Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / ہریانہ میں تازہ تشدد ‘ احتجاجیوں کا سکیوریٹی فورسیس پر حملہ ‘ مزید 3 ہلاک

ہریانہ میں تازہ تشدد ‘ احتجاجیوں کا سکیوریٹی فورسیس پر حملہ ‘ مزید 3 ہلاک

شاہراہوں کی صفائی کیلئے طاقت استعمال کرنے مرکز کی ہدایت ۔ مہلوکین کے لواحقین کو 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان
چندی گڑھ 22 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ہریانہ میں جاٹ برادری کی جانب سے تحفظات کے مطالبہ پر کئے جا رہے احتجاج کے دوران آج بھی تشدد کا سلسلہ جاری رہا جبکہ سنگباری کرنے والے ہجوم نے سکیوریٹی عملہ پر حملہ کردیا جبکہ یہ عملہ یہاں سڑکوں پر رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف تھا ۔ اس حملہ کے بعد یہاں جھڑپیں شروع ہوگئیں جن کے نتیجہ میں تین عام شہری ہلاک ہوگئے ۔ اس طرح یہاں گذشتہ نو دنوں سے جاری احتجاج کے دوران مرنے والوں کی تعداد 19 ہوگئی ہے ۔ یہ جھڑپ سونی پت میں پیش آئی جس کے نتیجہ میں نو افراد زخمی بھی ہوگئے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے کئی اضلاع بشمول روہتک ‘ کاھیتل اور ہسار میں آگ زنی اور تشدد کے دوسرے واقعات بھی پیش آئے ۔ چونکہ احتجاجی کچھ سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کئے ہوئے تھے جن میں دہلی ۔ انبالہ ہائی وے بھی شامل ہے مرکزی حکومت نے سکیوریٹی فورسیس کو ہدایت دی کہ وہ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے راستہ صاف کریں۔ مرکزی حکومت کے ایک عہدیدار نے دہلی میں بتایا کہ سکیوریٹی فورسیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ تمام مقامات پر جہاں احتجاجی بیٹھے ہوئے ہیں راستے صاف کردیں۔ اس احتجاج کی وجہ سے مواصلاتی نیٹ ورک متاثر ہے اور سربراہی آب رکی ہوئی ہے ۔ آل انڈیا جاٹ آرکشن سنگھرش سمیتی کے بعد ازاں شام میں اعلان کیا کہ وہ قومی اور ریاستی شاہراہوں پر دھرنا ختم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی نے مرکزی وزیر کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سونی پت کے ڈپٹی کمشنر راجیو رتن نے کہا کہ فوج ‘ نیم فوجی دستوں اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے ضلع میں روڈ بلاکیڈ کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان پر ایک ہجوم نے حملہ کردیا ۔ انہوں نے سنگباری کی اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا ۔ اس حملہ میں کچھ اہلکار زخمی بھی ہوگئے ۔ سونی پت میں پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان جھڑپوں میں مرنے والے تین افراد کی گاندھی نگر کے سنی ‘ ساملی کے راجیش اور فانسی سونی پت کے سندیپ کی حیثیت سے ہوئی ہے ۔ ہجوم نے اس واقعہ کے بعد مزید تشدد برپا اور سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کیا ۔ یہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور سکیوریٹی فورسیس پر حملے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ سارے علاقہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے ۔ فوج کے دو کالموں اور سی آر پی ایف و ہریانہ پولیس کے دستوں کی جانب سے موناک کنال کا کنٹرول حاصل کرنے کے چند گھنٹوں میں تشدد کے یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ احتجاجیوں نے اس کنال پر قبضہ کرتے ہوئے دہلی کو اکبر پور ۔ بروٹا سے سربراہی آب روک دی تھی ۔ آگ زنی اور تشدد کے تازہ واقعات کے بعد ہنسی سب ڈویژن کے پانچ گاووں اور ‘ ہسار و کائیتھل میں کرفیو دوبارہ نافذ کردیا گیا ۔ سینئر وزیر رام بلاس شرما نے میڈیا سے کابینی اجلاس کے بعد بتایا کہ اب تک جاٹ احتجاج میں 16 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ کابینی اجلاس کی صدارت چیف منسٹر منوہر لال کھتر نے کی تھی ۔ انہوں نے احتجاج ختم کرنے کی تازہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں جاٹ تحفظات مسئلہ پر ایک بل پیش کیا جائیگا ۔ جاٹ احتجاجیوں کی جانب سے روہتک ‘ ہسار اور بھیوانی اضلاع میں کچھ شاہراہوں پر راستہ ہنوز روکا ہوا ہے ۔ ہسار سے مختلف مقامات جیسے دہلی ‘ لدھیانہ ‘ بھیوانی اور سدولپور کیلئے ریلوے ٹریفک بھی معطل ہوئی ہے ۔ اس دوران حکومت ہریانہ نے جاٹ احتجاج کے دوران ہونے والے جان و مال کے نقصانات کیلئے معاوضہ کا اعلان کردیا ہے ۔ حکومت نے مہلوکین کے لواحقین کو 10 لاکھ روپئے دینے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت نے جائیدادوں کے نقصان کا بھی مکمل معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور رام بلاس شرما نے یہ بات بتائی ۔ نقصانات کا جائزہ لینے آئی اے ایس عہدیدار کو نوڈل آفیسر کی حیثیت سے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT