Thursday , November 22 2018
Home / Top Stories / ہادیہ کا مقدمہ ختم ، مسلم مرد تبدیلیٔ مذہب والی

ہادیہ کا مقدمہ ختم ، مسلم مرد تبدیلیٔ مذہب والی

بیوی کی والدین کی تحویل سے آزادی کا خواہا ں
ہلدوانی ۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اتراکھنڈ کے ایک شخص نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہیکہ اس کی بیوی کو والدین کی تحویل سے آزاد کروایا جائے۔ 20 سالہ عائشہ عرف شویتابھست جس نے اسلام قبول کرلیا ہے، 23 سالہ محمد دانش کے ساتھ فرار ہوگئی تھی کیونکہ اس کے والدین اس کی رشتہ کے مخالف تھے۔ یہ جوڑا ہلدوانی کا متوطن ہے جس نے 19 اپریل کو دہلی میں شادی کرلی۔ ہندوستان ٹائمس کی خبر کے بموجب سپریم کورٹ نے اب اتراکھنڈ پولیس کو ہدایت دی ہیکہ عائشہ کو اس کے اجلاس پر پیش کیا جائے۔ دانش نے پیر کے دن چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی زیرقیادت ایک بنچ پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے اپنی بیوی کے اغواء کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عائشہ کے والدین نے اغوا کی ایک شکایت دانش کے خلاف اتراکھنڈ پولیس میں درج کروائی تھی اور پولیس نے اس جوڑے کو دہلی میں گرفتار کرلیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا نے عائشہ کو حکم دیا کہ وہ چہارشنبہ کے دن عدالت کے اجلاس پر پیش ہو۔ مشرا نے کہاکہ وہ لڑکی سے بات چیت کرنا اور جاننا چاہتے ہیکہ وہ کیا چاہتی ہے۔ کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا اس کے برعکس اس کی خواہش ہے۔ دانش نے اپنی درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور دونوں کی شادی قاضی آباد میں رجسٹرڈ ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے درخواست کا خیال کئے بغیر اور ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل منوج گوکیلا کے یہ کہنے کی پرواہ کئے بغیر کہ شادی کا سرٹیفکیٹ اور نکاح نامہ جعلی ہیں اور یہ ایک اغوا کا کیس ہے۔ اسے گرفتار کرلیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مارچ میں 26 سالہ ہادیہ کی شادی کو درست قرار دیا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا تھا اور ایک مسلم مرد شفین جہاں سے شادی کی تھی۔ کیرالا ہائیکورٹ نے ہادیہ کی شادی فسخ کردی تھی جبکہ اس کے والد نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے تاریخ ساز فیصلہ میں خاتون کے اپنا شریک زندگی منتخب کرنے کے حق کو تسلیم کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT