Friday , November 16 2018
Home / سیاسیات / ہجومی تشدد پر وزیراعظم کی مسلسل خاموشی قابل مذمت

ہجومی تشدد پر وزیراعظم کی مسلسل خاموشی قابل مذمت

مرکزی وزیر جینت سنہا کا مجرمین کی ضمانت پر رہائی پر گلپوشی کرنا دستور کی اہانت: کانگریس
نئی دہلی 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج سوال اُٹھایا کہ وزیراعظم نریندر مودی ملک میں پیش آنے والے ہجومی تشدد کے واقعات پر خاموش کیوں ہیں اور مطالبہ کیاکہ مرکزی وزیر جینت سنہا کو مستعفی ہوجانا چاہئے کیوں کہ اُنھوں نے ہجومی تشدد کے کیس میں 8 مجرمین کی ضمانت پر رہائی کے بعد اُن کی گلپوشی کی ہے۔ کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے کہاکہ وزیراعظم اور صدر بی جے پی امیت شاہ کی اِس معاملے میں خاموشی اور ایک وزیر کی جانب سے مجرمین کی عزت افزائی اِس جرم کے مرتکبین کو ضمانت دینے کے مترادف ہے کہ اُنھیں حکومت کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی اور حکومت پر سماج میں نفرت اور تشدد پھیلانے کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہاکہ اِس مسئلے کو 18 جولائی کو شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں اپوزیشن ضرور اُٹھائے گی۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ وزیراعظم مودی کب واضح طور پر اِس طرح کے تشدد کے واقعات کی مذمت کریں گے جو سماج میں غلط طور پر انتشار پیدا کررہے ہیں۔ کیا وزیراعظم مودی کا ماننا ہے کہ اُن کی خاموشی سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔ کیا مختلف بی جے پی قائدین اس طرح کے مجرمین کی خاموش تائید ایسا حربہ ہے کہ سماج کے کمزور اور پریشان حال طبقات کو مزید دبایا جائے۔ کیا وزیراعظم کی خاموشی اِس طرح کے واقعات کو بڑھاوا نہیں دے رہی ہے؟ تیواری نے یہ بھی استفسار کیاکہ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ آخر کب ایسی ریاستوں سے رپورٹ طلب کریں گے جہاں اِس طرح کے تشدد والے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ تیواری نے اخباری نمائندوں سے بات چیت میں کہاکہ کیوں مودی حکومت اِس خطرناک معاملے میں بدستور مجرمانہ خاموشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا بی جے پی حکمرانی میں یہ ملک ہجوم کے ہاتھوں جمہوریت کا شکار نہیں ہورہا ہے جہاں نراج کا دور دورہ ہوتا ہے۔ خاموش مودی سے ملک کو خاصا نقصان ہورہا ہے۔ جیئنت سنہا پر سخت تنقید کرتے ہوئے تیواری نے کہاکہ اگر وزیراعظم اُنھیں برطرف نہیں کرتے ہیں تو کم از کم اُنھیں اپنے طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اُنھوں نے نشاندہی کی کہ قوم ایسی توقع نہیں کہ کوئی وزیر جو دستور کی پاسداری کا حلف لے وہ خود اِس کی توہین کرتے ہوئے مجرمین کی عملاً پشت پناہی کا کام کرے، یہ جمہوریت کے لئے نہایت خطرناک ہے۔

TOPPOPULARRECENT