Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / ہجومی تشدد کیلئے مرکز اور ریاستیں جواب دہ، قانون سازی کی ہدایت

ہجومی تشدد کیلئے مرکز اور ریاستیں جواب دہ، قانون سازی کی ہدایت

عدم رواداری اور صف بندی بدبختانہ واقعات کا سبب، صورتحال ’طوفان عفریت‘ کی شکل اختیار کرسکتی ہے، گاؤ رکھشکوں اور ہجومی تشدد پر سپریم کورٹ کا انتباہ

نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج واضح طور پر کہاکہ ہجومی غنڈہ گردی کی وحشت ناک سرگرمیوں کو سرزمین وطن کے قانون کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے گاؤ رکھشا اور ہجومی تشدد جیسے مسائل سے سختی کے ساتھ نمٹنے کیلئے قانون وضع کرنے پر غور کے لئے پارلیمنٹ کو ہدایت دیتے ہوئے خبردار کیاکہ ملک بھر میں اس قسم کے واقعات ’آدم خور کے طوفان‘ کی طرح بڑھ سکتے ہیں۔ عدالت عظمی نے کہاکہ سڑکوں پر کوئی تحقیقات، مقدمہ کی سماعت اور سزا نہیں ہوسکتی۔ یہ ریاستوں کا فریضہ ہے کہ تمام شہریوں میں دوستی پیدا کی جائے کیوں کہ عدم رواداری، غلط خبروں اور جھوٹی کہانیوں سے گمراہی کے ذریعہ ہی اس قسم کے ہجومی تشدد کے لئے اُکسایا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے انتہائی تلخ و تند الفاظ میں 45 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کہاکہ اُبھرتی ہوئی عدم رواداری اور بڑھتی ہوئی صف بندی جو اس قسم کے متعدد واقعات کا سبب بنی ہے اس کو روز مرہ کی عام زندگی کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہجومی تشدد اور جنونی ہجوم کے ہاتھوں وحشیانہ زدوکوب کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو بتدریج ’آدم خور نما طوفان‘ کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ جسٹس دیپک مصرا کی زیرقیادت بنچ نے گاؤ دہشت گردی اور ہجومی تشدد جیسے سنگین جرائم سے نمٹنے کے لئے احتیاطی، انسداد، تلافی و تادیبی اقدامات وضع کرنے کے لئے حکومت کو ہدایت کی۔

اس بنچ نے جس میں جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ بھی شامل تھے، کہاکہ ’نیراج و افراتفری کے حالات میں مملکت / حکومت کو مثبت انداز میں کام کرنا ہوگا اس کے ساتھ اپنے تمام شہریوں سے کئے گئے دستوری وعدوں کی حفاظت و پابندی بھی کرنا ہوگا۔ ہجومی برتری و بالا دستی کی وحشتناک حرکتوں کو کسی بھی صورت میں ارض وطن کے قانون کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ اس بنچ نے مزید کہاکہ ’’شہریوں کو اس قسم کے تشدد سے بچانے کے لئے مخلصانہ کارروائی اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس قسم کے تشدد کو ’ایک نیا معمول‘ (زندگی) بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حکومت اپنے عوام پر بڑھتی ہوئی مصیبتوں پر خاموش نہیں رہ سکتی‘‘۔ عدالت عظمیٰ نے کہاکہ اس ضمن میں ایک خصوصی قانون وضع کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ اس سے ہجومی تشدد میں ملوث ہونے والوں میں قانون کے بارے میں ڈر و خوف کا احساس پیدا ہوسکے۔ بنچ نے کہاکہ قانون کی حکمرانی کی برقراری کو یقینی بنانے کے ساتھ سماج میں امن و قانون کو یقینی بنانا ہی ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ بنچ نے کہاکہ ’’ریاستی حکومتوں کی طرف سے ہجومی تشدد اور ہجومی نگرانی و بالادستی کو حکومتوں کی طرف سے کی جانے والی سخت کارروائیوں اور سماج کی چوکسی کے ذریعہ روکا جاسکتا ہے۔ سماج کو چاہئے کہ وہ اس قسم کے واقعات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے سرکاری مشنری اور پولیس کو مطلع کریں۔ ہجومی تشدد اور گاؤ رکھشکوں کی ماورائے دستور سماجی نگرانی جیسے بدبختانہ واقعات کے انسداد کے لئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کی استدعا کے ساتھ مہاتما گاندھی کے پوتے تشار گاندھی اور ایک کانگریس لیڈر تحسین پونے والا نے الگ الگ درخواستیں داخل کیا تھا۔

جس پر فیصلے میں بنچ نے مزید کہاکہ ’’جب کوئی اساسی گروپ کسی مخصوص نظریہ کے ساتھ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس سے نیراج و افراتفری پھیلتی ہے نتیجتاً ایک پرتشدد سماج اُبھرتا ہے وجود میں آتا ہے۔ چنانچہ ہجوم کی نگرانی یا ہجومی تشدد کو بہرصورت وقوع پذیر ہونے کا موقع نہیں دینا چاہئے کیوں کہ یہ قطعی طور پر ایک غلط اور گمراہ کن نظریہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عدالت نے ہجومی تشدد کے واقعات پر افسوس و برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہجومی تشدد کی بڑھتی ہوئی بدبختانہ علت اور کربناک وحشت ایک ایسی سیاہ، تاریک و خوفناک تصویر پیش کررہی ہے جو ہمیں اس اظہار پر مجبور کررہی ہے کہ ہم جس عظیم جمہوریت سے تعلق رکھتے ہیں آیا وہ تنوع و تکثیری معاشرہ کو باقی و برقرار رکھنے والے رواداری کے اقدار کھوچکی ہے۔ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے گاؤ رکھشکوں کی غیر قانونی سماجی نگرانی اور ہجومی تشدد کو روکنے کی درخواست پر اپنے فیصلے میں مزید کہاکہ ’’ایسی صورتحال میں ہمارے ملک کے شہریوں میں جو مختلف مذاہب کو مانتے ہیں، کئی زبانیں استعمال کرتے ہیں اور مختلف ذاتوں، رنگ و نسل کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے مابین اتحاد کی برقراری، باہمی تبادلہ خیال کی ضرورت بھی ہے‘‘۔ عدالت کے حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے ملک کو سالمیت، یکجہتی اور ہم آہنگی کے احساس کو باقی و برقرار رکھنا چاہئے۔ اس عظمت کا جشن منایا جانا چاہئے تاکہ اجتماعی کردار میں وحدت کا جذبہ فروغ حاصل کرسکے۔ (کیوں کہ) تال میل اور ہم آہنگی کے بغیر ہم نادانستہ طور پر ان چاہے انداز میں تباہ کن سانحہ کے راستہ پر پہونچ جائیں گے۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 20 اگسٹ کو مقرر کی گئی ہے۔ مرکز اور ریاستوں کو اس قسم کے جرائم سے نمٹنے کے لئے اس کی ہدایات کی روشنی میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT