Thursday , June 21 2018
Home / پاکستان / ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ‘ دفاعی ضروریات کا خیال لازمی

ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ‘ دفاعی ضروریات کا خیال لازمی

اسلام آباد ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے آج کہا کہ ان کا ملک علاقہ میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں رہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اپنے دفاعی اور علاقائی سالمیت پر قیام امن کی کوششوں کے نام پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ نظر انداز کرسکتا ہے ۔ نواز شریف نے میان والی فضائی اڈہ کو 1965 کی جنگ کے افسانوی لڑ

اسلام آباد ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے آج کہا کہ ان کا ملک علاقہ میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں رہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اپنے دفاعی اور علاقائی سالمیت پر قیام امن کی کوششوں کے نام پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ نظر انداز کرسکتا ہے ۔ نواز شریف نے میان والی فضائی اڈہ کو 1965 کی جنگ کے افسانوی لڑاکا پائلٹ ایم ایم عالم کے نام معنون کرنے کی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم آزادی کے اپنے حق سے دستبردار ہوجائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے سیاسی ‘ معاشی اور ثقافتی استحکام و سالمیت کا تحفظ کرنا ہے ۔ نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت اس مسئلہ پر واضح موقف رکھتی ہے ۔ ایک طاقتور پاکستان طاقتور مسلح افواج کے ساتھ علاقائی امن کی ضمانت ہے ۔ ان کے ریمارکس ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کے بعد منظر عام پر آئے ہیں

جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمدکرنے والا ملک بن گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے بموجب ہندوستان نے پاکستان تین گنا زیادہ ہتھیار درآمد کئے ہوئے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ ملک کی مسلح افواج بشمول اس کی ائر فورس اور بحریہ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کچھ آیات قرآنی کا حوالہ دیا جن کا مفہم یہ تھا کہ اپنے گھوڑوں کو دشمن کے خلاف تیار رکھو ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے وقت میں اس کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ مسلح افواج کو بہترین ہتھیار فراہم کئے جائیں اور فوجیوں کو انتہائی عصری پیشہ ورانہ ٹریننگ فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو اپنی زائد از ایک بلین آبادی کے مسائل کا خیال رکھنا چاہئے ۔ اس آبادی کی اکثریت خط غربت سے نچلی زندگی گذارنے پر مجبور ہے ۔

وزیر اعظم پاکستان نے جنوبی ایشیائی ممالک پر زور دیا کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہ ہوں بلکہ اس کے برخلاف وہ غربت ‘ ناخواندگی اور بیماریوں جیسی سماجی برائیوں کے خلاف نبرد آزما ہوں۔ اس دوران نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنی افواج کسی بھی ملک کو روانہ نہیں کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے برادرانہ تعلقات رکھنے والے ممالک جیسے سعودی عرب ‘ بحرین اور کویت کے قائدین کے حالیہ پاکستانی دوروں سے واضح ہوجاتا ہے کہ دوستی کی مثال تھے اور انہیں کسی طرح کی قیاس آرائیوں کا شکار کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ عرب ممالک کے قائدین کے پاکستانی دورے پاکستان کے مفاد میں ہیں اور اس طرح کے مزید دورے مستقبل میں ہونے والے ہیں۔ پاکستان نے اس فضائی اڈے کے نام کو آج سے ایم ایم عالم کے نام سے معنون کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT