Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / ہاشم انصاری کا بیان توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ، بابری مسجد مقدمہ سے عدم دستبرداری

ہاشم انصاری کا بیان توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ، بابری مسجد مقدمہ سے عدم دستبرداری

سیاسی قائدین کے بیانات پر صرف اظہار ناراضگی ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس معاون کنوینر بابری مسجد کمیٹی کا بیان

سیاسی قائدین کے بیانات پر صرف اظہار ناراضگی ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس معاون کنوینر بابری مسجد کمیٹی کا بیان
حیدرآباد 4 ڈسمبر (سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بابری مسجد کمیٹی کے معاون کنوینر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے وضاحت کی کہ بابری مسجد مقدمہ کے فریق ہاشم انصاری نے مقدمہ سے دستبرداری کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے ہاشم انصاری کے رد عمل کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جس سے عام مسلمانوں میں الجھن پیدا ہورہی ہے۔ ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بابری مسجد تحریک سے طویل عرصہ تک وابستہ رہنے والے اتر پردیش کے وزیر، اعظم خان نے بابری مسجد کے مسئلہ پر جو غیر ذمہ دارانہ بیان دیا تھا اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہاشم انصاری نے کہا کہ جب تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے والے افراد اس طرح کے موقف اختیار کریں تو وہ کیونکر مقدمہ کی پیروی کریں۔ ہاشم انصاری کا یہ بیان دراصل ان کی ناراضگی کا اظہار تھا جس کی انہوں نے آج وضاحت کردی ۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ 50 برس تک بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کرنے والے ہاشم انصاری سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ مقدمہ سے دستبرداری اختیا رکرلیں گے ۔ انہوں نے نہ صرف مقدمہ کی پیروی جاری رکھنے کا اعلان کیا بلکہ اپنے فرزند کو ان کے بعد فریق بننے کیلئے نامزد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاشم انصاری دراصل ایودھیا میں انتہائی دباؤ کے تحت زندگی بسر کررہے ہیں اور مختلف گوشوں سے اُن پر مقدمہ سے دستبرداری کا دباؤ ہے ۔ ایسے وقت جبکہ بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ دار مرکز میں برسر اقتدار ہیں اور رام مندر کی تعمیر کے سلسلہ میں اشتعال انگیز بیانات دیئے جارہے ہیں ایسے میں ہاشم انصاری جیسے بزرگ شخص کا مایوس ہونا فطری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بابری مسجد کے سلسلہ میں جملہ 8 مقدمات زیر دوران ہیں جن میں 7 کی پیروی مسلم پرسنل لاء بورڈ کررہا ہے جبکہ ایک مقدمہ جمعیت العلماء نے دائر کیا ۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ہاشم انصاری صرف ایک مقدمہ کے مدعی ہیں اور اگر وہ باالفرض مقدمہ سے دستبردار بھی ہوجائیں تو اس سے مقدمہ کے موقف پر کوئی فرق نہیںپڑے گا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بابری مسجد مسئلہ پر مذاکرات کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں مقدمہ آخری مراحل میں ہے ۔ سپریم کورٹ جو بھی قطعی فیصلہ کرے گا وہ پرسنل لاء بورڈ کیلئے قابل قبول ہوگا ۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مذاکرات کے سلسلہ میں بورڈ نے جب پہل کی اس وقت فریق ثانی کا رویہ ناقابل قبول تھا۔ فریق ثانی مندر کے انہدام کے ذریعہ مسجد کی تعمیر کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی ملکیت پر کسی بھی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی شرعی طور پر مسجد کے موقف سے دستبرداری اختیار کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی گوشہ نے مذاکرات کے سلسلہ میں پرسنل لاء بورڈ سے ربط قائم نہیں کیا ہے صرف میڈیا میں اس طرح کی باتیں دیکھی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ میں الہ آباد بنچ نے جو فیصلہ سنایا تھا وہ 8000 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ 42000 صفحات پر مشتمل دستاویزات موجود ہیں جو مختلف زبانوں میں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان تمام دستاویزات کے انگلش ترجمہ کی ہدایت دی ہے ۔ اس کام کی تکمیل کے بعد مقدمہ کی باقاعدہ سماعت شروع ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT