Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ہربھوکے شخص کے پیٹ کو بھرنا کے سی آر حکومت کا مقصد

ہربھوکے شخص کے پیٹ کو بھرنا کے سی آر حکومت کا مقصد

کوئی بھی غریب و مستحق سفید راشن کارڈ سے محروم نہیں رہے گا ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر
حیدرآباد۔20 مارچ (سیاست نیوز) وزیر فینانس و سیول سپلائز ای راجندر نے کہا کہ ہر بھوکے شخص کے پیٹ کو بھرنا کے سی آر حکومت کا مقصد ہے اور ریاست میں کوئی بھی غریب اور مستحق خاندان سفید راشن کارڈ سے محروم نہیں رہے گا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بی جے پی ارکان کشن ریڈی، ڈاکٹر لکشمن اور دوسروں کے سوال کے جواب میں وزیر فینانس نے بتایا کہ تلنگانہ حکومت ہر مستحق کو راشن کارڈ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ سیول سپلائز کا قلمدان سنبھالنے کے بعد انہوں نے محکمہ میں پائی جانی والی بے قاعدگیوں کے خاتمہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ آج محکمہ میں بے قاعدگیوں پر بڑی حد تک قابو پایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2015-16 کے دوران غریبوں کو ایک روپیہ کیلو چاول کی اسکیم پر 6380 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ رعایتی شرح پر چاول سربراہی اسکیم کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے 2665 کروڑ اور مرکز کی جانب سے 3715 کروڑ کی سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر فینانس نے غریبوں کے راشن کارڈس منسوخ کرنے کی شکایات کی تردید کی اور کہا کہ بوگس راشن کارڈس کی جانچ کے سلسلہ میں جو تفصیلات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق بوگس کارڈس کو منسوخ کیا گیا۔ راجندر نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی سبسیڈی غریبوں تک نہیں پہنچنے کا بی جے پی ارکان کا الزام افسوسناک ہے۔ بی جے پی ارکان کو ذمہ داری کے ساتھ اس طرح کے بیانات دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں نیشنل فوڈ سکیوریٹی ایکٹ منظور کیا گیا تھا تاکہ غریبوں کو رعایتی قیمت پر چاول فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ایک کروڑ 91 لاکھ 69 ہزار 600 افراد کو ایک روپیہ کیلو چاول سربراہ کیا جارہا ہے۔ اس سے 50.5 لاکھ خاندان مستفید ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں ایک خاندان کو 20 کیلو چاول کی حد مقرر تھی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے ایک روپیہ کیلو چاول کے علاوہ ہر فرد خاندان کو 6 کیلو ماہانہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک خاندان میں جتنے بھی افراد ہوں گے انہیں فی کس 6کیلو کے حساب سے چاول سربراہ کیا جارہا ہے۔ راجندر نے کہا کہ 2 کروڑ 74 لاکھ 66 ہزار کارڈس جاری کیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سیول سپلائز کے لیے بجٹ میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ بجٹ میں جاریہ سال 2700 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ انہوں نے جان بوجھ کر راشن کارڈس منسوخ کرنے اور غریبوں کو ہراساں کرنے کی شکایات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ غریب خاندانوں کو چاول سربراہ کیئے جارہے ہیں۔ نئے کارڈس کی اجرائی میں تاخیر کی شکایت پر وزیر فینانس نے بتایا کہ نئے اضلاع کے اعتبار سے کارڈس کی تیاری کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشن کارڈ کے غلط استعمال کی بھی شکایات ملی ہیں۔ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کے لیے راشن کارڈ حاصل کیا جارہا ہے اور اسے راشن ڈیلر کے پاس محفوظ کیا جاتا ہے۔ راشن ڈیلر ان کارڈس کے ذریعہ چاول کو بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔ بی جے پی فلور لیڈر کشن ریڈی نے شکایت کی کہ ایک ہزار روپئے سے زائد پراپرٹی ٹیکس اور الیکٹرسٹی بل ادا کرنے والے خاندانوں کو راشن کارڈ سے محروم کیا جارہا ہے۔ مختلف محکمہ جات سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ کئی ایسے غریب افراد جنہوں نے بینک قرض سے 4 وہیلر خریدی اور کرایہ پر چلارہے ہیں انہیں بھی راشن کارڈ سے محروم کردیا گیا۔ کارڈس کی منسوخی کے سلسلہ میں کشن ریڈی نے بعض دستاویزات اسپیکر کے ذریعہ متعلقہ وزیر کے حوالے کیئے۔ ڈاکٹر لکشمن نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد ایک بھی نیا کارڈ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت رعایتی چاول کی اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں ہر ممکن مدد کررہی ہے۔ سی ایچ رام چندر ریڈی اور ایم وی وی ایس پربھاکر نے بھی غریبوں کے کارڈس منسوخ کرنے کی شکایت کی اور حکومت پر مخالف غریب پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT