Friday , November 16 2018
Home / ہندوستان / ہاپورمیں مسلمان کو قتل کرنے والا ملزم ضمانت پر رہا

ہاپورمیں مسلمان کو قتل کرنے والا ملزم ضمانت پر رہا

تحقیقات میں پولیس کی لاپرواہی ،ضلع عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کردی
ہاپور ۔ /12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہاپور ہجومی تشدد کیس کی تحقیقات میں لاپرواہی اور خامیوں کے باعث اصل ملزم یدھیسٹر شیشوڈیا کو اس واقعہ کے 20 دن بعد ضلع عدالت کی جانب سے ضمانت منظور کردی گئی ۔ 39 سالہ مسلم مویشی تاجر قاسم اور 65 سالہ سمیع الدین ہاپور کے بجہاڑا خرد موضع میں /18 جون کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس میں قاسم زخموں سے جانبر نہیں ہوسکے اور سمیع الدین دواخانہ میں زیرعلاج ہیں ۔ اگرچیکہ ہاپور پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 302 (قتل) اور 307 کے اقدام قتل کے تحت یدھسٹر شیشوڈیا اور دیگر 4 ملزمین کے خلاف کیس درج کیا تھا ۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ایف آئی آر اور پولیس کیس کی ڈائری میں کوئی مداخلت پائی نہیں جاتی ۔ یدھسٹر کے خلاف مضبوط کیس نہیں بنتا ۔ لہذا ہاپور سیشن کور ٹ کی جانب سے ایک لاکھ روپئے کی ضمانت پر اسے رہا کیا جاتا ہے ۔ دوسرے ملزم راکیش شیشوڈیا نے بھی ضمانت کی درخواست داخل کی ہے جس کی سماعت /19 جولائی کو مقرر ہے ۔ ہاپور پولیس نے ابتداء میں یہ زور دے کر کہا تھا کہ ہجومی تشدد کے واقعہ سڑک کا جھگڑا ہے ۔ بعد ازاں اس نے یہ اعتراف کیا کہ گاؤ کشی کی افواہ پھیلنے کے بعد ہجوم نے دونوں کو زدوکوب کیا ۔ مہلوک قاسم کے ارکان خاندان اور ان کے وکلاء کا الزام ہے کہ پولیس نے دیانتداری سے تحقیقات نہیں کی ۔ ابتداء سے ہی پولیس اس کیس کو مختلف رخ دیتے رہی ۔ قاسم کے چھوٹے بھائی محمد سلیم نے حیرت کا اظہار کیا کہ اصل ملزم کو ضمانت مل گئی ہے جبکہ پولیس نے تیقن دیا تھا کہ وہ خاطیوں کے خلاف مضبوط کیس پیش کرے گی اور انہیں ضمانت ملنا مشکل ہوگی ۔ قاسم کے بھائی نے مزید کہا کہ ہمیں یہجان کر حیرت ہوئی ہے کہ اصل ملزم کو ضمانت ہوئی ہے لیکن ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم اس کیس کو ہائیکو رٹ تک لے جائیں گے اور ضرورت پڑے تو سپریم کور ٹ بھی جائیں گے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ایک اور قاسم کا قتل کردے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ انہوں نے کوئی وکیل نہیں رکھا ۔ جب درخواست ضمانت پر عدالت میں سماعت ہور ہی تھی ہمیں اس کیس میں آنے والی تبدیلیوں سے واقف نہیں کروائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT