Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / ہریانہ میں جاٹوں کی پرتشدد احتجاجی تحریک

ہریانہ میں جاٹوں کی پرتشدد احتجاجی تحریک

ہولناک واقعات کی سی بی آئی تحقیقات کی سفارش
چندی گڑھ ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : حکومت ہریانہ نے روہتک میں جاٹوں کی تحریک تحفظات کے دوران پیش آئے تشدد اور آتشزنی کے واقعات بشمول ریاستی وزیر فینانس کیپٹن ابھمنیو کی قیام گاہ پر حملہ کی سی بی آئی تحقیقات کے لیے سفارش کی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ احتجاجی تحریک کے دوران بڑے پیمانے پر عوامی املاک کو نذرآتش اور لوٹ مار کے واقعات بشمول انسپکٹر جنرل پولیس کی قیام گاہ ، سرکیوٹ ہاوز ، ریاستی وزیر کے مکان اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی مجرمانہ اور سیاسی پہلو سے تحقیقات کے لیے مرکز سے درخواست کی گئی ہے ۔ تعلیم اور روزگار کے شعبہ میں تحقیقات کے مطالبہ پر روہتک شہر جاٹ تحریک کا مرکز و منبع تھا ۔ جس کے دوران 30 افراد کی موت اور کروڑہا روپئے کی املاک کو تباہ و تاراج کردیا گیا تھا ۔ احتجاجیوں نے کئی ایک سرکاری اور خانگی عمارتوں بشمول کیپٹن ابھمنیو کے آبائی مکان کو نقصان پہنچایا تھا ۔ جس پر زبردست غم و غصہ کی لہر پیدا ہوگئی تھی ۔ حتی کہ 19 فروری کو ہجوم نے ریاستی وزیر کے مکان میں گھس کر خاندان کے 9 ارکان کو زندہ جلادینے کی کوشش کی تھی اس وقت ریاستی وزیر چندی گڑھ میں تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میرے خاندان کے صفایا کے لیے سیاسی سازش کی گئی ہے ۔ جس میں شرپسند عناصر اور سیاسی مخالفین شامل ہیں ۔ انہوں نے مرکزی ادارہ کی جانب سے تحقیقات کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہر کوئی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔۔

TOPPOPULARRECENT