Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / ہریش راؤ اور کے ٹی آر میں بڑھتی دوریاں

ہریش راؤ اور کے ٹی آر میں بڑھتی دوریاں

ٹی آر ایس دو ماہ سے مسلسل موسم بہار میں
ہریش راؤ اور کے ٹی آر میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ بظاہر دونوں کی جانب سے اور پارٹی کی جانب سے ہمیشہ تردید کی جاتی رہی لیکن حقیقت تو اپنی جگہ ہے۔ جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کے بعد چیف منسٹر کی دختر و رکن پارلیمنٹ ٹی آر ایس مسز کویتا نے اپنے بھائی کے ٹی آر کو اپنے والد چیف منسٹر تلنگانہ کے سیاسی وارث کے طور پر پیش کرتے ہوئے ہریش راؤ اور کے ٹی آر کے مابین دوریوں میں مزید اضافہ کیا۔

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ تحریک اور ضمنی انتخابات کی چمپئن ٹی آر ایس نے ماضی کے اپنے تمام ریکارڈس کو توڑتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد منعقد ہونے والے 2014 ء کے عام انتخابات کے بعد سے سوائے تین کونسل انتخابات کے تمام انتخابات میں ٹی آر ایس نے نہ صرف اپنی کامیابی کے سلسلہ کو برقرار رکھا بلکہ کامیابی کی اکثریت میں ہر مرتبہ اضافہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے کیمپ میں مایوسی کو بتدریج بڑھا دیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 150 کے منجملہ 99 بلدی ڈیویژنس پر پارٹی امیدواروں کو کامیاب بناتے ہوئے کے ٹی آر نے جہاں اپنے والد چیف منسٹر کے سی آر کے بھروسے کو قائم رکھا وہیں بھانجے ہریش راؤ نے نارائن کھیڑ کے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کے امیدوار کو کامیاب بناتے ہوئے اپنے ماموں چیف منسٹر تلنگانہ کی آزمائش پر کھرے اترے۔ سیاسی طور پر جائزہ لیا جائے تو دونوں انتخابات ٹی آر ایس کے لئے وقار کا مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ کمزور موقف کے باعث 2009 ء میں منعقدہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں ٹی آر ایس نے مقابلہ نہیں کیا تھا۔ کانگریس کو اقتدار اور مجلس سے اتحاد و مفاہمت کے باوجود اُس وقت 52 بلدی ڈیویژنس پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اس مرتبہ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے جی ایچ ایم سی انتخابات کی ذمہ داری اپنے فرزند ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کو سونپی۔ کے ٹی آر نے دو ماہ قبل سے انتخابی کمان سنبھال لی تھی۔ پارٹی کے تمام قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے قائدین کا پارٹی میں خیرمقدم کیا اور مشن 100 کا ٹارگٹ رکھتے ہوئے زبردست انتخابی مہم چلائی اور 99 بلدی ڈیویژنس پر ٹی آر ایس کو کامیاب بناتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ 2009 ء میں 52 بلدی ڈیویژنس حاصل کرنے والی کانگریس کو 2 اور 45 ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کرنے والی تلگودیشم کو صرف ایک نشست تک محدود کردیا۔ بی جے پی کو صرف ایک نشست کا نقصان ہوا اور اس کے 4 امیدوار کامیاب ہوئے۔ جبکہ مجلس نے 44 بلدی ڈویژنس پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی عددی طاقت کو برقرار رکھا۔ پارٹی کو شاندار کامیابی دلانے پر کے سی آر نے انعام کے طور پر اپنے فرزند کے ٹی آر کو وزارت بلدی نظم و نسق کا قلمدان حوالہ کیا۔ اسمبلی حلقہ نارائن کھیڑ کانگریس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا تھا۔جہاں کانگریس کے رکن اسمبلی پی کشٹا ریڈی کے انتقال کے بعد ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔ کے سی آر نے اس حلقہ میں اپنی پارٹی کی کامیابی کی ذمہ داری اپنے بھانجے ہریش راؤ کو سونپی جسے ہریش راؤ نے چیلنج کے طور پر قبول کیا۔ ایک ماہ تک نارائن کھیڑ میں قیام کرتے ہوئے پارٹی امیدوار کی کامیابی میں شاندار رول ادا کیا۔ پارٹی امیدوار کو 53 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی دلاتے ہوئے اسمبلی حلقہ نارائن کھیڑ اپنے ماموں و چیف منسٹر کے سی آر کو سالگرہ کا تحفہ دیا۔ جس پر چیف منسٹر نے اُنھیں شاباشی دی۔ چیف منسٹر کی جانب سے اپنے فرزند کو وزارتی قلمدان دیئے جانے کے بعد ہریش راؤ کے حامیوں کو بھی چیف منسٹر سے توقعات وابستہ ہیں۔ توقعات و بے چینی کہیں بغاوت میں تبدیل نہ ہوجائے اس پر غور کرنا چیف منسٹر کا کام ہے۔ یہ بھی سنا جارہا ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ کی سالگرہ کے موقع پر ہریش راؤ کو نظرانداز کیا گیا۔ جشن میں ہریش راؤ منظر سے غائب تھے۔ پوسٹرس اور اشتہارات میں ان کی تصاویر برائے نام دیکھی گئی۔ ہریش راؤ اور کے ٹی آر میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ بظاہر دونوں کی جانب سے اور پارٹی کی جانب سے ہمیشہ تردید کی جاتی رہی لیکن حقیقت تو اپنی جگہ ہے۔ جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس کی شاندار کامیابی کے بعد چیف منسٹر کی دختر و رکن پارلیمنٹ ٹی آر ایس مسز کویتا نے اپنے بھائی کے ٹی آر کو اپنے والد چیف منسٹر تلنگانہ کے سیاسی وارث کے طور پر پیش کرتے ہوئے ہریش راؤ اور کے ٹی آر کے مابین دوریوں میں مزید اضافہ کیا۔

ایک بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے ٹی آر ایس کو مکمل اکثریت عطاء کرتے ہوئے اقتدار پر فائز کیا۔ ٹی آر ایس کی حلیف مجلس کی حکومت کو تائید حاصل ہے۔ کئی موقعوں پر مجلس نے ٹی آر ایس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کا ثبوت بھی پیش کیا۔ پھر کیا وجہ ہے ترقیاتی کاموں کے ذریعہ عوام کے دلوں کو جیتنے کے بجائے چیف منسٹر دوسری جماعتوں سے کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے میں دلچسپی دکھارہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو کسی سے کوئی خوف ہے؟ کیا پارٹی میں بغاوت کا خطرہ ہے۔ کیا پارٹی اور حکومت میں کوئی گروپ تیار ہورہا ہے؟ جس کی امکانی طاقت کو زائل کرنے اور اس کے پاس جو عددی طاقت ہے اسے بے اثر کرنے کے سی آر دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے مستقبل کے سیاسی خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ یہ ایسے حقائق ہیں جو عوام اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں جس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک ہی چہرہ سامنے آتا ہے جس کا نام ہریش راؤ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی صفوں میں یہ افواہیں گشت کررہی ہیں کہ ہریش انھیں حکومت اور پارٹی میں نظرانداز کرنے کی وجہ سے پارٹی قیادت سے ناراض ہیں۔ جس طرح چندرابابو نائیڈو نے آنجہانی این ٹی آر سے بغاوت کی تھی اسی طرح ہریش راؤ بھی کے سی آر سے بغاوت کرسکتے ہیں۔ تمام امکانی خطرات سے نمٹنے کے لئے ضرورت نہ ہونے کے باوجود چیف منسٹر تلنگانہ دوسری جماعتوں کے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کررہے ہیں تاکہ اقتدار کو دھکہ نہ لگ سکے۔

گزشتہ 20 ماہ سے حکمران ٹی آر ایس کیلئے موسم بہار چل رہا ہے تو وہیں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص تلگودیشم پارٹی بحران سے دوچار ہے۔ مسلسل کامیابیوں سے ٹی آر ایس کیڈر میں جوش و خروش پایا جاتا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کے کیمپ میں گہری مایوسی ہے۔ حالیہ انتخابات میں اپنی ضمانت بچانے میں ناکام رہی تلگودیشم پارٹی کیلئے بڑا جھٹکہ یہ ہے کہ اس کے 15 کے منجملہ 10 ارکان اسمبلی نے نہ صرف ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی بلکہ تلنگانہ تلگودیشم مقننہ پارٹی کے قائد ای دیاکر راؤ نے اسپیکر اسمبلی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ تلگودیشم مقننہ پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جس سے تلگودیشم پارٹی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ سربراہ تلگودیشم و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر چندرابابو نائیڈو وجئے واڑہ سے فوراً حیدرآباد پہونچے اور تلنگانہ تلگودیشم کے ارکان اسمبلی و دیگر قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انھیں پارٹی نہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر کی موجودگی میں پارٹی نہ چھوڑنے کا اعلان کرنے والے ضلع محبوب نگر کے ایک رکن اسمبلی نے اجلاس سے گھر پہونچنے تک اپنا ذہن تبدیل کردیا اور گھر پہونچ کر تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا اعلان کردیا جس سے تلگودیشم کیڈر کے حوصلے کافی پست ہوئے۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں 100 بلدی ڈیویژنس پر ضمانت سے محروم ہونے والی کانگریس نے اسمبلی حلقہ نارائن کھیڑ میں ہمدردی کے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ لیکن کانگریس امیدوار نے اپنی ضمانت بچائی۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی پر بھی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے دباؤ ہے۔ فی الحال کانگریس کے کسی بھی رکن اسمبلی نے سیاسی وفاداری تبدیل نہیں کی۔ کئی ارکان اسمبلی کے بارے میں افواہیں جاری ہیں۔ سابق وزراء ڈاکٹر جے گیتا ریڈی اور مسز ڈی کے ارونا نے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی تردید کی ہے۔ آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس اُمور مسٹر ڈگ وجئے سنگھ آندھراپردیش کا دورہ کرنے سے قبل حیدرآباد میں توقف کیا۔ پارٹی کے ناقص مظاہرہ پر ذمہ دار قائدین سے وضاحت طلب کی۔ ڈی ناگیندر نے اپنی جانب سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد سٹی کانگریس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ جبکہ ضلع رنگاریڈی کانگریس کے صدر ملیش سے کانگریس ہائی کمان نے استعفیٰ طلب کیا۔ گریٹر حیدرآباد اور ضلع رنگاریڈی کانگریس صدارت کے ساتھ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عاملہ کی تشکیل پر مشاورت کا آغاز ہوگیا ہے۔

حکمراں ٹی آر ایس انتخابات کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا یقین دلارہی ہے۔ انتخابات میں مسلسل کامیابی ہورہی ٹی آر ایس کے قائدین عوام کے درمیان ہیں لیکن کانگریس کے قائدین پریس کانفرنس کے ذریعہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے تک محدود ہوچکے ہیں۔ عوام کے درمیان ان کی رسائی نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہیں کہ کانگریس کے پاس صرف لیڈرس ہیں کیڈر نہیں اور قائدین میں گروپ بندیاں اور اختلافات پارٹی کے لئے شدید نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی قائدین میں احساس برتری پیدا ہوچکی ہے اور ہر قائد اپنے آپ کو سب کچھ تصور کررہا ہے۔ سابق وزراء ہوں کہ منتخب عوامی نمائندے یا موجودہ منتخب نمائندے پارٹی کی نازک حالت میں پارٹی کو سہارا دینے یا بڑھ چڑھ کر کام کرنے کے بجائے پروگرامس اور پارٹی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی شکایت کررہے ہیں اور عہدوں پر موجود قائدین کو پارٹی کی ناکامی کے لئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی کے قائدین اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیں اور اپنے آپ کو گاندھی بھون یا اسمبلی تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف پروگرامس کے ذریعہ عوام کے درمیان پہونچیں اور کھویا ہوا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جی ایچ ایم سی انتخابات کے بعد تلگودیشم اور بی جے پی اتحاد کو دھکہ لگا ہے۔ تلنگانہ کے تمام بی جے پی اضلاع کمیٹیوں نے قرارداد منظور کرتے ہوئے تلگودیشم سے اتحاد ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ بی جے پی قیادت نے ان قراردادوں کو ہائی کمان تک پہنچادیا۔ بی جے پی کا احساس ہے کہ تلگودیشم کی مخالف تلنگانہ تحریک سے تلنگانہ میں بی جے پی کو نقصان پہنچ رہا ہے او رتلنگانہ میں تلگودیشم سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ تلگودیشم سے عوامی ناراضگی کا بی جے پی کو خمیازہ بھگتنا پڑرہا ہے اس لئے بی جے پی تلگودیشم سے تعلقات ختم کرلینے پر غور کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT