Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / ہریانہ کے 2آئی پی ایس عہدیداروں میں جنگ

ہریانہ کے 2آئی پی ایس عہدیداروں میں جنگ

پولیس کمشنر گرگاوں کے خلاف جوائنٹ کمشنر کا سنگین الزام
گرگاؤں؍ پنچ کولہ ۔/29ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) ہریانہ پولیس کو پشیماں اور پریشان کرتے ہوئے گرگاؤں کے دو آئی پی ایس عہدیداروں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جبکہ جوائنٹ کمشنر شریمتی بھارتی ارورا نے پولیس کمشنرنودیپ سنگھ ویرک پر الزام عائد کیا ہے کہ ایک خاندان کو عصمت ریزی کے جھوٹے کیس میں پھانس دیا اور اعتراض کرنے پر انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں تاہم پولیس کمشنر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ایک شخص کی لڑائی اب ڈائرکٹر جنرل پولیس وائی پی سنگھل تک پہنچ گئی ہے جنہوں نے بتایا کہ پورے معاملہ کی چھان بین ایک سینئر آفیسر کریں گے۔ جوائنٹ پولیس کمشنر نے بتایا کہ ایک عصمت ریزی کیس کی تحقیقات میں نے جب شروع کی تو پتہ چلا کہ پولیس کمشنر نے ایک خاندان کو غلط طریقہ سے ماخوذ کردیا ہے اور میں نے اعتراض کرتے ہوئے ان سے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے جس کے بعد مجھے ذہنی طور پر ہراساں کرتے ہوئے دھمکیاں دینے لگے اور مجھ سے کہا گیا کہ کیس کی تحقیقات سے سبکدوش ہوجائیں بصورت دیگر انہیں نقصان اٹھانا پڑیگا۔ شریمتی بھارتی ارورہ نے یہ ادعا کیا کہ جس خاتون نے عصمت ریزی کی شکایت درج کروائی ہے قبل ازیں اس نے 3 مزید عصمت ریزی کیس درج کروائے تھے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس کو روانہ ایک مکتوب میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ نودیپ سنگھ کیس کی تحقیقات پر انہیں ذہنی طور پر ہراساں کررہے ہیں اور کیس کی فائیلس کی شخصی طور پرنگرانی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پورے معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کروائی جائے تاکہ حقائق آشکار ہوسکیں۔ بصورت دیگر ایک خاندان ناکردہ گناہوں کی سزاء پائے گا وہ بھی ایک ایسی خاتون کے کرتوتوں کی وجہ سے جس نے اب تک مزید تین عصمت ریزی کیسس درج کروائے ہیں۔ جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نودیپ سنگھ ویرک نے کہا کہ یہ الزامات بالکلیہ غلط ہیں۔ اگر کوئی کچھ کہتا ہے تو میں کیاکرسکتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں عہدیداروں نے بھی تحقیقات اور مناسب کارروائی کیلئے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے رجوع ہوئے ہیں چونکہ یہ سرکاری معاملہ ہے لہذا محکمہ پولیس ہی نمٹ لے گا۔ دریں اثناء پنچ کولہ میں ریاستی پولیس سربراہ نے بتایاکہ مذکورہ کیس سے متعلق دونوں آفیسروں نے علحدہ علحدہ مراسلت کی ہے اور پورے معاملہ کی ایک سینئر عہدیدار تحقیقات کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT