Sunday , December 17 2017
Home / پاکستان / ’ہارٹ آف ایشیا‘ چوٹی کانفرنس ،انسداد دہشت گردی عہد

’ہارٹ آف ایشیا‘ چوٹی کانفرنس ،انسداد دہشت گردی عہد

مشترکہ اعلامیہ جاری، پریس کانفرنس میں سرتاج عزیز اور وزیرخارجہ پاکستان شریک
اسلام آباد ۔ 9 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے موضوع پر پانچویں ہارٹ آف ایشیاء چوٹی کانفرنس کا اختتام آج رکن ممالک کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے کے عہد پر عمل میں آیا۔ افغانستان کے ساتھ معاشی تعاون کرکے اسے مستحکم کرنے کا بھی عہد کیا گیا۔ 14 رکن ممالک کے قائدین اور وزراء بشمول وزیرخارجہ ہند سشماسوراج 17 تائید کرنے والے ممالک اور 12 تنظیموں نے دو روزہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کی جس میں اسلام آباد اعلامیہ کو منظوری دی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ افغان طالبان کے تمام گروپ امن مذاکرات میں شامل ہوجائیں۔ سرتاج عزیز اور وزیرخارجہ صلاح الدین ربانی نے مشترکہ چوٹی کانفرنس میں اعلامیہ کا اعلان کیا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان کے استحکام کا عہد اور اس کے ساتھ تعاون سے اتفاق اس چوٹی کانفرنس کی بڑی کامیابی ہے۔

دونوں نے تسلیم کیا کہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہاء پسندی مستقل اور سنگین خطرہ اس علاقہ اور دنیا کے تمام ممالک کے امن، سلامتی، استحکام اور معاشی ترقی کیلئے ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہیکہ دہشت گردی کو ختم کرنے کا عہد کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں کی تکمیل کا بھی عہد کیا گیا۔ تمام رکن ممالک نے اتفاق کیا کہ عملی اعتبار سے دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیمیں بشمول القاعدہ، دولت اسلامیہ اور ان کے حلیف ایک سنگین خطرہ ہیں۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ہارٹ آف ایشیاء ٹریبونل کا قیام 2011ء میں عمل میں آیا تھا۔ یہ تمام مسائل کی یکسوئی کیلئے سرگرم رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT