Friday , June 22 2018
Home / دنیا / ہانگ کانگ میں جمہوریت تحریک کے امکانات معدوم

ہانگ کانگ میں جمہوریت تحریک کے امکانات معدوم

ہانگ کانگ۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہانگ کانگ کے جمہوریت حامی احتجاجی مظاہروں کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور احتجاجیوں کے مطالبہ کے مطابق آزادانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن نظر آتا ہے۔ شہر کے پریشان حال چیف ایگزیکٹیو لیونگ چن انگ نے ایک ٹی وی شو میں آج کہا کہ احت

ہانگ کانگ۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہانگ کانگ کے جمہوریت حامی احتجاجی مظاہروں کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور احتجاجیوں کے مطالبہ کے مطابق آزادانہ انتخابات کا انعقاد ناممکن نظر آتا ہے۔ شہر کے پریشان حال چیف ایگزیکٹیو لیونگ چن انگ نے ایک ٹی وی شو میں آج کہا کہ احتجاجی مظاہرین نے حکومت چین سے مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کی سابق نوآبادی میں مکمل جمہوریت بحال کی جائے۔ پورے ہانگ کانگ میں گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصہ سے تمام معمولاتِ زندگی مفلوج ہوچکے ہیں۔ وسیع پیمانے پر خلل اندازی پیدا ہوئی ہے اور احتجاجیوں اور مقامی شہریوں کے درمیان کئی جھڑپیں ہوچکی ہیں، کیونکہ مقامی شہریوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مخالفت کی تھی۔ مقامی ٹی وی چینل میں ان کا انٹرویو آج نشر کیا گیا۔ لیونگ نے کہا کہ سڑکوں پر احتجاج بے قابو ہوچکا ہے اور انتباہ دیا کہ حکومت چین کے موقف میں کسی تبدیلی کے بغیر کوئی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت کو احتجاجی مقامات کی منظوری دینی ہو تو پولیس کو صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے اقل ترین طاقت استعمال کرنی ہوگی۔ اگسٹ میں حکومت چین نے اعلان کیا تھا کہ ہانگ کانگ کے شہری لیونگ کے جانشین کے انتخاب کے لئے 2017ء میں اپنے حق رائے دہی کا انتخاب کرسکتے ہیں، لیکن انتخابات میں صرف دو یا تین امیدواروں کے حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ اس منصوبہ کو احتجاجیوں نے ’جعلی جمہوریت‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ گزشتہ ماہ طلبہ اور جمہوریت حامی احتجاجی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ ان کی تعداد بعض اوقات لاکھوں ہوگئی تھی۔ انھوں نے حکومت چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنا موقف تبدیل کرے اور لیونگ کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے مکمل آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حکومت اور احتجاجیوں کے درمیان بات چیت ناکام ہونے کے بعد احتجاجی مظاہرین اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT