Thursday , July 19 2018
Home / Top Stories / ہجومی کے ہاتھوں قتل کے واقعا ت کی روک تھام کے لئے حکومت یا عدالت عظمیٰ قانون بنائے

ہجومی کے ہاتھوں قتل کے واقعا ت کی روک تھام کے لئے حکومت یا عدالت عظمیٰ قانون بنائے

وزیراعظم سے اس معاملے میں وضاحتی بیان دینے یاپھر وزیر کو برخواست کرنے کا مطالبہ‘ مرکزی وزیر جینت سنہا کے علیم الدین کیس کے ملزمین کی حوصلہ افزائی پر ردعمل
نئی دہلی۔ گذشتہ سال 29مارچ کو جھارکھنڈ کے رام گڑھ میں علیم انصاری قتل معاملے میں ضمانت پر رہا ہجومی تشدد کے قصوواروں کو مرکزی وزیرجینت سنہا کے ذریعہ مالا پہناکر میٹھائی کھلاکر حوصلہ افزائی کرنے پر جہاں اپوزیشن پارٹیوں نے انہیں آرے ہاتھوں لیا ہے وہیں ملی ‘ سماجی وسیاسی اور دانشواروں نے اس غیرائینی عمل کے لئے وزیر اعظم سے وضاحت چاہتی کیونکہ کونسل وزیر کا بیان پوری کونسل کا موقف ہوتا ہے ۔

اس کے ساتھ ہی وزیراعظم سے مرکز ی وزیر کو برخواست کئے جانے کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے ۔شاہی امام مسجد فتح پوری ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہاکہ ایک طرف دنیا بھر میں ہندوستان کی شبہہ بنانے کی بات ہورہی ہے دوری طرف سرکاری میں بیٹھے افراد شبہہ خراب کررہے ہیں۔

خواتین ودیگر معاملوں میں ملک کی بہت زیادہ دنیا میں شبہہ خراب ہوچکی ہے اب مجرموں کی حوصلہ افزائی مرکزی وزیر سے کی گئی جو قابل افسوسناک ہے۔ ایسے معاملوں میں حکومت او رعدالت عظمی کو قانون بنانے چاہئے تاکہ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی وارداتوں کو روکا جاسکے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کویسے وزیر پر کاروائی کرتے ہوئے فوراً برخواست کرنا چاہئے۔ ڈاکٹرمفتی مکرم نے اس موقع پر مسلمانوں کو صبر وتحمل سے کام لینے او رقانونی چارہ جوئی کی مانگ کرنی چاہئے۔

جنتادل کے سکریٹری جنرل کنو ر دانش علی نے کہاکہ جب سے مودی حکومت اقتدار میں ائی ہے ملک میں ہجومی تشدد کے معاملے بڑھے ہیں اور اب مہارشٹرا اور تریپورہ وغیرہ میں الگ الگ نوعیت کے معاملے سامنے آرہے ہیں اور ایسے معاملوں میں ملوث اور قصور واروں کی این ڈی اے لیڈر او رحکومت کے وزیرحمایت کررہے ہیں۔

آر ایس پی اور دیگر بی جے پی حامی تنظیموں کی ائیڈیالوجی کو ان کے لیڈر انجام دے رہے ہیں جو ملک کے لئے خطرناک ہے کیوں جب قانون کا راج ہی نہیں رہے گا تب غیرسماجی عناصروں کو بڑھاوا ملے گا۔

کنور دانش نے کہاکہ اب یہ کسی ایک مذہب کا معاملہ نہیں رہ گیاہے او ریگر یہ چلتا رہا تب غریب کی کہیں سنوائی نہیں ہوسکے گی۔

ال انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے صدر ندیم جاوید نے کہاکہ کل ہندمجلس مشاورت کے صدر نوید جاوید نے کہاکہ مرکزی وزیرکونسل وزیرہوتا ہے اگر وہ کوئی بیان دیتا ہے تب وہ پوری کونسل کا موقف بن جاتا ہے ‘ اب تک سرکاری نے کوئی نوٹس نہیں لینا سوال کھڑا کرتا ہے۔

انہو ں نے کہاکہ عدالت انہیں صرف ضمانت دی ہے ‘ یہ اٹھوں ملزم ہیں اور کونسل وزیر کا ان کی حوصلہ افزائی کرنا ائین کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہاکہ گائے کے نام پر ہجومی تشد د میں قتل وغارت گری اور سرکاری کے وزیر ان کی حمایت کررہے ہیں ایسا کروہ جس ائین کا حلف لے کر وزیر بنے تھے اس کی دھجیاں آرارہے ہیں۔

نوید حامد نے کہاکہ ہجومی تشدد پر اور مہارشٹرا میں بچوں کے اغوا کے معاملے میں جانب داری برتی گئی ہے جبکہ مودی سرکار میں 90فیصد ہجومی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ہیومن رائٹس کارکن وسیم احمد غازی نے کہاکہ ملک میں گاؤ کشی کے نام پر ہجومی حملے ہوتے رہے اور جب ان کے خلاف آواز اٹھی تب وزیراعظم کی طرف سے بیان تو دیے گئے لیکن عملی قدم نہیں اٹھایاگیا ہے۔

یہی وجہہ ہے کہ اب مرکزی وزیرجینت سنہا کے ذریعہ ہجومی تشدد کے قصورواروں کو بھی پھول مالائیں اور میٹھائی کھلائی جارہی ہے۔مرکزی وزیر کا یہ عمل ائین کے خلاف او رائین کی دھجیاں آڑانے والا ہے کیونکہ ان کے ذریعہ وزیر بنتے وقت حلف لیاتھا کہ وہ ائین کے تحت کام کریں گے۔

وسیم غازی نے کہاکہ ایسے وزیر کو سرکاری میں بنے رہنے کاکوئی حق نہیں ہے اس کے لئے حکومت اسے بغیرتاخیر کے برخواست کرے۔

ادھرسابق مرکز ی وزیر وسینئر کانگریسی لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد نے گذشتہ روز میڈیا کو دئے بیان میں کہاکہ جن لوگوں کی حوصلہ افزائی پھول مالا اورمیٹھائی کھلاکر کی جارہی ہے ‘ انہیں عدالت نے صرف ضمانت دی ہے کیس سے بری نہیں کیا۔

کیونکہ وہ سزا یافتہ مجرم ہیں اس کے لئے مرکزی وزیر جینت سنہا کے ذریعہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا خطرناک ہے کیونکہ اگر تعلیم یافتہ شخص ایسی غلطی کرے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے جس کے لئے انہیں معافی مانگنی چاہئے۔

اسی تناظر میں سی پی ائی کے قومی سکریٹری اتل کمار انجان نے میڈیا سے کہاکہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیاہے کہ کسی بھیڑ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردے ۔

ساتھ ہی عدالت عظمی نے ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروالی ہونے کی بات کہی ہے لیکن مرکز ی وزیرجینت سنہا کا ایسے لوگوں کا استقبال کرنا جن کو عدلیہ سزا دے چکا ہے کس طرح حمایت اور حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔

ان کا کہناہے تھا کہ وزیراعظم بھی ایسے بیان او رعمل کو زبانی غلط ٹہراتے ہیں او رسپریم کورٹ نوٹس لے چکا ہے تب ان غیرسماجی سماجی عناصر پر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔

اتل کمار انجام نے کہاکہ ملک بھر میں اقلیتوں اور دلتوں پر ہونے والی ہجومی حملوں پر سی پی ائی کی جانب سے چلائی جارہی بیدار ی مہم کے دوران عوام سے بات کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT