Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ہریش راؤ کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی کے طالب علم کی شکایت

ہریش راؤ کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی کے طالب علم کی شکایت

برسرعام جوتے سے مارنے اور گالی گلوج کے ذریعہ درج فہرست طبقات و قبائل کی توہین کا الزام

برسرعام جوتے سے مارنے اور گالی گلوج کے ذریعہ درج فہرست طبقات و قبائل کی توہین کا الزام
حیدرآباد۔21جولائی ( سیاست نیوز) ریاستی تلنگانہ میںتقررات کا مسئلہ طول اختیار کرتا جارہا ہے ۔ بیروزگار نوجوان طبقہ بالخصوص عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ اور کے سی آر حکومت میں ناراضگیاں بڑھتی جارہی ہیں اور آج چارمینار پولیس اسٹیشن میں جے کلیان نائک نے ہریش راؤ کے خلاف شکایت کردی جبکہ ایک دوسرے واقعہ میں ریاستی وزیر آئی ٹی کے تارک راما راؤ کو بھی طلبہ کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ پی ایچ ڈی کے طالب علم لکشمن نائک نے پولیس میں شکایت کرتے ہوئے ہریش راؤ کے خلاف ایس سی ‘ ایس ٹی ہراسانی مقدمہ کے تحت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ لکشمن نائک نے ہریش راؤ پر ہریجن اور پچھڑے ہوئے طبقات کی توہین اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایت کی ۔ لکشمن نائیک نے بتایا کہ سٹی کالج میں ایک پروگرام کے دوران ہریش راؤ نے ان سے نہ صرف بدسلوکی کی بلکہ گالی گلوج کیا بلکہ غیر انسانی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے انہیں جوتوں سے مارا اور برسرعام ہجوم میں گالی گلوج کی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں ‘ ان کا کہنا ہے کہ ایک عرصہ سے ملازمتوں کی آس میں وہ نئی حکومت سے کئی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے ‘تاہم کے چندر شیکھر راؤ حکومت نے ان کی امیدوں پر پانی پھیردیا ۔ یاد رہے کہ تلنگانہ تحریک میں طلبہ نے ایک اہم رول ادا کیا اور ہر مرتبہ جب جب تحریک نے زور پکڑا ‘ اس وقت طلبہ بالخصوص عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس اورتاریخی آرٹس کالج کی عمارت ہی ان کیلئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوئی اور اب طلبہ اور بیروزگار نوجوان ایسا لگتا ہے کہ اپنے مطالبات کیلئے ایک اور تحریک کی تیاری میں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT