Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ہریش راؤ کو سبیتا اندرا ریڈی کا چیلنج

ہریش راؤ کو سبیتا اندرا ریڈی کا چیلنج

حیدرآباد /8 ستمبر (سیاست نیوز) سابق ریاستی وزیر داخلہ سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کے خاندان میں چار عہدے ہو سکتے ہیں تو ضلع رنگاریڈی کو دو ندیوں سے پانی کی سربراہی پر حکومت کو اعتراض کیوں ہے؟۔ آج احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سدی پیٹ کو پانی سربراہ کرنے کے لئے ریاستی وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ ضلع رنگا ریڈی کو بلی کا بکرا بناتے ہوئے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کا ڈیزائن تبدیل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں سات اضلاع کی فصلوں کو پانی سربراہ کرنے کے علاوہ پینے کا پانی سربراہ کرنے کے لئے پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا اور اس پراجکٹ پر کانگریس حکومت نے دس ہزار کروڑ روپئے بھی خرچ کئے۔ انھوں نے کہا کہ گجویل اور سدی پیٹ اسمبلی حلقہ جات کے تالابوں اور جھیلوں میں پانی پہنچانے کے لئے ضلع رنگاریڈی کو پانی سے محروم کیا جا رہا ہے اور پرانہیتا سے 620 کیلو میٹر دور واقع گجویل کو پانی سربراہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور صرف 70 کیلو میٹر دور ضلع رنگاریڈی کو پانی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس اضلاع کی ترقی، فصلوں کی سیرابی اور پینے کا پانی سربراہ کرنے کے لئے تعمیر کئے جاتے ہیں، مگر ٹی آر ایس حکومت عظیم مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے ٹی آر ایس حکومت سے استفسار کیا کہ جب ایک گھر میں چار عہدے ہوسکتے ہیں تو دو ندیوں سے ایک ضلع کو پانی کیوں نہیں سربراہ کیا جاسکتا؟۔ انھوں نے کانگریس کے دس سالہ دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی کو نظرانداز کرنے کے الزام کو مسترد کردیا۔

TOPPOPULARRECENT