Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / ہجوم تشدد کا آلۂ کار اور جھوٹی خبر اسکا آغاز

ہجوم تشدد کا آلۂ کار اور جھوٹی خبر اسکا آغاز

راوش کمار

جاریہ سال کے اوائل میں جب میں یو پی کے اسمبلی انتخابات میں اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کرکے اپنی کار میں بیٹھنے جارہا تھا تو چند اساتذہ جنہوں نے مجھے آتے دیکھا تھا مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس چلے آئے۔ اس وقت ایک نوجوان جس کی عمر 20 اور 30 سال کے درمیان ہوگی، میرے پاس سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ وہ نعرے لگارہا تھا ’’مودی کے خلاف، مودی کے خلاف، میں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اور اساتذہ سے گپ شپ میں مصرورف رہا۔ چند ہی منٹ میں ان کا موڈ بدل گیا اور انہوں نے مجھ سے چلے جانے کی خواہش کی۔ انہوں نے میری کار کو تھپتھپایا اور مجھ سے چلے جانے کی خواہش کی۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مجھ سے کیا غلطی سرزد ہوئی تھی۔ میں نے اپنی کار چلادی اور عقبی آئینے میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہی نوجوان جو ابھی ابھی وہاں سے گزرا تھا چند دوسرے نوجوانوں کے ساتھ میری جانب دوڑرہا تھا۔ وہ اپنی بات کی وضاحت میں نعرے لگارہا تھا۔ حالانکہ اس لڑکے کی عمر مجھ سے نصف ہوگی لیکن وہ اس وقت ایک ہجوم کا حصہ تھا اور خود کو طاقتور سمجھ رہا تھا۔ میری نظر میں عقبی آئینے میں نظر آنے والے منظر پر جمی ہوئی تھیں۔ میں گاڑی چلاتا رہا اور یہ ہجوم پیچھے رہ گیا ایک خشک برگ آوارہ کی طرح جو ایک تیز ہوا کے جھونکے کے روش پر سوار کچھ دور سفر کرتا ہے اور ہوا کا زور ختم ہونے پر گرپڑتا ہے۔ یہ لڑکا اور وہ ہجوم جو اشتعال انگیزی کرسکتا تھا، پیچھے رہنے اور اب نظروں سے اوجھل ہوچکے تھے۔

آج کے سیاسی منظر میں ہجوم انتہائی قابل اعتماد آلہ کار ہے۔ نفرت اس کی گولہ بارود ہے اور جھوٹی خبر اس کا آغاز۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو کسی بھی وقت تیار کیا جاسکتا۔ اس میں گولہ بارود بھرا جاسکتا اور کسی پر بھی داغا جاسکتا ہے۔ یہ صرف گائو رکھشکوں پر منتقل نہیں ہوتا اس میں برہم شہری بلکہ سرکاری ملازمین بھی شامل ہوتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں راجستھان میں ہوا، یہ ہتھیار کہیں بھی اٹھایا جاسکتا ہے یو پی اسمبلی کے مرکز رائے دہی پر، جیسا کہ میں نے دیکھا، کسی لوکل ٹرین میں یا قومی دارالحکومت کے گنجان آباد مضافاتی علاقہ میں اس کا نشانہ کمسن نوجوان بھی ہوسکتے ہیں جو اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں یا صحافی بھی جو ایک کہانی کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ سرکاری طور پر ہماری حکومت اس ہجوم کی تائید نہیں کرتی لیکن آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کونسی پارٹی خاموش رہتی ہے۔ کون خاطیوں کی طرف داری کرتی ہے اور کون متاثرین کی عیادت کرتی ہے۔ ہجوم کی اپنی ایک حکومت اور اس کے اپنے قواعد ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہمارا تمدن تبدیل ہوگیا ہے۔ اکثریت کا ایک بڑا حصہ فرقہ پرستی اور قوم پرستی کو علیحدہ کرنے والے خطوط غیر واصح ہوچکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں سے نفرت ہی ہندوستان سے محبت ہے۔ مادر وطن کے لیے ان کا الجھن زدہ احساس اخوت کے معنی نہیں جانتا۔ وہ دن گزر گئے جب قوم پرستی تنوع میں وحدت کا درس تھی ایک دوسرے کا احترام ہی قوم پرستی تھا۔ آج قوم پرستی کا مطلب لکیر کے فقیر بنے رہنا یا خاموش رہنا ہے۔ ہم خوف کی وجہ سے خاموش ہوجاتے ہیں۔ ہمیں کسی اور چیز سے زیادہ ہجوم کا خوف ہے۔ اس کے اختیارات کو بہت کم چیلنج کیا جاتا ہے۔ 16 سالہ جنید کے قتل کے الزام میں پولیس سی سی ٹی وی جھلکوں کی بنا پر مشتبہ افراد کو گرفتار کرتی ہے۔ لیکن بنیادی طور پر پولیس ان افراد سے جوڑے ہوئے جنید کو پرہجوم ریلوے پلاٹ فارم پر پڑے ہوئے دیکھ رہے تھے یہ پوچھنے سے قاصر رہی کہ جو بھائی جنید کے ساتھ ٹرین پر سوار تھے انہوں نے اس پر حملہ کے وقت ان کی مدد کیوں نہیں کی؟ ہجوموں نے اکثریتی فرقہ کے افراد کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ماہ مئی میں بھوپ سنگھ اور جبر سنگھ ساکن گریٹر نوئیڈا پڑوسی دیہات سے ایک گائے کے ساتھ اپنے گھر واپس ا ٓرہے تھے جبکہ ایک گروپ نے انہیں گھیرلیا اور زدوکوب شروع کردی۔ ڈیری فارمرس بند ہونے کی ان کی التجائیں بہرے کانوں سے سنی گئیں۔ کیوں کہ انہیں گائے کے نام پر مارپیٹ کی جارہی تھی، انہیں بچانے کوئی نہیں آیا۔ واٹس ایپ پر زدوکوب کے ذریعہ مرنے والوں کی اطلاعات عام ہیں۔ 18 مئی 2017ء کو دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں بچوں کو چرانے کی جھوٹی خبر کی بنیاد پرلاٹھیوں اور مہلک ہتھیاروں سے لیس افراد نے زدوکوب کرکے نوجوانوں کو ہلاک کردیا۔ جھارکھنڈ کی یہ خبر دیکھتے دیکھتے واٹس ایپ پر پھیل گئی سوبھاپور دیہات میں مویشیوں کے چار مسلم تاجروں کو ہجوم نے گاڑی سے کھینچ کر نیچے اتارا اور زدوکوب کے ذریعہ ہلاک کردیا۔ اس دن یہاں سے کچھ ہی دور تین ہندو گوتم ورما، وکاس ورما اور گنگیش گپتا سوچھ بھارت مہم سے متعلق کسی کام کے لیے دیہات گئے تھے انہیں مارمار کر ہلاک کردیا گیا۔ چوتھا شخص اتم ورما جان بچاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ دونوں واقعات میں پولیس ہجوم کے غصہ سے مہلوکین کو بچانہ سکی۔ 7 جولائی 2017ء میں بشیر ہاٹ مغربی بنگال کے فرقہ وارانہ فسادات میں فیس بک پر ایک ہندو خاتون کے ساتھ بدسلوکی کا منظر وسیع پیمانہ پر دکھایا گیا۔ یہ 2014ء کی ایک بھوجپوری فلم کا منظر تھا۔ 14 جولائی 2017ء کو ایک بس پر محمد علی جناح کی فوٹو تھی جو بنگلورو میں دکھائی گئی۔ دائیں بازو کی ایک ویب سائٹ پر کوئمبتور سے بس ڈرائیور کو زدوکوب کرنے کی اپیل کی گئی۔ اس بس کا مالک ایک ملیالم فلم کے سیٹ سے تعلق رکھتاتھا۔
بساڑا دیہات سے اخلاق کے واقعہ کی اطلاع نے مجھ پر گہرا اثر مرتب کیا۔ ایک نوجوان میرے ساتھ سیلفی لینا چاہتا تھا۔ اس سے میری بحث ہوگئی تھی۔ اس نے قتل کے ایک واقعہ کو جذبات اور احساسات کے بہانہ جائز قرار دیا تھا۔ مجھے افسوس اس بات کا تھا کہ نوجوان ذہن کسی طرح مکمل طور پر زہریلے ہوگئے ہیں۔ احتجاج کا صرف ایک واقعہ سننے میں آیا جب گجرات کے دیہات ارنا میں دلتوں نے مویشیوں کے ڈھانچے ہٹانے سے انکار کردیا جو ان کا روایتی پیشہ تھا۔ سماج کا ہر طبقہ خوف کے گھونٹ پینے پر مجبور ہے۔ درحقیقت ہر قسم کے انتہا پسند گروپ ابھر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک ڈی ایس پی محمد ایوب پنڈت کو سری نگر کی ایک مسجد کے باہر لوگوں نے گھیر لیا۔ خود اس کے پڑوسیوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ ایسا اخری حملہ نہیں تھا۔ جو افراد ہجوموں کو ہدایت دے رہے ہیں وہ اب بھی موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT