Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ہانگ کانگ ، سرمایہ کاری کیلئے ہندوستانیوں کا پسندیدہ مقام

ہانگ کانگ ، سرمایہ کاری کیلئے ہندوستانیوں کا پسندیدہ مقام

سوئزرلینڈ کے علاوہ بھی کئی ممالک کالا دھن جمع کرنے کی محفوظ پناہ گاہیں
حیدرآباد۔14ستمبر(سیاست نیوز) ہندستانیوںکا کالا دھن اب صرف سویزرلینڈ کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف ایشیائی ممالک میں ہندستانیوں کی غیر ملکی سرمایہ کا ری کا سلسلہ جاری ہے اور گذشتہ 10برسوں کے دوران غیر ملکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری میں 90فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے لیکن اب سرمایہ کاری کرنے والوں کے پاس صرف ایک سویزرلینڈ ہی دولت جمع کروانے کے لئے جگہ نہیں رہی بلکہ کئی اور ممالک میں سرمایہ کاری کی جانے لگی ہے اور اب ہندستانیوں کے پسندیدہ مقامات میں ہانگ کانگ سر فہرست ہے جہاں کمپنیو ںمیں سرمایہ کاری کی جانے لگی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ 53فیصد لوگ جو بیرون ملک ٹیکس بچانے کیلئے سرمایہ کاری کرتے ہیں وہ اب ہانگ کانگ ‘ مکاؤ‘ سنگاپور‘ ملیشیاء‘ بحرینترجیح دے رہے ہیںجبکہ 31فیصد ہندستانی دولت سویزرلینڈ کے بینکوں میں جمع ہے۔ جو کہ 2007 میں 58فیصد ہوا کرتی تھی۔ بین الاقوامی معاشی لین دین و منتقلی کا جائزہ لینے والے اداروں کا کہناہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں ہندستانی دولت جمع ہے ا س کی مجموعی دولت کا 31فیصد حصہ سویزرلینڈ میں جمع ہے اور 53 فیصد حصہ ایشیائی ممالک میں جمع ہے جبکہ 14فیصد دولت یوروپی ممالک میں ہے اور 4 فیصد دولت کاریبین میں پائی جاتی ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق 4لاکھ کروڑ تک ہندستانی دولت دنیا کے ان ممالک میں جمع ہے جہاں ٹیکس سے بچنے کے لئے ہندستانی سرمایہ کاروں نے فرضی کمپنیاں کھول رکھی ہیں اور ہندستانی کالے دھن میں 2007 سے 2017کے دوران 90 فیصد اضافہ کے ساتھ یہ دولت کسی ایک مخصوص ملک میں منتقل نہیں ہو رہی ہے بلکہ کئی ممالک کا رخ کیا جانے لگا ہے۔ ہندستانی دولت کی بیرون ممالک میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت قوانین کے باوجود ملکی دولت دیگر ممالک تک پہنچ رہی ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران سنگا پور گاور ہانگ کانگ میں سرمایہ کاری اور دولت کی منتقلی کے رجحان میں ہونے والے اضافہ کے متعلق کہا جارہا ہے کہ ہندستانی سرمایہ کاروں نے حکومت کی جانب سے سویزرلینڈ پر توجہ مرکوز کئے جانے کے بعد ان ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا ہے اور انہیں یہ ممالک محفوظ نظر آنے لگے ہیں جو کہ کالے دھن کو جمع کرنے کے لئے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہو رہے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ بحرین میں بھی فرضی کمپنیوں کے قیام کے ذریعہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے ہندستانی دولت کو منتقل کیا جانے لگا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT