت ضروری ہے، نیز مخلوط کالجوں سے احتراز بھی ضروری ہے، والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے اپنی اولاد کے دلوں میں دین وایمان کی عظمت راسخ کریں۔
Email: [email protected]

TOPPOPULARRECENT