Saturday , December 15 2018

ہاکی ورلڈ کپ ،ہندوستان کو43 سال بعد خطاب کا موقع

بھونیشور۔27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام )اڑیسہ کے بھونیشور شہر میں ہاکی ورلڈ کپ کا بگل بج چکا ہے اور میزبان ہندستان43 سال کی خطابی خشک سالی ختم کرنے کے ارادے سے کلنگا اسٹیڈیم میں اتریگا۔ہندستان کو ٹورنمنٹ کے پول سی میں بیلجیم، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے ساتھ رکھا گیا ہے ۔ ہندستان کا پہلا مقابلہ چہارشبنہکو جنوبی افریقہ سے ہوگا اور اسی دن بیلجیم اورکینیڈا کی ٹیمیں بھی آمنے سامنے ہوں گی۔ ہندستان کو گھریلو ناظرین کے بے پناہ تعاون سے یہ مقابلہ جیتنے میں زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے ۔ میزبان ہندستان ورلڈکپ کا خطاب جیتنے والے پانچ ممالک میں شامل ہے اور اس نے اپنا واحد خطاب1975 میں جیتا تھا لیکن اس کے بعد سے ہندستان کبھی سیمی فائنل میں نہیں پہنچ پایا۔ ہندستان نے1971 میں پہلے ورلڈ کپ میں تیسری،1973 میں دوسرے ورلڈکپ میں دوسری اور1975 میں تیسرے ورلڈکپ میں پہلا مقام حاصل کیا تھا۔ ہندستان کا یہی آخری عالمی اعزاز رہا ۔ ورلڈ کپ جیتنے والے چار دیگر ممالک میں پاکستان4 مرتبہ، ہالینڈ3 مرتبہ، آسٹریلیا3 مرتبہ اور جرمنی2 مرتبہ شامل ہیں۔ آسٹریلیا گزشتہ دو مرتبہ کا چمپئن ہے اور وہ خطابی ہیٹ ٹرک بنانے کے ارادے سے اترے گا۔ ٹورنمنٹ کا فارمیٹ دلچسپ ہے ۔ ہر پول میں سب سے اوپر رہنے والی ٹیم براہ راست کوارٹر فائنل میں پہنچے گی جبکہ پول میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہنے والی ٹیم دیگر پول کی دوسرے اور تیسرے مقام پر رہنے والی ٹیموں کے ساتھ کراس اوور کے میچ کھیلے گی۔ کراس اوور کے میچ جیتنے والی ٹیم پھرکوارٹر فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں سے کھیلے گی۔عالمی درجہ بندی میں پانچویں نمبرکی ٹیم ہندستان کی پوری کوشش رہے گی کہ وہ اپنا پول ٹاپ کرے اور براہ راست کوارٹر فائنل میں پہنچے لیکن اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تیسری مقام کی ٹیم اور اولمپک سلورمیڈل فاتح بیلجئیم رہے گی جو اپنے پہلے عالمی خطاب کی تلاش میں ہے ۔ ہندستان کے پول کی دو دیگر ٹیمیں کینیڈا عالمی درجہ بندی میں11 ویں اورجنوبی افریقہ15 ویں نمبر پر ہیں۔15 ہزار شائقین کی صلاحیت والے کلنگا اسٹیڈیم میں ہندستانی ٹیم کو زبردست حمایت ملے گی جو مخالف ٹیم کا حوصلہ پست بھی کر سکتی ہے ۔ ہندستان نے ورلڈ کپ سے پہلے ایک پریکٹس میچ میں اولمپک چمپئن ارجنٹائن کو5-0 سے شکست دی لیکن پریکٹس میچ اورورلڈ کپ میچ میں کافی فرق ہوتا ہے ۔کوچ ہریندر سنگھ کی ہندستانی ٹیم ایشیائی کھیلوں میں اپنا خطاب گنوانے اور برونزمیڈل تک محدود رہنے کے بعد نفسیاتی طور پر دباؤ میں رہے گی۔ کوچ ہریندر اور ٹیم کے کچھ کھلاڑی دو سال پہلے لکھنؤ میں جونیئر ورلڈکپ کا خطاب جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے ۔ ٹیم کو یہ معلوم ہے کہ ٹورنمنٹ میں اچھا آغاز ان کے لئے کامیابی کا راستہ کھول سکتا ہے لیکن کوچ ہریندر چاہیں گے کہ ان کے کھلاڑی اس بڑے اسٹیج پر ان کے لئے بہترین مظاہرہ کریں ۔

TOPPOPULARRECENT